کھیل نہ صرف جسمانی صحت کے لیے بلکہ ذہنی اور سماجی ترقی کے لیے بھی اہم ہیں اور کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے محنت اور خود اعتمادی ضروری ہے۔کون کہتا ہے کہ بیٹیاں اپنے والدین اور ملک کا سر فخر سے بلند نہیں کرسکتی ہیں ۔ یہ صرف ہمارے ذہنوں کی سوچ ہے۔ اتر پردیش کے میرٹھ ضلع کے بہادر پور گاؤں میں پیدا ہونے والی انو رانی ہندوستان کی ایک مشہور جیولن پھینکنے والی ایتھلیٹ ہیں، جنہوں نے اپنی محنت اور شاندار کاکردگی کی بنیاد پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی ہے۔ ان کی زندگی جدوجہد، لگن اور کامیابی کی ایک بہترین مثال ہے۔ ان کی محنت، لگن اور استقامت نے انہیں ہندوستانی جیولن پھینکنے کے عروج پر پہنچا دیاہے۔ وہ نہ صرف ایک بہترین کھلاڑی ہیں بلکہ ایک متاثر کن شخصیت بھی ہیں جو دوسروں کو اپنے خوابوں کو حاصل کرنے کے لیے ترغیب دیتی ہیں۔
انو رانی 28 اگست 1992 کو اتر پردیش کے میرٹھ ضلع کے بہادر پور گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام امرپال سنگھ اور بھائی کا نام سنگھ ہیں۔ انو نے اپنی ابتدائی تعلیم میرٹھ کے ایک عام اسکول سے حاصل کی۔ بچپن سے ہی وہ کھیلوں میں دلچسپی رکھتی تھی اور اکثر اپنے بھائیوں کے ساتھ کھیلنے میں وقت گزارتی تھی۔ انو رانی کی پرورش ایک روایتی ہندوستانی خاندان میں ہوئی، جہاں خواتین اکثر گھریلو کاموں میں شامل ہوتی تھیں۔ لیکن انو رانی نے اس دقیانوسی تصور کو توڑا اور کھیلوں میں اپنی دلچسپی ظاہر کی اور اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ رانی نے کبھی بھی اپنے آپ کو ایک عام ہندوستانی لڑکی کی طرح نہیں دیکھا جو کچن میں روٹیاں بناتی ہیں ، بلکہ وہ ایک ایسی لڑکی تھی جو کھیلوں میں دلچسپی رکھتی تھی اور اسی میں اپنا کیرئیر بنانا چاہتی تھی۔
جیولن تھرورر انو رانی کی زندگی کا سفر دلچسپ اور متاثر کن ہے۔اپنے ابتدائی دنوں میں انو نے بانس کا استعمال کرتے ہوئے اپنا نیزہ تیار کیا کیونکہ وہ اصلی نیزہ نہیں خرید سکتی تھی۔ انو رانی نے اپنے کھیل کیرئیر کا آغاز مشکل حالات میں کیا۔ وہ ایک خالی میدان میں اس کھیل کی مشق کے لیے روزانہ تقریباً 13 کلومیٹر کا سفر طے کرتیں۔ ان کے والد اور قریبی رشتے داروں کو ہمیشہ انو کی کھیلوں کی سرگرمیوں پر اعتراض رہتا تھا۔جیولین تھرو میں انو کی دلچسپی دیکھ کر ان کے بھائی اوپیندر نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور انو کی تربیت کا بندوبست کیا۔ شروع میں ان کے خاندان کے پاس وسائل کی کمی تھی لیکن انو نے اپنی محنت سے سب کچھ ممکن بنایا۔
بلاشبہ انو نے سخت محنت اور لگن سے اس کھیل کو سیکھا ۔ ان کی کارکردگی کو دیکھ کر دولت مشترکہ کے کانسہ کا تمغہ جیتنے والے کاشی ناتھ نائک نے خواہش ظاہر کہ وہ رانی کو بین الاقوامی مقابلوں کے لیے تربیت دیں اور انہیں ان کھیلوں کے لئے تیار کریں، لیکن انو کو اپنے والد کو راضی کرنے کی بہت وقت لگا۔ ان کے والد کو اس بات کا بھی اعتراض تھا کہ وہ انھیں گھر سے اتنی دور پریکٹس کرنے کی اجازت دیں۔ کافی منت و سماجت کے بعد ان کے والد راضی ہوئے اور انو رانی بالآخر 2013 میں کاشی ناتھ کی تربیت میں آگئیں ۔ انو کے کوچ اور ٹیم نے انو کے لیے ایک مخصوص تربیتی منصوبہ بنایا ہے، جس میں انو نے اپنی کمزوریوں پر کام کیا اور اپنے کھیل کو بہتر بنایا۔ انو کا مقصد اولمپکس میں تمغہ جیتنا تھا اور وہ اس کے لیے پوری طرح وقف تھیں۔
انو رانی کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹس، پٹیالہ میں تربیت دی گئی، جہاں وہ دن میں تقریباً 80 بار جیولن پھینکنے کی مشق کرتیں۔ اور 180 کلوگرام تک ویٹ لفٹنگ کی مشق بھی کرتی رہیں۔ ان کے نیزے کا وزن تقریباً 600 گرام تھا۔ انو نے طاقت کی بہتر سطح حاصل کرنے کے لیے بھاری نیزوں کا استعمال کیا۔
نائک کی کوچنگ کے تحت انو نے انچیون میں 2014 میں قومی بین ریاستی چیمپئن شپ میں 58.83 میٹر کا قومی ریکارڈ توڑ دیا۔ بعد میں اسی سال انو نے ایشیائی کھیلوں میں 59.53 میٹر کے تھرو کے ساتھ اسے دوبارہ توڑا اور انچیون، جنوبی کوریا میں کانسہ کا تمغہ جیتا۔ یہ ان کی زندگی کا پہلا تمغہ تھا۔
