• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
پیر, مارچ 23, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

کہیں تم فرعون تو نہیں ؟

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جون 7, 2023
0 0
A A
کہیں تم فرعون تو نہیں ؟
Share on FacebookShare on Twitter
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
کچھ واقعات و حادثات جگر کو چھلنی کر دیتے ہیں ۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا ہم انسانوں کے معاشرے میں رہتے ہیں ۔۔کیونکہ ہماری حالت اور ایک دوسرے سے متعلق ہمارا سلوک درندوں جیسا ہے۔ہماری نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے جنہوں نے اپنے مخالفین کے لئے بھی کردار رحمت پیش کیا ۔یہاں خود کو اسلام کے متبعین کہلانے والے شریعت کی ان مبارک تعلیمات کو تار تار کر رہے ہیں ۔کردار و گفتار فرعون جیسا اور دعوے فرشتوں جیسے۔مساجد میں بندہ مومن اپنے وجود کو رب العالمین کے سامنے جھکا کر اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ میں خالی ہاتھ ہوں ،زمین پر گر چکا ہوں ،بے بس اور فقیر ہوں لیکن زمینی حقائق سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اب نفرتوں کے بازار مساجد میں بھی سجائے جاتے ہیں ،دلوں کا حسد ،ایک دوسرے کی عداوت دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور نام لیتے ہیں سیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ہم اس قدر سنگدل بن چکے ہیں کہ دوسری کی تڑپ دیکھ کر ،دوسرے کی تباہی و بربادی دیکھ کر ،کسی کا آشیانہ جلتا دیکھ کر ہمیں سکون ملتا ہے ۔جب کوئی مدد کے لئے پکارتا ہے تو ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے بلکہ اپنی عیاشیوں اور خرافات میں ڈوبے رہتے ہیں ۔گھریلو سطح کی بات کی جائے تو گھر میں بزرگ والدین اس معاشرے کے سب سے ضعیف اور مظلوم افراد ہیں ۔۔ان پر ظلم و جبر کی داستانیں رقم کرنے والے غیر نہیں بلکہ ان کا اپنا خون ،ان کے اپنے اولاد ہیں ۔سماجی سطح پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت ہم پر عیاں ہوتی ہے کہ یہ معاشرہ مجبوریوں کا فائدہ اٹھانا جانتا ہے ،حالات کے مارے ہوئے لوگ یہاں کھلونوں کی طرح استعمال کئے جاتے ہیں ،ان کا استحصال اعلی سطح پر کیا جاتا ہے ۔ایک وقت تھا کہ کسی کا درد ،کسی کی تکلیف ،کسی کے مسائل دور کرنے کے لئے اور ان کو حل کرنے کے لئے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے اور سہارا بن کر کھڑے رہتے تھے ،گھر میں پڑی جوان بیٹی کا نکاح کرانے کے لئے پورا گاؤں اور پوری سوسائٹی پہل کرتی اور یہ فریضہ انجام دیتے ،کسی گھر کی حالت زار دیکھ کر خفیہ طریقے سے اس کے بچوں کے کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا تھا ،لوگوں کی خوشی میں خوش ہوکر اور لوگوں کی تکالیف میں درد محسوس کرکے ایک دوسرے کا ساتھ دیا جاتا تھا ۔کوئی بیمار ہوتا تو پورا محلہ تیمارداری کرنے کے لئے آتا ،علاج و معالجہ کے لئے پیسے دئے جاتے ،فخر سے ایک دوسرے کے معاملات میں بہتری کے لئے آگے آکر پہل کی جاتی تھی۔کوئی مقروض ہوتا تو زمہ داران اپنے کندھوں پر بوجھ اٹھا کر قرض کی ادائیگی کیا کرتے تھے لیکن حالات بدل گئے ،لوگوں کے احوال بدل گئے ،سوچنے کا ڈھنگ تبدیل ہوگیا ،مادہ پرستی نے اپنا جھال بچھا دیا ،لوگ حیوانیت کی حد پار کرگئے ۔کس کی نظر لگ گئی اس مہکتے ہوئے چمن کو؟ کس نے اس گلشن کے پھولوں کو پیروں تلے روند ڈالا؟ ہاے حسرت۔۔۔۔۔۔! زمینی حالات پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اہل ثروت خود کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں ،کسی کے آنسوؤں دیکھ کر دل کی سختی دور نہیں ہوتی بلکہ مزہ لئے جاتے ہیں ،لطیفے سنائے جاتے ہیں ۔کوئی بھوکا مرجائے کوئی پوچھنے والا نہیں ،کسی کی عزت نیلام ہورہی ہو تو دفاع کرنے کے بجائے افواہ بازی کی فضاء گرم کی جاتی ہے ۔یہاں رشتوں کی پہچان نہیں ،آنکھوں میں حیا نہیں ،دلوں میں درد نہیں ۔۔۔۔یہ معاشرہ ریاست مدینہ کی نہیں بلکہ فرعونیت کی عکاسی کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے ۔اقبال نے اس معاشرے کی ترجمانی کچھ یوں فرمائی ہے ۔۔۔
