واشنگٹن (یو این آئی) اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنے کے بعض لائسنسوں کو معطل کرنے کی اگرچہ برطانیہ کی جانب سے وضاحت کی جاچکی ہے، مگر اس معاملے نے ابھی تک تنازع پیدا کیا ہوا ہے۔
امریکی میڈیا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے خفیہ طور پر یورپ میں اپنے اتحادی ملک برطانیہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو پیش کردہ اسلحے کی فراہمی معطل نہ کرے۔
پارلیمنٹ سے خطاب میں برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ برطانوی اسلحہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی میں استعمال ہو سکتا ہے۔ اس لیے برطانیہ فوری طور پر اسرائیل کو اسلحے کی برآمد کے 350 میں سے 30 لائسنس معطل کر رہا ہے۔برطانیہ کی جانب سے کئے گئے فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس کو مایوسی کا سامنا ہے، واشنگٹن میں ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے خفیہ طور پر برطانویوں کو خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام غزہ میں فائر بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔دوسری جانب نیتن یاہو نے برطانیہ کی جانب سے کچھ ہتھیاروں کو فراہم نہ کرنے کو شرمناک قرار دے دیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت نے اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنے کے کچھ لائسنس معطل کرکے ایک ”شرمناک فیصلہ“ کیا ہے۔
برطانوی برآمدات اسرائیل کو حاصل ہونے والے کل ہتھیاروں کے 1 فیصد سے بھی کم ہیں۔ وزیر نے کہا کہ معطلی سے اسرائیل کی سلامتی پر کوئی مادی اثر نہیں پڑے گا اور برطانیہ اپنے دفاع کے حق کی حمایت جاری رکھے گا۔












