۔دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے کیجریوال کو 15 اپریل تک عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ کو تہاڑ جیل میں رکھا جائے گا۔ مرکزی ایجنسی ای ڈی نے سی ایم کیجریوال کی 15 دن کی عدالتی تحویل مانگی تھی۔ جسے عدالت نے قبول کر لیا ہے۔
خبر کے مطابق سماعت کے دوران اروند کیجریوال کے وکیل نے جیل کے اندر تین کتابیں اور ادویات دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیجریوال نے جن کتابوں کو جیل کے اندر لے جانے کا مطالبہ کیا ہے ان میں بھگوت گیتا اور رامائن بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کیجریوال نے صحافی نیرجا چودھری کی لکھی کتاب ‘ہاؤ پرائم منسٹر ڈیسائیڈز’ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ای ڈی کی طرف سے بتایا گیا کہ اروند کیجریوال کا رویہ تعاون پر مبنی نہیں ہے۔اور وہ جانچ ایجنسی ای ڈی کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے، عدالت میں پیشی سے پہلے، کیجریوال نے کہا تھا،وزیر اعظم جو کر رہے ہیں وہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہے۔آپ کو بتا دیں کہ 21 مارچ کی شام دیر گئے ای ڈی کی ایک ٹیم وزیر اعلی کی رہائش گاہ پہنچی تھی۔ اسے دو گھنٹے کی پوچھ گچھ اور تلاشی کے بعد گرفتار کیا گیا۔ اگلے دن، راؤز ایونیو کورٹ نے کیجریوال کا 28 مارچ تک ای ڈی کو ریمانڈ دے دیا۔ ای ڈی نے سی ایم کیجریوال کے دس دن کے ریمانڈ کی مانگ کی تھی۔ تاہم عدالت نے تفتیشی ادارے کو 6 روزہ ریمانڈ ہی دیا تھا ۔ 28 مارچ کو راؤز ایونیو کورٹ میں سماعت کے بعد اروند کیجریوال کے ریمانڈ میں چار دن یعنی یکم اپریل تک توسیع کر دی گئی تھی ۔ کیجریوال سے پہلے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا، سابق وزیر ستیندر جین اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ بھی شراب پالیسی کیس میں گرفتار ہو چکے ہیں۔اس کیس کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ شراب گھوٹالے کا اصل ملزم گرفتار ہونے کے بعد مسلسل یہ بیان دیتا رہا کہ اس پر مستقل یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ میں اس کیس میں وزیر اعلی دہلی اروند کیجریوال کا جھوٹا نام لے لوں۔لیکن پھر وہی ہوا کہ اس ملزم نے کیجریوال کا نام لیا اور پھر اس کی نہ صرف ضمانت ہو گئی بلکہ اسے پولیس نے سرکاری گواہ بھی بنا لیا۔












