بہار شریف (پریس ریلیز): عروس البلاد ممبئی کے علاقے ٹیگور نگر (8/A) میں واقع الرحمن انگلش اسکول میں بروز بدھ صبح 11 بجے تا دوپہر 2 بجے تک حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید سیف الدین اصدق چشتی صاحب قبلہ کی نئی کتاب ’’عہدِ حاضر اور مسلمان‘‘ کی شاندار اور باوقار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ اس عظیم الشان پروگرام میں علماء و مشائخ، ائمہ، دانشورانِ قوم و ملت کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت و سرپرستی شہزادۂ حضور اشرف العلماء، پیر طریقت حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید محمد نظام اشرف اشرفی جیلانی صاحب قبلہ نائب صدر سنی دارالعلوم محمدیہ ممبئی نے فرمائی۔ آپ نے کتاب کا جائزہ لے کر مسرت و شادمانی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ موجودہ دور میں نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں، اور ان فتنوں کا مقابلہ دینِ متین سے مضبوط رشتہ قائم کیے بغیر ممکن نہیں۔ آپ نے حاضرین کو قرآنِ کریم پر عمل پیرا ہونے، دینداری اختیار کرنے، مصلحت کے نام پر بزدلی ترک کرنے اور حق و صبر سے وابستہ رہنے کی تلقین فرمائی۔ آخر میں آپ نے حضرت سید سیف الدین اصدق صاحب کو اس عظیم قلمی کاوش پر مبارکباد پیش کی اور اہلِ محبت سے کتاب خرید کر مطالعہ کرنے کی اپیل کی۔نبیرۂ حضور اشرف العلماء حضرت مولانا پیر سید معز اشرف اشرفی جیلانی صاحب قبلہ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ یہ کتاب محض تحریر کا مجموعہ نہیں بلکہ عہدِ حاضر کے حالات، جدید فتنوں کے مشاہدے اور قوم و ملت کے تئیں قلبی درد کا آئینہ دار ہے۔ آپ نے کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دانشوران سے اس کے سنجیدہ مطالعہ کی درخواست کی۔ تقریب میں حضرت مولانا مفتی نورالحق رضوی صاحب اور حضرت مولانا حافظ محمد اکرم اشرفی صاحب نے بھی اظہارِ خیال کیا اور مصنف کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔مفتئ اہلِ سنت حضرت مفتی محمد منظر حسن خان اشرفی مصباحی، بانی دارالعلوم حجازیہ چشتیہ و دارالعلوم فیضان قطب المشائخ گھاٹکوپر ممبئی نے حضرت سید صاحب قبلہ اور ان کے والد مکرم رئیس التحریر پیر طریقت حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید محمد رکن الدین اصدق چشتی صاحب قبلہ کی دینی، ملی، تدریسی اور قلمی خدمات کا تفصیلی ذکر فرمایا۔ مفتی صاحب نے موقع بہ موقع مذکورہ کتاب کے اقتباسات بھی پڑھ کر سامعین کو سنائے۔آخر میں روحِ محفل حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید محمد سیف الدین اصدق چشتی صاحب قبلہ نے فکر انگیز خطاب فرمایا۔ آپ نے کتاب کی تصنیف کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آج الحاد و ارتداد کی آندھی چل رہی ہے، صحابۂ کرام، اہلِ بیت عظام بلکہ قرآن و حدیث کے تعلق سے بھی شکوک و شبہات پیدا کرنے کی ناپاک کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایسے نازک دور میں صرف جذباتی ردعمل یا آنسو بہانا کافی نہیں، بلکہ مضبوط اور منظم لائحۂ عمل تیار کرکے ان فتنوں کا سدباب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر بروقت مؤثر اقدام نہ کیا گیا تو قوم و ملت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آپ نے تمام علمائے کرام، ائمہ ذوی الاحترام اور دانشورانِ قوم و ملت کا شکریہ ادا فرمایا۔اس موقع پر حضرت مولانا جاوید اختر نوری صاحب، قاری عبدالحفیظ اشرفی صاحب، قاری کمال خان اشرفی صاحب، مولانا محبوب صاحب، مولانا شہباز اشرفی صاحب، حافظ شمس اشرفی صاحب، مولانا رحمت علی صاحب، جناب اخلاق اشرفی صاحب، قاری فیاض برکاتی صاحب، جناب محمد رضا رضوی صاحب وغیرہم شریک رہے۔ پروگرام کے میزبان جناب عبدالرحمن انصاری صاحب بانی الرحمن انگلش اسکول ٹیگور نگر نے مہمانانِ گرامی کی پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا اور اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں نمایاں کردار ادا کیا۔تقریب نہایت منظم، باوقار اور علمی ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، اور حاضرین نے اسے عہدِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ایک بیدار کن اور فکری رہنمائی فراہم کرنے والا اہم سنگِ میل قرار دیا۔