آج کے دور میں دیکھا جا رہا ہے کہ مالی تنگی کے باعث اگر کسی کا قد کم ہو تو وہ شکست قبول کر کے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہی نہیں، مالی مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود انو نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور اپنے راستے پر آگے بڑھتی رہیں۔ لیکن انو رانی کا حوصلہ اتنا بلند رہا کہ بیرون ممالک کی قد آور خواتین کھلاڑی ان کے ہاتھوں شکست کھا جاتیں ۔ 5 فٹ لمبی انو رانی نے جب جیولن کو ہوا میں پھینکا تو زمین پر پہنچنے تک انہوں نے نیا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔
انہوں نے پہلی بار 2014 میں پٹیالہ میں منعقدہ انڈین نیشنل گیمز میں قومی ریکارڈ بنایا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی اہم سنگ میل قائم کئے۔ انو کا کیریئر جدوجہد سے بھرا ہوا ہے، لیکن اس کے عزم اور اعتماد نے اسے کبھی ہارنے نہیں دیا۔
انو نے 2014 میں پٹیالہ میں انڈین نیشنل گیمز میں جیولین تھرو میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے قومی ریکارڈ بھی بنایا۔انو رانی نے 2014 اور 2018 کے ایشین گیمز میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 2018 میں انہوں نے جکارتہ میں کانسہ کا تمغہ جیتا تھا۔انو نے 2018 اور 2022 کے دولت مشترکہ کھیلوں میں حصہ لیا اور اپنی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔انو نے 2019 میں آئی اے اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں حصہ لیا اور فائنل میں پہنچنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بن گئیں۔
سال 2019 میں دوحہ میں انو نے منعقدہ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں کوالیفائنگ راؤنڈ کے دوران اپنا ہی ریکارڈ توڑا۔ جیولین تھرو لینے کے بعد رانی نے اس کھیل میں کئی ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی بار اپنے ہی ریکارڈ توڑے۔
ہندوستانی ایتھلیٹ انو رانی ایشین گیمز میں جیولن تھرو میں گولڈ میڈل جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بن گئیں۔ انو رانی نے جیولین تھرو میں 62.92 میٹر کے اپنے سیزن کی بہترین تھرو کے ساتھ تاریخی گولڈ میڈل جیتا۔ رانی نے اپنی چوتھی کوشش میں سیزن کے بہترین 62.92 میٹر کے ساتھ خواتین کے جیولین تھرو میں طلائی تمغہ جیتا۔ا ہندوستان نے ایک بار پھر ایشین گیمز 2023 میں اپنا جھنڈا لہرایا ہے۔ ہندوستان کی تجربہ کار ایتھلیٹ انو رانی نے جیولین میں سونے کا تمغہ جیتا ۔
انو رانی کی کامیابی کا راز ان کی محنت اور باقاعدہ تربیت ہے۔ وہ روزانہ کئی گھنٹے مشق کرتی ہیں اور اپنے کھیل کو بہتر بنانے کے لیے نئی نئی تکنیکیں سیکھتی ہیں۔ انو کا خیال ہے کہ کسی بھی کھیل میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے نظم و ضبط اور لگن ضروری ہے۔انو مختلف قومی اور بین الاقوامی تربیتی پروگراموں میں حصہ لے چکی ہیں اور ہمیشہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ دنیا بھر میں ترنگے کا نام روشن کرنے والی میرٹھ کی بیٹی انو رانی نے برمنگھم میں کامن ویلتھ گیمز میں جیولین تھرو میں ہندوستان کو کانسی کا تمغہ جیتا یا ۔ ان کے کوچ اور ٹیم کے ارکان ان کی لگن اور محنت کو سراہتے ہیں۔
ایوارڈز میں ایتھلیٹکس میں 2019 کی اسپورٹس وومن آف دی ایئر بھی نامزد کیا گیا۔صرف یہی نہیں، وہ کامن ویلتھ گیمز میں جیولن تھرو میں تمغہ جیتنے والی ہندوستان کی پہلی خاتون ایتھلیٹ بھی بن گئیں جب اس نے برمنگھم، انگلینڈ میں جیولن تھرو جیتا۔ 2022 گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ ایشین گیمز کی تاریخ میں سرفہرست آنے سے پہلے، انو پٹیالہ، انڈیا میں 2017 فیڈریشن کپ نیشنل چیمپئن شپ میں 61.86 میٹر پھینک کر 60 میٹر کا ہندسہ عبور کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون جیولن پھینکنے والی بن گئی تھیں۔ انو رانی نہ صرف ایک بہترین کھلاڑی ہیں بلکہ ایک متاثر کن شخصیت بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے کھیلوں کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے۔ انو نے بہت سے سماجی کاموں میں بھی حصہ لیا ہے اور نوجوانوں کو جیولین تھرو کے کھیل میں حصہ لینے کی ترغیب دی ہے۔انو کو 2020 میں ارجن ایوارڈ سے نوازا گیا، جو ہندوستانی کھیلوں کی دنیا کا ایک اہم اعزاز ہے۔












