واشنگٹن،(یو این آئی) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملے سے پہلے سفارت کاری کو موقع دینا چاہیے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل نے پیر کے روز امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں بعض سینئر معاونین، جن کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، صدر ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف فوجی حملوں سے پہلے سفارت کاری آزمانے کی کوشش کریں۔ رپورٹ کے مطابق ایک جانب وائٹ ہاؤس تہران کی جانب سے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کی پیشکش پر غور کر رہا تھا اور دوسری طرف صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دینے پر بھی نظر رکھے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ امریکی اخبار نے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی فیصلہ نہیں کیا، تاہم فی الحال وہ ایران پر حملے کے حق میں ہیں لیکن ان کا رویہ بدل سکتا ہے۔ تاہم، نائب صدر وینس کے ترجمان نے کہا کہ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ درست نہیں ہے۔ جے ڈی وینس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات ولیم مارٹن نے کہا نائب صدر وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو مل کر صدر کو مختلف آپشنز پیش کر رہے ہیں، جن میں سفارتی طریقۂ کار سے لے کر فوجی اقدامات تک شامل ہیں۔ وہ یہ تمام آپشنز بغیر کسی جانب داری یا جھکاؤ کے پیش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے جواب میں حملوں پر غور کر رہی ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ضروری سمجھا تو ایران پر حملے سے گریز نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتکاری کو اوّلین ترجیح دیتے رہے ہیں، لیکن وہ آئندہ کیا قدم اٹھائیں گے یہ صرف وہی جانتے ہیں۔