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
راقم یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہے کہ شریعت کے دعوے دار حقوق العباد کی معرفت حاصل کریں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سماج میں پنپتے ہوئے انہیں چیزوں کا خاتمہ کیا تھا ۔انصار صحابہ کی قربانیاں کسے یاد نہیں ،تاریخ کا یہ سنہرا باب آج بھی فخر سے بیان کیا جاتا ہے ۔لیکن کیا ہمارا کردار انصار مدینہ کی ترجمانی کرسکتا ہے ؟ بلکل بھی نہیں ۔تاریخ اسلام کے یہ مبارک اوراق مزے اٹھانے کے لئے نہیں پڑھے جاتے بلکہ اپنی تربیت کے لئے زیر مطالعہ لائے جاتے ہیں ۔غزوات و سرایا میں شرکت ،اپنے جان و مال کی قربانی ،اپنے نفوس پر دوسروں کو ترجیح دینا انصار صحابہ کا کردار مبین تھا ۔امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی الصحیح کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ ،”الْمُسْلِمُ أَخُوْ الْمُسلِمِ، لَا یَظْلِمُہٗ وَلَا یَخْذُلُہٗ، وَلَا یَحْقِرُہٗ۔ اَلتَّقْوٰی ھَاہُنَا وَیُشِیْرُ إِلٰی صَدْرِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ  بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ یَّحْقِرَ أَخَاہُ  الْمُسلِمَ، کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُہٗ، وَمَالُہٗ، وَعِرْضُہٗ”. ترجمہ ،”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اُس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ اُسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اُسے حقیر جانتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے قلب مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار یہ الفاظ فرمائے: تقویٰ کی جگہ یہ ہے۔ کسی شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان پر دُوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔”(صحیح مسلم ،جلد 2) حجتہ الوداع کے موقع پر بھی امام الانبیاء نے ملت اسلامیہ کے سامنے یہی وصایا رکھی تھیں۔اسلام کی مبارک تعلیمات اتحاد و اتفاق کا درس دیتی ہیں ،صفوں کو جوڑنے کی بات کرتا ہے ،غلاموں پر شفقت کا درس دیتا ہے ۔یہاں راقم یہ بات قاری کے ذہن میں ڈالنا چاہتا ہے کہ عزیز دوست۔۔۔۔! ہر عروج کے پیچھے زوال ہوتا ہے لہزا اپنی حدود میں رہیں ،اللہ کی مخلوق پر رحم کریں ،آسمان والا آپ پر رحم کرے گا۔امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی الجامع الصحیح کے اندر یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،”مثل المؤمنین فی توادھم و تراحمہم و تعاطفہم کمثل الجسد إذا اشتکی عضوا تداعی لہٗ سائر جسدہٖ بالسہر والحمٰی”. ترجمہ ،”ایمان والوں کی آپس کی محبت، رحم دلی اور شفقت کی مثال ایک انسانی جسم جیسی ہے کہ اگر جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے تو (وہ تکلیف صرف اُسی حصہ میں منحصر نہیں رہتی، بلکہ اُس سے) پورا جسم متأثر ہوتا ہے، پورا جسم جاگتا ہے اور بخار و بے خوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے”.(صحیح بخاری ،ح 6036)
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
بعض زخموں سے چور افراد تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنا درد کسی کے سامنے بیان نہیں کر پاتے ۔آپ اپنی زندگی میں مشغول ہیں ،آپ کو ہر نعمت سے نوازا گیا ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر ایک کا یہی معاملہ ہے۔کتنے ہی لوگ غلط راہوں پر چل پڑے ؟ وجہ بس یہ تھی کہ ہم نے ان کے دکھ کا ادراک نہیں کیا۔ہمارے وقت کا بیشتر حصہ فضول کاموں میں صرف ہوتا ہے لیکن کسی کی بات سننے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ،کسی کے حالات جاننے کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں ۔۔