ممبئی( پریس ریلیز)آل انڈیا علما بورڈ نے جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پچھلے25 برسوں سے سنگھ پریوار’’ یو نیفارم سول کوڈ‘‘ کے نفاذ کیلئے بیان بازی کرتا رہا ہے، اور مرکز میں نریندر مودی کی بی جے پی سرکار کے قیام کے بعد سے اس میں مزید شدت آگئی ہے،بورڈ نے کہاکہ بی جے پی ایجنڈے میں رام مندر تعمیر کے علاوہ کشمیر سے آرٹیکل370 کا خاتمہ اور یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ شامل ہے، یہ بات بالکل صحیح ہے کہ کامن سول کوڈ پر اعتراض صرف مسلمان کو ہی نہیں بلکہ دیگر اقلیتوں کے علاوہ ہندوؤں کے بڑے طبقے کو بھی ہوگاکیونکہ اس کہ کئی شقیں کسی صورت میں قابل قبول نظر نہیں آتیں، واضح رہے کہ9 دسمبر کو راجیہ سبھا میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ کروڑی مل مینا کے ذریعے پرائیویٹ بل’’ کامن سول کوڈ‘‘ پیش کیاگیا ہے جسے آنا فانا میں23 کے مقابلے63 ووٹوں سے پاس بھی کرلیاگیا ہے، اور اس سلسلے میں نیشنل انسپکسن اینڈ انویشٹیگیشن کمیٹی کی تشکیل دینے کی درخواست کی گئی ہے اور کہا ہے کہ اس بل کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے،علما بورڈ کے جنرل سیکریٹری علامہ بنئی نعیم حسنی نے کہاکہ ملک کی حکمراں جماعت ہر معاملے کو ہندو مخالف مسلمانوں کے زاویہ سے عوام اور میڈیا کے سامنے لانا چاہتی ہے جس کےہم آسانی سے آلہ کار بن جاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی معاملے پر بلا سوچے سمجھے یا بغیر منصوبہ بندی کے ہم اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں اور پریس ریلیز اور ویڈیو جاری کرنے میں ایک ہوڑ سی لگ جاتی ہے،جس کے سبب گودی میڈیا اور شر پسند تنظیمیں ہمیں ہندو مخالف اور ملک مفاد کے خلاف سمجھنے لگتے ہیں جس سے ہمارا نقصان ہوتا رہا ہے، اور مسلم مخالف طاقتیں اپنے ناپاک مقاصدمیں کامیاب ہو جاتے ہیں، بورڈ کے قومی ترجمان اور ماہر تعلیم سلیم الوارے نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ بات بالکل سچ ہے کہ کامن سول کوڈ پر اعتراض مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ دیگر اقلیتوں کے علاوہ ہندوؤں کے بہت سے پنتھ کو بھی ہے جس میں جنوبی ہند کے لنگائت سماج بھی اس کے خلاف ہیں،علما بورڈ کے نائب صدر مولانا نوشاد احمد صدیقی نے کہاکہ ہمیں اس ضمن میں عوامی بیداری پیدا کرنی چاہئے اور مسئلے کوسنجیدگی سے حل کرنے کیلئے ایک ٹھوس لائحہ عمل کےذریعے کام کرناچاہئے،بورڈ نےمسلمانان ہند خصوصاً مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں سے مخلصانہ اپیل کی ہے کہ اس معاملہ میں خدارا قطعی بیان بازی نہ کریں اور نہ ہی ویڈیو جاری کریں بلکہ دیگر اقلیتی سربراہان اور سنجیدہ برادران وطن کو ساتھ لےکر حکومت کے ساتھ بات چیت کریں. ہمارا مقصد مسئلے کا سنجیدہ حل ہوناچاہئے،کسی قیادت کو اجاگر کرنا ہر گز نہیں ہونا چاہئےہمیں اس مسئلے کیلئے عوامی بیداری، سیمینار، سمپوزیم کا انعقاد کرنا چاہئے ساتھ اپنی بات حکومت تک پہنچانے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔












