• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, فروری 14, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

زبان بندی کی کوشش: سیاسی انتقام یا جمہوری عمل کا امتحان؟

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 14, 2026
0 0
A A
زبان بندی کی کوشش: سیاسی انتقام یا جمہوری عمل کا امتحان؟
Share on FacebookShare on Twitter

ملک کی پارلیمانی سیاست ایک دفعہ پھر ایسے دہانے پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں اختلافِ رائے کو محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ وجودی خطرہ سمجھا جانے لگا ہے۔ ایوان میں حزبِ اختلاف کے رہنما راہل گاندھی کے خلاف پیش سبسٹینٹو موشن اور ان کی رکنیت منسوخ کر انہیں تاحیات انتخابی سیاست سے باہر کرنے کی تجویز نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ جمہوری اقدار کے مستقبل پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بظاہر یہ اقدام ایک رکنِ پارلیمان کی جانب سے پیش کردہ ذاتی تجویز معلوم ہوتا ہے، تاہم جس انداز سے حکمراں جماعت کے متعدد رہنماؤں نے مختلف پلیٹ فارمز سے اسی نوعیت کے مطالبات دہرائے، اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ یہ معاملہ محض فردِ واحد کا نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ سیاست میں اتفاق اور اختلاف دونوں فطری عناصر ہیں، مگر جب اختلاف کو جرم اور سوال کو سازش قرار دینے کا رجحان فروغ پانے لگے تو جمہوری نظام کی روح مجروح ہوتی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکنِ پارلیمان نشی کانت دوبے نے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی مراعاتی استحقاق کی تحریک نہیں بلکہ ایک ’سبسٹینٹو موشن‘ ہے، جس کے ذریعہ ایوان سے باضابطہ فیصلہ طلب کیا جا سکتا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ راہل گاندھی کے بعض بین الاقوامی اداروں مثلاً سوروس فاؤنڈیشن، فورڈ فاؤنڈیشن اور یو ایس اے آئی ڈی سے روابط ہیں اور ان کے بیرونی دورے قومی مفادات کے خلاف بیانیہ کو تقویت دیتے ہیں۔ ان الزامات کی نوعیت اپنی جگہ قابلِ بحث ہے، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی رکنِ پارلیمان کے سیاسی بیانات یا بین الاقوامی سطح پر روابط کو بنیاد بنا کر اس کی رکنیت ختم کرنا جمہوری روایت سے ہم آہنگ ہے؟ اگر الزامات درست بھی ہوں تو ان کا ازالہ عدالتی یا تحقیقاتی عمل سے ہونا چاہیے، نہ کہ پارلیمانی رکنیت کو نشانہ بنا کر۔ پارلیمان کا منصب احتساب کا ہے، انتقام کا نہیں؛ اور قانون کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر الزام ثبوت اور شفاف عمل کے تابع ہو۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب راہل گاندھی نے پارلیامنٹ میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے عبوری تجارتی معاہدے پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے اسے ’مکمل خودسپردگی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعہ ملک کی توانائی سلامتی اور کسانوں کے مفادات کو داؤ پر لگایا گیا ہے، ڈیجیٹل خودمختاری کو خطرے میں ڈالا گیا اور امریکی بڑی کمپنیوں کو طویل مدتی ٹیکس چھوٹ دی گئی۔ بجٹ مباحثہ کے دوران انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس معاہدہ کے پسِ منظر میں سیاسی و مالی مفادات کارفرما ہیں، ٹیرف میں اضافہ کیا گیا جبکہ امریکہ کو متناسب رعایتوں کا توازن واضح نہیں کیا گیا۔ ان کے الفاظ تند و تیز ضرور تھے، مگر پارلیمانی جمہوریت کی روح ہی یہی ہے کہ حکومت سے سخت سوالات پوچھے جائیں اور پالیسیوں پر بے لاگ تنقید ہو۔ اگر ہر تنقید کو غداری کا لبادہ اوڑھا دیا جائے تو پارلیمنٹ کا بنیادی مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین مکالمہ ہی پالیسی سازی کو متوازن بناتا ہے؛ اس مکالمہ کی بندش نظام کو یک رخی بنا دیتی ہے۔
