شعیب رضا فاطمی
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات بھی اب اپنا نصف سفر مکمل کر چکی ہیں ۔اور جیسا کہ کہا جا رہا ہے کہ مدھیہ پر دیش اور چھتیس گڈھ دونوں ریاستوں میں کانگریس بی جے پی کو شکست دیتی نظر آ رہی ہے ۔یعنی یہاں کانگریس کو دو میں سے ایک کا فائدہ ہو سکتا ہے۔لیکن اگلے مرحلے میں راجستھان اور تلنگانہ میں کانگریس کی صحت بہت اچھی نہیں ہے ۔راجستھان میں تو کانگریس کی آپسی چپقلش نے اسے حاشیہ پر ڈال دیا ہے اور کانگریس کے اعلی کمان نے بھی سپر ڈال دیا ہے ۔ویسے بھی راجستھان کے لوگ اپنی سرکار کو الٹتے پلٹتے رہنے کے قائل ہیں اور ہر پانچ برس کے بعد وہاں اقتدار میں تبدیلی کا امکان رہتا ہے ۔رہا سوال تلنگانہ کا جہاں نہ تو کانگریس اقتدار میں ہے اور نہ بی جے پی ۔ایسے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہاں کانگریس زیادہ دم خم نہ لگاتی لیکن پتہ نہیں کیوں چندر شیکھر راؤ کے سر میں یہ سودا سما گیا کہ وہ 2024کے عام انتخاب میں کانگریس اور بی جے پی دونوں سے علیحدہ ہو کر ایک ایسا محاذ بنا سکتے ہیں جو بی جے پی کو ری پلیس کر دے ۔اس کے لئے انہوں نے کافی کو شش بھی کی اور کئی ریاستوں کے دورے بھی کئے لیکن بات بنی نہیں ۔اس طرح کی ایک کوشش بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی کی تھی اور شرد پوار نتیش کمار وغیرہ سے بھی ان کی ملاقاتیں ہوئی تھیں لیکن جلد ىی انہیں یہ احساس ہو گیا کہ بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی میں کا نگریس کی شمولیت ناگزیر ہے اور پھر وہ نتیش کمار کی کوشش میں انڈیا کا حصہ بننے کو تیار ہو گئیں ۔لیکن کے سی راؤ نے کانگریس سمیت انڈیا محاذ میں شامل ہونا قبول نہ کیا ۔اور اب تلنگانہ میں کانگریس انہیں کڑی ٹکر دے رہی ہے ۔ مبصرین کے خیال میں تلنگانہ کی تمام سیٹوں پر صرف دو ہی سرکردہ حریف ہوں گے – بی آر ایس اور کانگریس ۔
بی جے پی 30 نومبر کو ہونے والے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں بھلے ہی سب سے آگے نہ ہو، لیکن بہت ساری سیٹوں پر وہ کانگریس کی امیدوں پر پانی پھیرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ جو دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔2018 میں تلنگانہ کے آخری اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا ووٹ شیئر صرف 6.98% تھا، لیکن پلوامہ میں دہشت گردانہ حملے کے خلاف ملک گیر احتجاج کے بعد اگلے سال ریاست میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اس کا ووٹ 19.65% تک بڑھ گیا۔اور پھر حملے کے دو ماہ بعد 11 اپریل 2019 کو شروع ہونے والے سات مراحل میں سے پہلے لوک سبھا کے لیے تلنگانہ میں انتخابات ہوئےاس کے بعد بی جے پی نے اپنے 19.65% ووٹ شیئر کے ساتھ چار سیٹیں جیتیں اور اس کے بعد 2020 میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) کے انتخابات میں 150 میونسپل ڈویژنوں میں سے 48 میں کامیابی حاصل کی۔
گزشتہ انتخابات میں بی جے پی اپنے اسکور کو دیکھتے ہوئے، 23 اسمبلی حلقوں میں کافی پر امید ہے ۔ اور ان میں گوشا محل بھی شامل ہے، جہاں اس نے 2018 کے اسمبلی انتخابات میں اپنی واحد جیت کا تجربہ کیا تھا۔ چار حلقوں کے 20 حلقے جہاں یہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں پہلے نمبر پر تھی ۔ اور حضور آباد اور ڈبکا کے حلقے، جو اس نے بعد میں حاصل کی ۔ اسی لئے کہا جارہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی 30 نومبر کو ہونے والے تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات میں بھلے ہی سب سے آگے نہ ہو، لیکن اس میں کانگریس کے امکانات کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت ہے۔
بی جے پی کریم نگر کے ایم پی بانڈی سنجے کمار کی سرپرستی میں ریاست میں اس وقت تک ایک طاقت بنی رہی جب تک کہ چار ماہ قبل انہیں اچانک مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی نے تبدیل نہیں کردیا ۔ریڈی کے لیے یہ سفر ہموار نہیں رہا، کیونکہ کرناٹک میں ہارنے کی وجہ سے پارٹی نے خود کو کمزور محسوس کیا ہے ۔ اس شکست کا تلنگانہ میں بڑا اثر ہوا، اور یہی وجہ ہے کہ تلنگانہ میں بی جے پی زیادہ پر امید نہیں ہے ۔ حالانکہ اس نے تمام 119 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے ہیں۔لیکن سبھی کی نظریں کانگریس کے لیے پارٹی کے خطرے پر لگی ہوئی ہیں۔تلنگانہ کانگریس کمیٹی کے ورکنگ صدر بی مہیش کمار گوڈ نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا، لیکن بھارت راشٹرا سمیتی کے ایک سابق رکن پارلیمنٹ اور ریاستی منصوبہ بندی بورڈ کے وائس چیئرمین بی ونود کمار نے محسوس کیا کہ کانگریس کے لیے اب یہ آسان ہو جائے گا۔ کہ اس کا بی آر ایس کے ساتھ سیدھا مقابلہ ہے، کیونکہ بی جے پی اب تصویر میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اقتدار مخالف ووٹ میں تقسیم کی وجہ سے سہ رخی مقابلے میں بی آر ایس کو بھاری فائدہ ہوتا لیکن کرناٹک میں کانگریس کی جیت نے تلنگانہ کی راہ کو بہت آسان کر دیا ہے اور اب تلنگانہ میں کانگریس فرنٹ فٹ پر نہایت جارحانہ بیٹنگ کر رہی ہے ۔
ReplyForward |












