نئی دہلی، اب دہلی میں تعمیراتی کارکنوں کے علاوہ الیکٹریشن، پلمبر اور کارپینٹر سمیت دیگر مزدوروں کو بھی جلد ہی دہلی سرکار مفت بس پاس دینے جارہی ہے ۔ دہلی حکومت صرف تعمیراتی مزدوروں کیلئے جاری مفت بس پاس اسکیم کے دائرہ کار کو بڑھا رہی ہے۔یہ سہولت صرف ان لوگوں کو ملے گی جنہوں نے خود کو دہلی حکومت میں رجسٹر کرایا ہے۔ سینئر حکام کے مطابق محکمہ محنت رجسٹرڈ ورکرز کی تصدیق، رجسٹر، درخواست اور مفت پاسز کے اجراء کیلئے ایک آن لائن پورٹل بھی تیار کر رہا ہے جو کہ اگلے ایک ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔ ایک سینئر اہلکار کے مطابق پورٹل پر کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور جلد ہی اس پر عمل شروع ہو جائے گا۔رجسٹریشن کے بعد فوائد ملیں گے۔پچھلی مفت بس پاس اسکیم میں صرف ایک طبقہ جو تعمیرات سے وابستہ مزدور تھا، اس سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ لہٰذا، حکومت نے اس سہولت کو تمام رجسٹرڈ کارکنوں کیلئے قابل رسائی بنانے کیلئے توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کا اندازہ ہے کہ مزدوروں کیلئے مفت بس پاس اسکیم پر تین ماہ کیلئے 228 سے 285 کروڑ روپے لاگت آئے گی، کیونکہ دہلی میں 13 لاکھ سے زیادہ کارکن رجسٹرڈ ہیں۔ لیبر ڈپارٹمنٹ دہلی کے تعمیراتی مزدوروں کو فلاحی اسکیموں کی معلومات اور فوائد پہنچانے کیلئے ایک تصدیقی اور بیداری مہم چلائے گا۔1500 نئی الیکٹرک بسیں آئیں گی۔ڈی ٹی سی کے بیڑے میں اس سال نومبر تک 1500 الیکٹرک بسیں ہوں گی۔ ڈی ٹی سی یہ بسیں چار سے پانچ مرحلوں میں حاصل کرے گی۔ پہلے بیڑے کی 100 بسوں میں سے 36 دہلی پہنچ چکی ہیں۔ جولائی تک ان کی تعداد 350 ہو جائے گی۔ دہلی میں اس وقت 4010 بسیں ہیں جن میں سے 250 الیکٹرک ہیں۔ اس سال کے آخر تک 670 ڈی ٹی سی بسوں کو سڑکوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ یہ وہ بسیں ہیں جنہوں نے اپنی عمر پوری کر لی ہے۔ ساتھ ہی نومبر تک 1500 الیکٹرک بسوں کو بھی ڈی ٹی سی ملنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد بسوں کی کل تعداد 4840 ہو جائے گی۔ اس میں 1750 الیکٹرک بسیں ہوں گی۔ڈی ٹی سی کی منیجنگ ڈائریکٹر شلپا شندے نے کہا کہ ہمارے پاس الیکٹرک بسیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ 36 بسیں دہلی پہنچ چکی ہیں، باقی بسیں اگلے ایک یا دو دنوں میں پہنچ جائیں گی۔ ان بسوں کو مایا پوری ڈپو میں رکھا جائے گا۔ انہیں اس ماہ کے آخر تک سڑک پر لایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی الیکٹرک بسوں کی پارکنگ اور چارجنگ کیلئے 12 ڈپووں میں چارجنگ اسٹیشن بنائے جا رہے ہیں۔












