انڈیا اتحاد پر گودی میڈیا کے ذریعہ کیا گیا ایک اور حملہ اس وقت ناکام ہو گیا جب مدھیہ پردیش اسمبلی انتخاب میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے مابین چل رہی زبانی جنگ کے دوران میڈیا نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ سماج وادی پارٹی کاانڈیا محاذ سے نکلنا طئے ہے اور ساتھ ہی آر ایل ڈی بھی اس محاذ سے الگ ہو جائیگی ۔میڈیا نے تو راجستھان میں بھی آر ایل ڈی کو کانگریس سے الگ کر کے بات کرنی شروع کر دی تھی جہاں کانگریس کے ساتھ آر ایل ڈی کا سمجھوتہ ہے ۔لیکن میڈیا کے اس پروپیگنڈے کی ہوا اس وقت نکل گئی جب آر ایل ڈی کے جنرل سکریٹری ترلوک تیاگی نے یہ بیان جاری کر دیا کہ ہم نے یوپی میں 2019اور 2022کا انتخاب سماج وادی پارٹی کے ساتھ لڑا اور 2024میں ہم پارلیامنٹ کا انتخاب بھی سماج وادی کے ساتھ لڑینگے جبکہ راجستھان اسمبلی انتخاب میں میں ہمارا کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ ہے
انڈیا اتحاد پر سرکاری میڈیا کے حملوں کی ایک کڑی یہ بھی تھی کہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے مابین زبانی جنگ دیرپا جنگ میں تبدیل ہو جانے کی صورت میں آر ایل ڈی بھی انڈیا سے الگ ہو جائے گی لیکن یہ میڈیائی سازش اس وقت ناکام ہو گئی جب آر ایل ڈی کی طرف سے ایک واضح بیان آگیا کہ یہ سب افواہ ہے آر ایل ڈی کا انڈیا محاذ کے ساتھ کوئی تنازعہ نہیں ہے اور سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان ہونے والے زبانی بیان بازی کا ہمارے تعلق پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے ۔اور جب اس میڈیائی تنازعہ کا کانگریس نے بروقت تصفیہ کر کے یہ اعلان کر دیا کہ ہمارا سماجوادی پارٹی سے اسمبلی سیٹوں کو لے کر کوئی تنازعہ نہیں ہے اور سماج وادی پارٹی کے مدھیہ پردیش میں انتخاب لڑنے پر بھی ہمارا کوئی اعتراض نہیں ہے ۔کانگریس کی طرف سے تو یہ بھی بیان آیا کہ مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخاب میں انڈیا محاذ کی اور پارٹیاں بھی اپنے اپنے طور پر انتخاب لڑ رہی ہیں ۔لیکن وہ ساری پارٹیاں 2024کے پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی کو شکست دینے کا کام کرینگی ۔جیسے جیسے پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے دن قریب آتے جا رہے ہیں بی جے پی کی دھڑکنیں تیز ہو رہی ہیں ۔کیونکہ ان ریاستوں میں بی جے پی عوام کے تاثرات کو پڑھ رہی ہے اور اسے یہ خوف ستا رہا ہے کہ اگر عوام کا یہی رحجان 2024تک باقی رہا تو پھر مشکل ہو جائیگی ۔بی جے پی کے موجودہ دونوں رہنماؤں کو تو یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ اگر 2024کے انتخاب کا نتیجہ خاطر خواہ نہیں آیا اور ان کی سیٹیں 272تک کے آنکڑے کو نہ چھو پائیں تو پھر خود بی جے پی میں قیادت کا بحران پیدا ہو جائے گا اور پارٹی اپنا قائد بدلنے کو مجبور ہو جائیگی ۔کیونکہ یہ خبر ان دنوں خوب گشت کر رہی ہے کہ آر ایس ایس کے اپنے سروے میں بھی یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اب مودی کا جادو ملک کے عوام کے سر سے اتر چکا ہے اور اس بار عام انتخاب میں بی جے پی کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے ۔اور اسی لئے آر ایس ایس نے پلان بی کے تحت نتن گڈکری کو پروجیکٹ کرنے کی تیاری شروع کردی ہے ۔نریندر مودی کی طرز پر نتن گڈکری کی شخصیت اور کارناموں پر مبنی فلم اسی سلسلے کی کڑی ہے جسے جنوری میں لانچ ہونا ہے ۔نریندر مودی اور شاہ صاحب ہی نہیں بلکہ جوگی جی بھی یہ سب دیکھ رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ آر ایس ایس کے اس پلان بی کو اسی صورت میں ناکام کیا جا سکتا ہے جب مہاراشٹرا سمیت ہندی بیلٹ میں ہونے والے کسی بھی نقصان کو روکا جائے ۔
کیونکہ جنوبی ہندوستان سے انہیں زیادہ مدد کی امید نہیں ہے ۔ان کے لئے پریشانی یہ بھی ہے کہ اپنی کار کردگی کی بنیاد پر تو انہیں ووٹ ملنے سے رہا ۔کانگریس مخالفت کا بھی اب کوئی اثر باقی نہیں رہا کیونکہ راہل گاندھی اب 2019والے راہل نہیں رہے ۔اور عوام نے یہ سمجھ لیا ہے کہ بی جے پی نے اپنے سیاسی مفاد کے حصول کے لئے راہل گاندھی اور کانگریس کو بد نام کر رکھا تھا ۔لہذا نریندر مودی کے پاس اب سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے روایتی ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے انڈیا محاذ کو نشانہ بنائیں ۔گودی میڈیا کو اس سلسلے میں پوری طرح چاق و چوبند کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنا کام تندہی سے کریں ۔سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے مابین جھگڑوں کی خبر میڈیا نے ہی پھیلائی لیکن جیسے ہی ان دونوں پارٹیوں کے بڑوں نے اس سازش کو سمجھا سر گرم ہو گئے اور اب سب کچھ سیٹل ہو چکا ہے ۔
لیکن اس کے لئے جس طرح کانگریس سماج وادی پارٹی اور آر ایل ڈی کے لیڈر سرگرم ہوئے ہیں اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انڈیا الائنس کے لوگ سمجھ رہے ہیں کہ کبھی بھی افواہ کی ایک چنگاری ان کے محاذ کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے ۔موجودہ سماجوادی کانگریس بحران اس کا ایک نمونہ تھا ۔لیکن اس طرح کے مزید حملے ہوتے رہینگے اور اس پر نظر رکھنا انڈیا اتحاد کے لیڈروں کا کام ہے ۔