سبسٹینٹو موشن کی آئینی حیثیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ یہ ایک سنجیدہ اور باقاعدہ تحریک ہوتی ہے جسے ایوان کے غور و خوض اور فیصلہ کے لیے پیش کیا جاتا ہے، اور اس کے محرک کو اپنے الزامات کے ثبوت فراہم کرنے ہوتے ہیں۔ ہندوستانی پارلیمنٹ کے ضابطہ نمبر 184 کے تحت یہ موشن ایوان میں بحث کا موضوع بن سکتا ہے اور اس پر ووٹنگ بھی ہو سکتی ہے، جو بریچ آف پرائیولیج موشن سے مختلف ہے۔ تاہم جب اس نوعیت کی تحریک کا ہدف براہِ راست حزبِ اختلاف کا سب سے بڑا چہرہ ہو اور مقصد اسے سیاسی میدان سے تاحیات بے دخل کرنا ہو، تو سوال محض قانونی نہیں رہتا بلکہ جمہوری اخلاقیات کا بن جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے مختلف فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی طاقت لامحدود نہیں بلکہ آئین کے تابع ہے، اور بنیادی ڈھانچہ کے اصول کسی بھی ادارہ جاتی اقدام پر قدغن عائد کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں سبسٹینٹو موشن کا استعمال اگر حزب اختلاف کی زبان بندی کے لیے ہو تو یہ آئینی روح سے انحراف سمجھا جائے گا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ راہل گاندھی کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 2023 میں سورت کی ایک عدالت نے انہیں ہتکِ عزت کے ایک مقدمہ میں دو سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد لوک سبھا سکریٹریٹ نے انہیں رکنیت سے نااہل قرار دے دیا تھا۔ اگرچہ بعد میں اعلیٰ عدلیہ کی مداخلت سے اس فیصلہ پر روک لگی اور وہ دوبارہ ایوان میں واپس آئے، مگر اس پورے عمل نے یہ تاثر ضرور دیا کہ عدالتی اور سیاسی عمل ایک دوسرے سے مکمل طور پر منفصل نہیں دکھائی دیتے۔ اس وقت بھی کانگریس نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کارروائی ان کے اُس پارلیمانی خطاب کے تناظر میں ہوئی جس میں انہوں نے بعض کارپوریٹ شخصیات اور حکومت کے درمیان مبینہ تعلقات کا سوال اٹھایا تھا۔ یہ واقعہ پارلیمنٹ کی آزادیِ اظہار اور نمائندہ جمہوریت کے وقار کے تناظر میں مثال بن گیا، جس سے ملک میں وسیع تر بحث کے سلسلہ کا آغاز ہوا۔
جمہوریت میں اختلافِ رائے کو دبانے کی کوششیں نئی نہیں، مگر ہر عہد میں ان کا انجام یکساں رہا ہے۔ پارلیمنٹ اگر سوال اٹھانے والوں سے خالی کر دی جائے تو وہ محض تائیدی ادارہ بن کر رہ جاتی ہے۔ آئینِ ہند کی تمہید اور اس کے بنیادی ڈھانچہ میں جمہوری اقدار، اظہارِ رائے کی آزادی اور عوامی نمائندگی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آرٹیکل 19(1)(a) اظہار کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں میں اپوزیشن کے کردار کو نظامِ احتساب کا ستون قرار دیا ہے۔ اگر راہل گاندھی جیسے رہنما کو نشانہ بنایا جائے تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی آزادی بلکہ پورے اپوزیشن کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش تصور ہوگی۔ اختلاف کو کچلنے سے وقتی سکوت تو پیدا ہو سکتا ہے، مگر فکری جمود اور سیاسی بے اعتمادی میں اضافہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔
