ترکی:ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک اور فوج کے سیکولرازم کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ صورت حال گذشتہ روز ایردوآن کے بیان کے بعد پیدا ہوئی ہے جس میں انھوں نے اگست کے اواخر میں دار الحکومت انقرہ میں ملٹری کالج سے فارغ التحصیل ہونے والے فوجیوں پر تنقید کی۔ ان فوجیوں نے سیکولرازم کی حمایت کرنے والا حلف اٹھایا تھا۔
گذشتہ دو روز کے دوران میں ایک وڈیو وسیع پیمانے پر وائرل ہوئی ہے۔ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملٹری کالج کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں فارغ التحصیل فوجیوں نے "ہم مصطفی کمال کے سپاہی ہیں” کے نعرے لگائے۔ ان کا اشارہ جدید ترکیہ کے بانی مصطفی کمال اتاترک کی جانب تھا۔ مزید یہ کہ ان فوجیوں نے حلف میں ترکیہ کے سیکولرازم اور جمہورتی کے دفاع کا عہد بھی کیا۔
اگرچہ ترک صدر انقرہ میں ملٹری کالج کی اس تقریب میں موجود تھے تاہم انھوں نے کچھ روز بعد کوجالی شہر میں اسلامک اسکولوں کی ایک کانفرنس میں شرکت کے دوران فارغ التحصیل فوجیوں پر نکتہ چینی کی۔
ایردوآن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان (نعرے لگانے والے) لوگوں کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور فوج کو اس واقعے کے ذمے دار چند بے ہودہ لوگوں سے پاک کیا جائے گا۔ ترک صدر نے مزید کہا کہ یہ لوگ ہماری فوج کا حصہ نہیں ہو سکتے۔
ترک صدر کی جانب سے کڑی تنقید پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار اور انقرہ یونیورسٹی کے پروفیسر بلال سامبور نے کہا کہ یہ واقعہ اسلامی اور کمالی قوم پرستوں کے بیچ اقتدار کی لڑائی کو ظاہر کرتا ہے”۔ العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ” ایردوآن کی تنقید کا یہ بھی مطلب ہے کہ وہ فوج پر مکمل کنٹرول کے لیے تمام تدابیر اختیار کریں گے۔ یہ اچھا موقع ہے کہ وہ اقتصادی بحران سے نظریں ہٹوا کر اپنی حکومت کے خلاف سازشی نظریات کی طرف توجہ مبذول کرا دیں”۔
ادھر ترک سیکورٹی ماہر یوسف اباردہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یہ معاملہ سیکولر یا غیر سیکولر ہونے سے متعلق نہیں ہے ، ترک صدر نے بطور صدر اپنی سفارت کاری اور قوت سے فارغ التحصیل اہل کاروں کا اکرام کیا۔ ان میں خواتین بھی شامل تھیں جن کی کامیابی کی صدر نے تعریف کی۔ تاہم اس طرح کے نعرے انقلاب کی روش کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ترکیہ اس روش کی جانب واپسی کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔ صرف اس لیے اردوآن فوج پر کنٹرول چاہتے ہیں”۔












