امریکہ کی ایک قدیم اور مشہور عالمی یونیورسٹی ہارورڈ کے طلباء اور طالبات نے غزّہ میں مارے جانے والے افراد کے حق میں آواز اٹھائی تو اُنھیں امریکہ میں زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا،لیکن اُنھوں نے انسانیت کی حمایت میں اور ظلم کے خلاف اپنی آواز اٹھائی اور اپنے شاندار کیریئر کی بھی پروا نہیں کی،ہارورڈ یونیورسٹی میں طلباء اور طالبات نے غزہ میں اب تک مارے جانے والے10ہزار سے زائد افراد کے نام اُنھوں نے اپنے ہاتھوں سے لکھے ہیں،ایک لمبے کپڑے پر سارے نام لکھے گئے ہیں،جیسے جیسے نام بڑھتے جاتے ہیں کپڑے کی لمبائی بڑھتی جاتی ہے،اِس کام میں بعض طلباء اور طالبات لگے ہوئے ہیں،وہ یہ کام باری باری کرتے ہیں اور بغیر کسی ذاتی فائدے کے کر رہے ہیں،یہی نہیں بلکہ اُن افراد کے نام بھی وہ تیز آواز سے پڑھتے ہیں،اُن کے ذریعے صرف یہ نام ہی لکھنا نہیں ہے،بلکہ اپنے دِلوں میں اُس ناانصافی اور ظلم کو بھی درج کرانا ہے جو ناانصافی اور ظلم اسرائیل کئی دنوں سے غزّہ کے مسلمانوں پر کر رہا ہے،اُس لسٹ میں اُن چار ہزار سے زائد بچوں کے بھی نام شامل ہیں جو غزہ میں مارے گئے ہیں،خبر کے مطابق ایک طالبہ اُن بچوں کے نام پڑھ رہی تھی تو ایک بچے کا نام آنے پر وہ رونے لگی،جس پر ویڈیو بنانے والے کا ہاتھ بھی کانپ گیا،غزہ کے مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کے درد کو ہر وہ انسان محسوس کر رہا ہے جس کے اندر انسانیت ہے،ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء اور طالبات نے انسانیت کی ایک اچھی مثال پیش کی.