اس معاشرے کی تباہی کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں تڑپتی ماؤں کے دل زخمی ہے ،ان کی بد دعائیں ہم پر مسلط ہوگئی ہیں۔کیا ہم نے کبھی سوچا معاشرے میں جرائم کی شرح کیوں بڑ رہی ہے ؟ ہمیں صرف تبصرہ کرنا آتا ہے جبکہ ہمیں طبیب کا کام انجام دینا تھا ۔ہم تو مصلح بنائے گئے تھے پر ہاے حسرت ۔۔۔۔۔۔۔!ہم ہی مفسد بن گئے ۔اگر درد کی زبان ہوتی ،اگر جذبات کی لسان ہوتی ،اگر احساسات کی ترجمانی ہوتی ۔۔۔۔۔شاید ہمارے کلیجے پھٹ جاتے ۔صحیح مسلم کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،”لن تدخلوا الجنۃ حتی تؤمنوا ولن تؤمنوا حتی تحابوا أَوَ لا أدلکم علی شئی لو فعلتموہ تحاببتم ، أفشوا السلامَ بینکم”. ترجمہ ،”تم ہرگز جنت میں نہیں جاسکتے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ۔ اور اُس وقت تک تم ایمان والے نہیں بن سکتے، جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اُسے بجالاؤ تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) آپس میں کثرت سے سلام پھیلاؤ۔”(صحیح مسلم ،جلد 1)  یہ جذباتی باتیں نہیں بلکہ شریعت نے ہمیں اس بات کا مکلف ٹھہرایا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے لئے جینا اور مرنا ہے ۔
مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے
خانقاہوں میں کہیں لذت اسرار بھی ہے
منزل رہ رواں دور بھی دشوار بھی ہے
کوئی اس قافلہ میں قافلہ سالار بھی ہے
بڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکۂ دین و وطن
اس زمانے میں کوئی حیدر کرار بھی ہے
عصر حاضر کے مدارس اور خانقاہوں میں مربیین ،اساتذہ اور مشائخ کی زمہ داری ہے کہ اپنے طلباء کے قلب و جوارح کو ملت کے درد سے آراستہ کریں ۔جزبہ ایثار کی روح اپنے تلامذہ میں پھونکے ۔والدین اس بات کے مکلف ہیں کہ روز اول سے ہی اپنی اولاد کو درس انسانیت سے مزین کریں ۔وہ عکرمہ ہی تھا جو یرموک کے کنارے شدت پیاس سے شھید ہوگیا لیکن جذبہ ہمدردی کی ایسی مثال بیان کی کہ پڑھتے ہوئے بھی جسم کانپ اٹھتا ہے ۔یہی ہمارے اسلاف تھے ۔عصر حاضر کا تقاضا ہے کہ ملت کے نوجوانوں کو سیرت النبی و سیرت اسلاف پڑھائی جائے اور سکھائی جائے ۔نفوس قدسیہ کا تعارف کروایا جائے ۔ملت کے خطباء اور ائمہ مساجد روایتی طریقہ سے ہٹ کر مساجد میں دروس قائم کریں اور نوجوان ملت کو اپنی حقیقی وراثت سے متعارف کرائیں ۔حقوق العباد کی مشق عملی زندگی میں کرنی ہے ۔اس کڑی میں ایک عظیم حدیث کا تذکرہ لازمی کرنا ہے جس سے اس امر عظیم کی عظمت ہم پر عیاں ہو جائے گی ۔ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پُرسی نہیں کی۔ وہ کہے گا ‘اے میرے رب میں کیسے آپ کی بیمار پرسی کرتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تُو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی! کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے مجھے نہیں کھلایا! وہ کہے گا: اے میرے رب، میں کیسے آپ کو کھانا کھلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے اسے کھانا نہیں کھلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا! اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تو نے مجھے نہیں پلایا! وہ کہے گا : اے میرے رب میں کیسے آپ کو پلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے پینے کو کچھ مانگا اور تُو نے اسے نہیں پلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا! ".(صحیح مسلم)
ضرورت اس بات کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین کی پاسداری کی جائے ۔جس طرح سیرت طیبہ کی اعلی مثالیں ہم تک پہنچی ہے اسی طرح ہم بھی انسانیت کے خیر خواہ بن کر خود کو امر کریں۔اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں کی سختی دور کرکے جذبہ ایثار سے ہم کو نوازے۔۔۔۔۔آمین یا رب العالمین ۔
تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی
مدرس: سلفیہ مسلم انسٹیٹیوٹ پرے پورہ سرینگر
رابطہ:6005465614
ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist