الہٰ آباد جسے اب پریاگ راج کہا جانے لگا ہے میں15اپریل کی رات میں جو کچھ ہوا اس سے ساری دنیا واقف ہے ۔ہر چیز کیمرے میں قید ہے ۔اس لیے اس حادثہ میں شامل کوئی بھی شخص اپنی غلطی کو چھپا نہیں سکتا۔عوامی جگہ ،کیمرے کے سامنے ،پولس کی کسٹڈی میں دو ایسے افراد کو جن کی اہمیت حصول انصاف کے نقطہ نگاہ سے غیر معمولی تھی گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے۔محض دس سیکنڈ میں دو زندگیاں خون آلود ہوجاتی ہیں۔اس غیر معمولی واقعہ کو لوگ الگ الگ نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔
حکومت کے وزراءو ذمہ داران کے مطابق” انسان کو اپنے برے اعمال کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے “۔”جب ظلم کی انتہا ہوتی ہے تو کچھ فیصلے آسمان سے ہوتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہ قدرت کا فیصلہ ہے “۔”عتیق پر سو سے زیادہ مقدمات تھے ،اس میں قتل ،اغوا اور پھروتی جیسے سنگین جرائم بھی تھے ،ہوسکتا ہے کسی متاثر نے یہ کام کروادیا ہو۔“غرض حکومت کے وزراءو اہل کار اس غیر معمولی حادثہ کو اس نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ عتیق ایک برا انسان تھا ،مارا گیا ،اچھا ہوا۔ایک وزیر نے تو پولس والوں کی جم کر تعریف بھی کی ۔ان پولس والوں کی تعریف کی جارہی ہے جو حادثہ کے وقت حملہ آوروں پر نشانہ لگانے کے بجائے چھپنے اور جان بچانے کی جگہ ڈھونڈھ رہے تھے ۔جن کی طرف سے ایک بھی گولی نہیں چلی ،کیمرے کی اسکرین پر دور دور تک کوئی پولس والا نظر نہیں آرہا تھا ۔افسوس ہے کہ ان کی بھی تعریف کرنے والے حکومت میں شامل ہیں ۔حالانکہ بعد میں ان سبھی19 پولس والوں کو معطل کردیا گیا ہے جو عتیق اور اشرف کی حفاظت میں شامل تھے۔تو سوچنے کا ایک نقطہ نظر تو یہ ہے کہ عتیق اور اشرف چونکہ بدمعاش تھے۔غنڈے تھے ،سو سے زیادہ مقدمات میں ماخوذ تھے ۔انھوں نے نہ جانے کتنے بے گناہوں کو مارا تھا ۔اس لیے ان کے ساتھ جو ہوا ٹھیک ہوا۔یہ تو ہونا ہی تھا ۔ہر بدمعاش کے ساتھ ایسا ہوتا ہے ۔وہ دوسروں کی زندگی لیتا ہے اس لیے اس کی زندگی بھی کوئی لے لیتا ہے ۔اس طرح سوچنے والوں کا تعلق حکومت سے ہے ۔ان کا یہ سوچنا اس لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ہی ذمہ دار ہے ۔برے کام کا برا نتیجہ ہی ہوتا ہے ۔لیکن اس لحاظ سے درست نہیں ہے کہ مہذب دنیا میں اور آئین کے مطابق کسی مجرم کو سزا دینے کا اختیار کسی حکومت کو بھی نہیں ہے چہ جائیکہ کوئی فرد یا کچھ لوگ کسی کو سزا دیں ۔اس کا اختیار صرف عدلیہ کو ہے کہ وہ کسے سزا دیتی ہے اور کسے نہیں دیتی ۔اس لیے حکومت کے ذمہ داران کو اپنا راج دھرم نبھاتے ہوئے اس طرح کا بیان نہیں دینا چاہیے جس سے قاتلوں کے لیے ہمدردی کا احساس پیدا ہو۔
سوچنے والوں کا ایک گروہ وہ ہے جو اسے منصوبہ بند مرڈر کہہ رہا ہے۔اس کے نزدیک یہ حکومت کی ایک سازش تھی ۔بعض چشم دید گواہوں کا بیان ہے کہ قاتل پولس کے ساتھ ہی آئے تھے ۔ان کے نزدیک پولس نے قاتلوں پر کوئی گولی نہیں چلائی ،حادثہ کے وقت پولس کی نفری کم تھی ۔جب کہ اس سے ایک دن قبل حفاظتی دستہ میں زیادہ لوگ تھے ۔ان کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت میں مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے جو کام کیے جارہے ہیں اس میں سے ایک یہ بھی ہے طاقت ور مسلمانوں کو قتل کردیا جائے تاکہ وہ مسلمانوں کی کسی قسم کی پشت پناہی اور حکومت کی مزاحمت نہ کرسکیں۔ان کے خیال کی تائید حکومت کے رویہ اور بیانات سے بھی ہوتی ہے ۔آئینی منصب پر براجمان کوئی شخص جب یہ کہتا ہے کہ میں مافیاؤں کو مٹی میں ملا دوں گا ۔اور پھر واقعی کسی مافیا کو ماورائے عدالت مٹی میں ملا دیا جاتا ہے تو شک کی سوئی اسی کی طرف جاتی ہے ۔ایسا ہم خود اپنے سماج اور معاشرے میں بھی دیکھتے ہیں کہ محلہ میں جب دولوگوں میں جھگڑا ہوتا ہے اور کوئی ایک فریق کسی کو جان سے مارنے کی دھمکی دیتا ہے اور کچھ دن بعد اتفاق سے اس کی جان چلی جاتی ہے تو اہل خانہ اور پولس سب سے پہلے اسی دھمکی دینے والے کو گرفتار کرکے لاتی ہے ۔
قتل تو منصوبہ بند تھا چاہے وہ کسی مخالف گروہ نے ہی کیا ہو۔اس خیال کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ عتیق دوران تفتیش جن لوگوں کے نام لینے والا تھا س میں کچھ اعلیٰ عہدے داران بھی شامل ہوسکتے تھے ۔جس طرح یہ کہا جارہا ہے کہ عتیق کا تعلق آئی ایس آئی سے تھا ،وہاں سے ہتھیار پنجاب میں گرائے جاتے تھے ،اسد کو ممبئی میں پناہ دینے والے ابوسلیم گروہ سے متعلق تھے ،ظاہر ہے اگر یہ سب کچھ حقیقت تھا تو اکیلے عتیق تو یہ رابطہ نہیں کرسکتا تھا ۔اس گینگ میں ضرور انتظام و قانون سے جڑے کچھ لوگ رہے ہوں گے ۔ہوسکتا ہے ان لوگوں کا تعلق خود پولس سے ہو ۔ماضی میں بھی پولس اس کے خوف سے یا لالچ سے اس پر مقدمات قائم کرنے اور ایف آئی لکھنے سے گریز کرتی رہی ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی بھی بدمعاش پولس سے ملے بغیر بدمعاشی نہیں کرسکتا ۔
میں سمجھتا ہوں کہ عتیق اور اشرف کے اس مرڈر میں حکومت کا ہاتھ نہیں ہونا چاہئے ۔اس لیے کہ ابھی اسد کا کفن میلا بھی نہیں ہوا تھا ،ابھی اس کے انکاؤنٹر پر سیاست ہورہی تھی ،پورا اپوزیشن اسے فیک انکاؤنٹر کہہ کر اعلیٰ سطحی انکوائری کی مانگ کررہا تھا ،ان حالات میں حکومت یہ کام نہیں کرواسکتی ۔پھر کیمرے کے سامنے تو بالکل بھی نہیں ۔اگر اسے مارنا ہوتا تو سابرمتی سے لاتے وقت راستے ہی میں کسی مڈ بھیڑ میں ماردیا جاتا۔یااسد کے جنازے میں شامل ہونے کی اجازت دے کر بھیڑ میں ماردیا جاتا ۔پھر عتیق خود اپنے جرائم قبول کررہا تھا ،پولس کی کسٹڈی میں تھا ،اسے عدالت سے بھی سزائے موت ہی ہونا تھی ،ایسے میں حکومت اسے مار کر اپنے سر کوئی بکھیڑا کیوں مول لے گی ۔کسٹوڈین موت خود حکومت کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں ۔اسے عوام کے ساتھ ساتھ عدالتوں کو بھی جواب دینا پڑتا ہے ۔اس لیے وہ کوئی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کرتی ہے ۔
بہر حال اب یہ موضوع جانچ ایجنسیوں کا ہے کہ وہ تحقیق کریں ۔لیکن سوچنے کا ایک نقطہ نظر اور بھی ہے ۔وہ یہ ہے کہ عتیق اور اشرف جس دین سے تعلق رکھتے تھے اس کا موقف کیا ہے ؟ظاہر ہے اسلام بھی کسی مجرم کو ماورائے عدالت سزا دینے کا اختیا رکسی کو نہیں دیتا ۔لیکن اس دین میں یہ بات تو کہی گئی ہے کہ ” اللہ فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔“(القصص ۔77)” جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے حالانکہ اس سے زیادہ گناہ تو اللہ معاف کرچکا ہوتا ہے ۔“ (سورہ شوریٰ۔