نئی دہلی19اکتوبر : مملکت سعودی عربیہ اور ہندوستان کے درمیان علمی وثقافتی تعلقات اب نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہیں، دونوں ممالک نے گزشتہ برسوں میں جہاں متعدد سیکٹرز میں مختلف تجارتی ودفاعی مفاہمت کیے ہیں وہیں دوسری طرف علمی ، لسانی اور ثقافی روابط کو نئی بلندیوں سے روشناس کرانے کے لیے کئی مستحکم جہات پر کام کرنا شروع کیا ہے اور اس حوالے سے عربی زبان وادب اور ثقافتی سطح پر باہمی اشتراک کوبروئے کار لانے میں ملک سلمان انٹرنیشنل اکیڈمی برائے عربی زبان اہم کردار ادا کررہا ہے ،ان خیالات کا اظہار شعبۂ عربی دہلی یونی ورسٹی کے دورہ کے دوران ملک سلمان انٹرنیشنل اکیڈمی برائے عربی زبان کے لسانی منصوبہ بندی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حمد عبد العزیز الحمود نے کیا۔واضح ر ہے کہ مذکورہ اکیڈمی کی تاسیس علاقائی اور عالمی سطح پر عربی زبان کے کردار کو بڑھانے ،اس کی قدر کو اجاگر کرنے اور عرب اور اسلامی ثقافت کی لسانی خد وخال کو پیش کرنے کے لیے کی گئی ہے ۔اس مختصر دورہ کے دوران شعبہ عربی دہلی یونی ورسٹی کے صدرپروفیسر سید حسنین اختر نے ڈاکٹر حمدالحمود کے ساتھ شعبہ عربی دہلی یونی ورسٹی کے اکیڈمی اور ثقافتی سرگرمیوں کا اجمالی تعارف شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا شعبہ ہندوستان کی اس عظیم یونیورسٹی کا سب سے قدیم اور نہایت متحرک شعبہ ہے جہاں عربی زبان وادب کی تعلیم وتدریس کے لیے مختلف کور سز کرائے جاتے ہیں اور عربی زبان کے مختلف موضوعات پر ریسرچ کے اعلی معیار کوبرتنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔انھوں نے مہمان مکرم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ملک سلمان انٹرنیشنل اکیڈمی برائے عربی زبان اور شعبہ عربی دہلی یونی ورسٹی کے مابین تعلیمی اور ریسرچ کی سطح پر مشترک پروجیکٹ شروع کرنے کی سفارش کی۔ دورہ کے دوران شعبہ کے اساتذہ پروفیسر نعیم الحسن سابق صدر شعبہ عربی دہلی یونی ورسٹی، ڈاکٹر مجیب اختر، ڈاکٹر محمد اکرم، ڈاکٹر اصغر محمود، عبد القیوم، ڈاکٹر ظفیر الدین کے ساتھ ڈاکٹر آصف اقبال، ڈاکٹر ابو تراب اور محمد اسامہ گیسٹ اساتذہ کے علاوہ شعبہ کے ریسرچ اسکالرز اور طلبا موجود رہے ۔












