کرناٹک اسمبلی انتخاب میں کانگریس نے زبردست جیت حاصل کی ہے- کانگریس نے 136 سیٹیں جیت کر بی جے پی کو اکھاڑ پھینکنا ہے- اس تاریخی جیت پر کانگریس کارکنوں کا جوش و خروش عروج پر ہے- کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی نمایاں کارکردگی کے بعد پارٹی لیڈران و وہاں کی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے- جیسے جیسے نتائج کا اعلان ہوتے گیا پارٹی لیڈران و عوام اپنی خوشی کا اظہار کرنے لگے۔
یہ جیت کرناٹک کے غیور عوام کی جیت ہے، یہ جیت نفرت پر محبت کی ہے، یہ جیت فرقہ پرست طاقتوں کے مظالم کے خاتمے کی ہے، یہ جیت کرناٹک کے 88 فیصد مسلمانوں کی جیت ہے- جنہوں نے جمہوریت، بھائی چارگی، محبت اور گنگا جمنی تہذیب کی بقاء کو سنجونے، مذہبی بالادستی کا خاتمہ کرنے والی پارٹی کو کھلی طور پر ووٹ کیا ہے اور فرقہ واریت کا بیج بونے والی سیاسی پارٹی کو اکھاڑ پھینکنا ہے- یہ ان تمام ہندوستانی عوام کی جیت ہے جو گزشتہ کئی دنوں سے منفی اور مایوس کن خبروں کی سرخیاں پڑھتے تھے اور افسوس و غم میں ڈوب جاتے تھے- یہ جیت مثبت اور امید افزا کی ایک سنہری کرن ہے- یہ جیت دشمنوں اور ظالموں کے چوطرفہ محاصرے کے باوجود ہمت نہ ہارنے والوں اور جدوجہد پر یقین رکھنے والوں کی ہے۔
قارئین: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پارٹی کی کامیابی پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نفرت پر محبت کی جیت قرار دیا- انہوں نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ "کرناٹک میں نفرت کا بازار بند ہوا اور محبت کی دکانیں کھل گئی ہیں۔کرناٹک میں کانگریس کی شاندار جیت پر راہل گاندھی نے ریاستی عوام کے ساتھ ساتھ سبھی پارٹی لیڈران و کارکنان کو مبارکباد پیش کی- انہوں نے کہا کہ "کرناٹک کے انتخاب میں کرونی کیپٹلزم اور غریب عوام کی طاقت کے درمیان مقابلہ تھا- کانگریس کے ساتھ غریب عوام کی طاقت تھی اور اس طاقت نے پاور کو ہرا دیا-” وہ مزید کہتے ہیں کہ”یہی اب ہر ریاست میں دیکھنے کو ملے گا- کانگریس کرناٹک میں عوام کے ساتھ کھڑی ہوئی، غریبوں کے ایشوز پر ہم نے انتخاب لڑے، ہم نے نفرت سے یہ لڑائی نہیں لڑی، محبت سے یہ لڑائی لڑی- کرناٹک کی عوام نے یہ دیکھا کہ محبت اس ملک کو اچھی لگتی ہے۔راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کانگریس کے ذریعے ان پانچ گارنٹی کا بھی تزکرہ کیا جو کہ انتخابی ریلیوں میں بار بار پارٹی لیڈران کے ذریعے دیئے جارہے تھے- انہوں نے کہا کہ "ہم نے پانچ وعدے کیئے تھے، کہا تھا کہ انہیں کابینہ کی پہلی میٹنگ میں پورا کریں گے اور اب پھر کہتا ہوں کہ یہ وعدے پورے کیئے جائیں گے۔
کرناٹک میں کانگریس کی جیت پر پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور عوام کو مبارکباد دی ہے- انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "کانگریس پارٹی کو تاریخی مینڈیٹ دینے کے لئے کرناٹک کی عوام کا تہہ دل سے شکریہ- یہ آپ کے ایشوز کی جیت ہے- یہ کرناٹک کی ترقی کے نظریات کو ترجیح دینے والی جیت ہے- یہ ملک کو جوڑنے والی سیاست کی جیت ہے۔اس ٹوئٹ میں وہ مزید لکھتی ہیں کہ "کانگریس کرناٹک کے تمام محنتی کارکنان و لیڈران کو میری نیک خواہشات، آپ سب کی محنت رنگ لائی، کانگریس پارٹی پوری لگن کے ساتھ کرناٹک کی عوام کو دی گئی گارنٹیوں کو نافز کرنے کا کام کرے گی۔
کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت پر وزیراعظم نریندرمودی نے کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو مبارکباد پیش کی- وزیراعظم نے ایک ٹوئٹ لکھتے ہوئے کہا کہ "کرناٹک اسمبلی انتخابات میں جیت کے لئے کانگریس پارٹی کو مبارکباد دیتا ہوں- لوگوں کی امیدوں کو پورا کرنے کے لئے میری نیک خواہشات- مزید بی جے پی کارکنوں کی بھی تعریف کی- کہا ہم ان تمام کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے کرناٹک الیکشن میں ہماری ہمایت کی، ہم آنے والے وقت میں مزید جوش کے ساتھ کرناٹک کی خدمت کریں گے-”
کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے واضح اکثریت حاصل کی ہے- اس کے بارے میں مغربی بنگال کی وزیراعلی اور ٹی ایم سی صدر ممتا بنرجی نے کہا کہ میں کرناٹک کے تمام عوام اور ووٹروں کو سلام کرتی ہوں- کانگریس کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے بی جے پی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ یہ بی جے پی کے لئے 2024 کے اختتام کی شروعات ہے- لوگوں نے تکبر، بدسلوکی، ایجنسی کی سیاست کے خلاف بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا- اب چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں الیکشن ہے یہاں بھی بی جے پی کو شکست ہوگی-نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کے پاس کرناٹک میں اپنی کارکردگی کے بعد اب جموں وکشمیر میں بھی اسمبلی انتخابات میں کسی پارٹی سے اتحاد کی ہمت ہی نہیں ہوگی- کرناٹک اسمبلی انتخابات اور کانگریس کی فتح اور بی جے پی کی شکست پر سنجے راوت نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بجرنگ بلی کا گدا صرف بی جے پی پر گرا- کرناٹک کی عوام نے بی جے پی کو باہر نکال پھینکا ہے- وزیراعظم مودی اور امت شاہ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں ذاتی طور پر مہم چلائی، ان دونوں لیڈروں نے کرناٹک میں روڈ شو اور عوامی میٹنگیں کیں- تاہم اسٹار پرچارک اور تمام انتظامات کو داؤں پر لگانے کے باوجود بی جے پی کو کرناٹک میں بری طرح شکست کی مارکھانی پڑی-
قارئین: بی جے پی نے کرناٹک میں شکست قبول کر لی ہے اور وزیراعلی بسوراج بومئی نے کیمرے پر آکر صاف کہا کہ وزیراعظم مودی اور بی جے پی کارکنوں کی تمام کوششوں کے باوجود ہم جیت نہیں سکے- تمام نتائج سامنے آنے کے بعد ہم اس کا تفصیلی تجزیہ کریں گے- ہم نتائج کو خوش اسلوبی کے ساتھ قبول کریں گے اور لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہو جائیں گے- بومنی کے اس بیان میں کچھ اہم حقائق بھی شامل ہیں- ایک طرح سے کرناٹک انتخاب میں مہم کی کشش وزیراعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کی ریلیاں تھیں- بی جے پی کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پارٹی نے کرناٹک میں کل 9125 ریلیاں اور 1377 روڈ شو منعقد کیے- انتخابی مہم کے آخری دو ہفتوں کے دوران وزیراعظم مودی نے 42 ریلیاں کیں، جبکہ شاہ بھی پیچھے نہیں رہے انہوں نے 30 ریلیوں میں حصہ لیا-کرناٹک کے وزیر تعلیم اور بی جے پی لیڈر بی سی ناگیش جنہوں نے کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی نافز کیا تھا اور ریاست میں مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ پر زور دیا تھا، ٹپٹور حلقہ سے الیکشن ہار گئے ہیں- ناگیش ہندوتوا پارٹی کے ان کئی سینیئر لیڈروں میں شامل ہیں جو الیکشن ہار گئے ہیں- ٹپٹور حلقہ میں یہ مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان بی جے پی سے ناگیش اور کانگریس سے کے شادکشری میں تھے- بی جے پی امیدوار ناگیش نے 2008 اور 2018 میں اس حلقے سے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ کانگریس سے شادکشری 2013 میں اس حلقہ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے- ناگیش کو 2021 میں وزیر کے طور پر شامل کیا گیا تھا- جب بسوراج بومنی نے چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالا تھا- ریاست میں ہندوتوا شخصیات کے ذریعے "حجاب پر پابندی کے پیچھے کا آدمی” کے طور پر ان کی تعریف کی گئی- ان پر کرناٹک میں مسلم اقلیتوں کے خلاف نفرت اور نسل کشی پر مبنی تقریر کا بھی الزام ہے-
بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی نے کہاتھا کہ حلال گوشت معیشت کا حصہ ہے۔ یہ مسلمانوں کی طرف سے جہاد ہے- حجاب تنازعہ پر کہا تھا کہ حجاب کے ساتھ یہاں آنے سے پہلے بھارت موجود تھا۔ ہم جہادیوں کو ان کے مشن میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔آج اسی کا منہ توڑ جواب کرناٹک کی عوام نے کرناٹک اسمبلی انتخاب میں سی ٹی روی کو دیا- وہ چکمنگلور سے کانگریس امیدوار ایچ ڈی تھمایا سے ہار گئے۔ کانگریس نے چکمنگلور میں تمام 5 سیٹیں جیت کر کلین سویپ کیا-کرناٹک میں بی جے پی نے الیکشن جیتنے کے تمام حربے اور ہتھکنڈے اپنائے لیکن ناکامی ہاتھ لگی- جب کانگریس نے اپنے مینی فیسٹو میں بجرنگ دل پر پابندی لگانے کی بات کی- اس کو بی جے پی نے بجرنگ بلی سے جوڑ دیا- وزیراعظم نریندرمودی اپنے جلسوں کی شروعات ہی بجرنگ بلی کے نعروں سے کرتے تھے- وزیرداخلہ امت شاہ نے بی جے پی کی شکست اور کانگریس کی کامیابی کے صورت میں فرقہ وارانہ فسادات تک کی دھمکی دے دی تھی-
قارئین: کرناٹک میں کانگریس کی جیت اور فرقہ پرستوں کی ہار ہوئی، فرقہ پرستوں کا ٹولہ ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا- ملک کے وزیراعظم نے تو پورا کام کاج چھوڑ کر کرناٹک میں براجمان ہو گئے تھے- امت شاہ غرور و تکبر سے بار بار یہ باور کرا رہے تھے کہ جیت تو ان کی ہی ہوگی مگر عوام نے اپنے ووٹوں کے ذریعے ایسا سبق سکھایا کہ بی جے پی کرناٹک میں چارو خانے چت ہو گئی اور کانگریس جیت گئی- واضح رہے کہ کرناٹک جنوبی ہند کی وہ واحد ریاست ہے جہاں بی جے پی نے دو مرتبہ بیساکھی لیکر حکومت تو بنائی لیکن اپنے بل بوتے پر کبھی حکومت نہیں بنا سکی- پہلی حکومت بی جے پی نے جنتا دل کے ساتھ مل کر بنائی تھی- دوسری حکومت ممبرانِ اسمبلی کو جوڑ توڑ کر بنائی تھی- 2018 میں بی جے پی کو اکثریت نہیں ملی تھی، یدی یورپا چند دنوں کے لئے وزیراعلی بنے تھے پھر ان کی حکومت گر گئی اور پھر ایچ ڈی کمارا سوامی نے کانگریس کی مدد سے حکومت بنائی- پہلے یدی یورپا پھر بومئی وزیراعلی بنے- یہ حکومت ہر محاز پر ناکام ہوئی اور حکومت پر کرپشن اور نااہلی کے بے شمار الزامات لگے ہیں- راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے ملک کی سیاست کا رخ تبدیل کر دیا ہے کرناٹک اسمبلی انتخاب اس کا ایک کلی ثبوت ہے- دہلی کے جھوٹ اور 40 فیصد کی لوٹ والی بد عنوان ڈبل انجن کو شکست دے کر کرناٹک کی عوام نے فرقہ پرستی اور آمریت کو مسترد کر دیا ہے- سب کو ساتھ لے کر چلنے اور جمہوریت پر یقین رکھنے والی کانگریس پارٹی کو اکثریت کے ساتھ کامیاب کیا ہے- آنے والے پارلیمانی و اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی کا صفایا ہوگا۔کانگریس پارٹی نے مہنگائی، بے روزگاری، بد عنوانی جیسے مسائل پر الیکشن لڑا جو لوگوں کے لئے اہم موضوعات تھے- جبکہ اس کے برخلاف بی جے پی نے ہمیشہ کی طرح مذہبی پولرائزیش پر انحصار کیا- ایک جانب منی پور جل رہا تھا اور دوسری جانب وزیراعظم مودی کرناٹک میں انتخابی مہم چلا رہے تھے- جس میں وہ مذہبی پولرائزیش پر اپنی روٹی سینکنے کی کوشش کر رہے تھے- لیکن کرناٹک کی عوام نے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔یہ جیت انصاف کی جیت ہے، یہ جیت ان سارے مظلوموں کی جیت ہے جنہیں بلاوجہ ستایا گیا مارا گیا، یہ ان مظلوم خواتین کی جیت ہے جن پر حجاب کی پابندی لگائی گئی، جنہیں اسکول اور کالجوں میں بے پردہ کیا گیا، حجاب اتروایا گیا اور انہیں حجاب کے ساتھ داخل ہونے سے روکا گیا اور اس کو الیکٹرانک میڈیا پر خوب ہائی لائٹ کیا گیا- ان سارے مظلوموں نے فرقہ پرستوں کو سبق سکھایا ہے- کرناٹک میں بی جے پی نے پوری سنجیدگی کے ساتھ الیکشن لڑا تھا، اپنا تن من دھن سب کچھ لگا دیا تھا لیکن عوام نے ان کی چکنی چپڑی باتوں پر کان نہ دھرا، عوام سمجھ گئی ہے کہ بی جے پی انسانیت کی فلاح و بہبودی کا کوئی کام نہ کر کے صرف نفرت کی سیاست کرتی ہے۔