30)”خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کی وجہ سے فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انھیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے اور باز آجائیں ۔“(الروم ۔41)۔عتیق احمد اور اس کے ساتھیوں کی زندگی کے جو ورق ہمارے سامنے ہیں ان میں سے ہر ورق داغ دار ہے ۔اس کے گناہ بے شمار ہیں ۔کوئی مجرم یہ کہہ کر ہمدردی کا مستحق نہیں ہوسکتاکہ اس نے کچھ لوگوں کی مدد بھی کی ہے ۔یا اس کے علاقے میں پولس ظلم نہیںکرسکتی تھی ۔بحیثیت مجموعی ایسے مجرموں سے انسانی آبادی کو نقصان ہی پہنچتا ہے ۔بلاشبہ ہر انسان اپنی زندگی میں اچھے کام بھی کرتا ہے ۔اچھے کام کرنا اس کا مقصد پیدا ئش ہے ۔اچھے کام کرکے وہ خود پہ ہی احسان کرتا ہے ۔برے کام کرنا اس کے لیے جرم ہے اس لیے اس کی سزا ملناہی چاہیے ۔اسلامی عقیدے کے مطابق موت کے تعلق سے یہ بات طے ہے کہ وہ کب اور کہاں آنی ہے ۔اس میں ایک منٹ اور لمحہ کی تاخیر نہیں کی جاسکتی ۔” ہر اک گروہ کے لیے ایک میعاد معین ہے جب موت آجائے گی تو نہ ایک لمحہ کے لئے وہ پیچھے ہٹے گی اورنہ ایک لمحہ کے لیے آگے بڑھے گی ۔“ (اعراف ۔34)” کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔“(لقمان۔34)اس کا مطلب ہے کہ ان دونوں کی موت کا وقت آچکا تھا ۔اس لیے وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ان کا قتل خود ایک جرم ہے ۔یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے قتل کی تحقیق کرائے ۔ان کے قاتل پولس کی حراست میں ہیں ،ان کو سزا ملنی چاہیے ۔
ایک نکتہ اور ہے جس پر غور کرنا چاہیے کہ اگر ہمارے پاس چار پیسے آجاتے ہیں تو ہم غرور اور گھمنڈ کیوں کرنے لگتے ہیں ۔اتر پردیش میں جتنے بھی مسلمان باہو بلی تھے یا ہیں ۔آخر وہ اپنی بادشاہت گناہوں کی بنیاد پر کیوں قائم کرتے ہیں ۔میں دیکھتا ہوں کہ ذرا سی طاقت ہمارے پاس آتی ہے اور ہم آپے سے باہر ہوجاتے ہیں ۔پورے اترپردیش میں درجنوں مشہور مسلمان ’ڈان‘ رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا یہی ایک راستہ ہے دنیا میں نام اور عزت کمانے کا ۔؟ گاؤں کے مسلم پردھان سے لے کر مسلمان ایم پی ایم ایل اے تک میں سے بیشتر لوگ منفی سوچ کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔عوامی فلاح و بہبود کا کوئی کام ان کی ذات سے صادر نہیں ہوتا ۔آپ کہیں گے کہ غیر مسلم بھی ایسا کرتے ہیں ۔میں بھی کہتا ہوں کرتے ہوں گے ۔لیکن مسلمان جس دین سے نسبت رکھتے ہیں اس میں تو اس طرح کے برے کام کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔کیا ہم اچھے کام کرکے ،اسکول ،کالج قائم کرے ،ہسپتال بنواکر ،لوگوں کا دل نہیں جیت سکتے ۔اسی اترپردیش میں عالم بدیع نام کے بھی ایک سیاست داں ہیں جو 1996سے ایم ایل اے ہیں ،وہ کسی بھی مخالف ہوا سے شکست نہیں کھائے ،کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے ان کا بے لوث اور بلا تفریق مذہب و ملت جذبہ خدمت خلق ہے ۔وہ سائکل پر سوار ہوکر اپنے حلقہ کا دورہ کرتے ہیں ۔سب کے کام آتے ہیں ۔انھیں غیر مسلموں کی بڑی تعداد اپنی حمایت دیتی ہے ۔کیا عالم بدیع کے نقش قدم پر چل کر شہرت و عزت حاصل نہیں کی جاسکتی ؟میں سمجھتا ہوں کہ اس واقعہ سے ہمیں عبرت حاصل کرنا چاہئے ۔ہمیں فساد کا راستا ترک کرکے امن و سلامتی کی راہ پر گامزن ہونا چاہئے۔












