ایران:ایرانی فوج کے سربراہ محمد باقری نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل اور اس کی اتحادی بڑی قوتوں جن میں امریکا بھی شامل ہے، کی دھمکیوں کا جواب دیتا رہے گا۔
جمعے کے روز بیجنگ سے جاری بیان میں باقری کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں مچی افراتفری اور امن و امن کی مخدوش صورت حال ان کے ملک پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنی سیکورٹی صلاحیتوں میں اضافہ کرے۔
بیروت میں ایئرپورٹ روڈ پر اسماعیل ہنیہ، حزب اللہ کے رہنما فواد شکر اور قاسم سلیمانی کی تصویر (آرکائیو – ایجنسی فرانس پریس)
بیروت میں ایئرپورٹ روڈ پر اسماعیل ہنیہ، حزب اللہ کے رہنما فواد شکر اور قاسم سلیمانی کی تصویر (آرکائیو – ایجنسی فرانس پریس)
یاد رہے کہ باقری نے گذشتہ ماہ اگست کے اواخر میں باور کرایا تھا کہ "حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے خون کا بدلہ یقینی امر ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے انتقام کے لیے ‘مزاحمتی محور’ (ایران نواز ملیشیائیں) انفرادی اور آزاد حیثیت سے حرکت میں آئے گا۔
ایران کے کئی فوجی عہدے داران گذشتہ ہفتوں کے دوران میں یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ ان کے ملک کا رد عمل طوالت اختیار کر سکتا ہے۔
رواں سال 31 جولائی کو حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت کے فورا بعد ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک اپنی سرزمین پر قتل کیے جانے والے مہمان کا خود انتقام لے گا اور یہ انتقام درد ناک ہو گا۔












