(پریس ریلیز،بھاگل پور)انجمن باغ و بہار،برہ پورہ،بھاگل پورکے زیر اہتمام جوثر ایاغ کی صدارت میںبیخود دہلوی کے یوم پیدائش پر ایک ادبی نشست منعقد کی گئی۔اس موقع پر انجمن کے جنرل سکر یٹری ڈاکٹر محمد پرویز نے کہا کہ بیخود دہلوی ایک اْستاد شاعر کے علاوہ ایک عمدہ نثر نگار اور غالب شناس تھے۔وہ داغؔ دہلوی اسکول کے سب سے بڑے شاعر تھے۔انہیں زبان و بیان پر قدرت حاصل تھی،انکی زبان دلی کی ٹکسالی زبان تھی،وہ الفاظ کے زبردشت پارکھی تھے۔ انہیں داغ دہلوی کا جانشین بھی کہا جاتا ہے۔ انکا اصل نام سید وحید الدین احمد تھا اور قلمی نام بیخود ہلوی۔21مارچ 1858ء کو بھرت پور،راجستھان میں پیدا ہوئے اور وفات 2اکتوبر1955ء کو دلی میں۔والد کا نام شمس الدین احمد تھا۔انکے دادا شاعرتھے اور مرزا غالب کے شاگرد تھے۔شاعری انہیں وراثت میں ملی تھی ،14سال کی عمر میں انہوں نے شاعر ی شروع کی۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے جبکہ انہوں نے مخمس ،رباعی،قطعہ،سہرہ،قصیدہ وغیرہ بھی کہا ہے۔ انہوں نے ناول ننگ و ناموس کے نام سے لکھا جو بہت مشہور ہوا۔اس ناول کا موضوع پردوں کی خوبیوں اور بے پردگی کی خرابیوں سے متعلق ہے جو تیرہ ابواب پر ہے۔ہر باب کا عنوان بھی الگ الگ ہے،ناول میںہیرو ابولحامد اور ناول کی ہیروین حسینہ بیگم ہے۔انکی تصانیف میں گفتار بیخود،درشہوار بیخود،مرآۃالغالب،ننگ و ناموس،نیا کلام وغیرہ ہیں۔نشست میں شامل محمد تاج الدین،محمد بلال الدین،ڈاکٹر عمارہ خاتون شامل تھے۔












