نئی دہلی :پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے سابق ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد کے بیٹے اسد اور اس کے ساتھ مبینہ شوٹر غلام کے انکائونٹر کو بادی النظر میں فرضی قرار دیتے ہوئے اس پورے معاملے کی ایک اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں ہو رہے سلسلہ وار واقعات واضح طور پر اس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ایک فرضی انکائونٹر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں جنگل راج ہے اور حکومت قانون کو بالائے طاق رکھ کر کام کر رہی ہے اور یہ انکائونٹر اسی کا نتیجہ ہے۔ فرضی انکائونٹر میں لوگوں کا مارا جانا، بنا کورٹ آرڈر کے بلڈوزر چلا کر سیاسی مخالفین کے مکانات توڑے جانا ایک عام بات ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سزا دینا عدلیہ کا کام ہے،نہ کہ سرکار کا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر عدالتوں کی کیا ضرورت ہے۔ انھوں نے ایس ٹی ایف کے اس بیان کو مضحکہ خیز بتایا کہ یہ دونوں الہ آباد لے جاتے وقت عتیق کو جھانسی میں پولیس کسٹڈی سے چھڑانے کا پلان بنا رہے تھے اور سوال کیا کہ اتنی ہائی سکیورٹی کے بیچ سے محض دو اشخاص کا عتیق کو چھڑا لے جانا کیا ممکن ہو سکتا تھا، دوسرے وہ عتیق کو چھڑا کر کہاں لے جاتے۔ کیا سابق ممبر پارلیمنٹ اس طرح کا ملزم ہے، وہ ایک سیاسی شخصیت ہے اور روز اول سے ہی عدالت کا سامنا کر رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر یہ معاملہ عتیق کے بیٹے کا نہ ہوتا تو اب تک حقوقِ انسانی کمیشن اور دیگر ایجنسیاں بھی اس معاملے میں سرگرم ہو چکی ہوتیں،مگر سبھی خاموش ہیں۔ زیڈ کے فیضان نے مزید کہا کہ یہ انکاونٹر یوگی کی فرقہ وارانہ ذہنیت / بیانات اور ان کی حکومت کی فرقہ وارانہ کارکردگی کا نتیجہ ہے اور اس کا مقصد جہاں ایک طرف عوامی مسائل سے لوگوں کا دھیان ہٹانا ہے، تو وہیں دوسری طرف اتر پردیش میں ہونے والے موجودہ لوکل باڈیز الیکشن میں ووٹوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر بھارتی جنتا پارٹی کے حق میں پولارائز کرنا ہے اور یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا ہے۔،جسے لوگوں کو سمجھنا ہوگا۔