سیاسی اختلاف کو ’ملک دشمنی‘ سے تعبیر کرنا ایک خطرناک رجحان ہے۔ ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ برطانوی دور میں آزادیِ اظہار کو دبانے کی کوششوں سے مزاحمتی تحریک کا آغاز ہوا۔ دور جدید میں سوشل میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں ایسے اقدامات کی پردہ داری ممکن نہیں۔ اگر کسی رکن کے بیانات یا روابط پر شبہ ہے تو اس کے لیے شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا راستہ موجود ہے، جیسے عدالتی کمیشن یا پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعہ جانچ۔ لیکن کسی سیاسی رہنما کو تاحیات نااہل قرار دینے کی مہم، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ حکومت کی پالیسیوں پر جارحانہ سوالات اٹھا رہا ہو، جمہوری توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اس میں سخت سے سخت تنقید بھی نظام کے اندر رہتے ہوئے کی جا سکتی ہے۔
بی جے پی کی حکمت عملی میں راہل گاندھی کو ہدف بنانا کوئی اتفاقی امر محسوس نہیں ہوتا۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی جارحانہ مہم نے حکمراں جماعت کو واضح اکثریت سے محروم کیا تھا، اور اب ان کی پارلیمانی فعالیت حکومت کے لیے چیلنج بن رہی ہے۔ نشی کانت دوبے اور دیگر رہنماؤں کے بیانات کو محض انفرادی رائے قرار دینا مشکل ہے، کیونکہ پارلیمانی سیاست میں ہر لفظ اور ہر تحریک اپنے سیاسی مضمرات رکھتی ہے۔ اگر سبسٹینٹو موشن منظور ہوتا ہے تو نہ صرف کانگریس بلکہ وسیع تر اپوزیشن اتحاد متاثر ہوگا، جو حالیہ ریاستی انتخابات میں اپنی موجودگی درج کرا چکا ہے۔ عوامی ردِ عمل بھی اس صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور سول سوسائٹی کے حلقوں میں اسے جمہوری اقدار کے لیے آزمائش قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نظریاتی کشمکش جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب یہ کشمکش وجودی جنگ میں بدل جائے اور مخالف آواز کو مٹانے کی کوشش ہونے لگے تو پورا نظام کمزور ہوتا ہے۔ اگر کسی پالیسی پر اختلاف ہے تو اس کا جواب سیاسی اور فکری میدان میں دیا جانا چاہیے، نہ کہ ادارہ جاتی طاقت کے ذریعہ۔ تاریخ شاہد ہے کہ نااہلی یا قانونی قدغنیں اکثر سیاسی شخصیات کو مزید مقبول بنا دیتی ہیں، کیونکہ عوام اسے ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جائے اور عوامی عدالت میں فیصلہ ہونے دیا جائے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ کو محاذ آرائی کا اکھاڑا بنانے کے بجائے مکالمہ کا پلیٹ فارم بنایا جائے۔ عوام نے اپنے نمائندوں کو اسی لیے منتخب کیا ہے کہ وہ ان کے مسائل اور خدشات کو ایوان تک پہنچائیں۔ لوک سبھا کے اسپیکر پر یہ آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بحث کو غیر جانبدارانہ انداز میں چلائیں اور ایوان کے وقار کو برقرار رکھیں۔ اگر سوال پوچھنا جرم قرار پائے تو جمہوریت کی تعریف ہی بدل جائے گی۔ عدلیہ کا کردار بھی اسی توازن کو قائم رکھنے میں کلیدی ہے، تاکہ مقننہ کی کارروائیاں آئین کے دائرے میں رہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ زبان بندی کی ہر کوشش نے ردِ عمل کو جنم دیا ہے۔ نوآبادیاتی عہد کے قوانین سے لے کر داخلی ایمرجنسی کے ادوار تک، ہر بار جبر نے مزاحمت کو تقویت دی۔ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ جب عوامی نمائندگی کے راستے مسدود کیے جاتے ہیں تو سیاسی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہندوستان جیسے کثیرالثقافتی اور کثیرالجہتی معاشرے میں مکالمہ ہی استحکام کی ضمانت ہے۔ اگر پارلیمنٹ کو خاموش کر دیا گیا تو اس کے اثرات آئندہ انتخابات میں نمایاں ہو سکتے ہیں، کیونکہ ووٹر بالآخر اپنی رائے کا اظہار بیلٹ باکس کے ذریعہ کرتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی ہندوستان کی جمہوریت پر نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی اشاریوں میں اظہارِ رائے اور اپوزیشن کی آزادی کو جمہوری صحت کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر حزبِ اختلاف کے مرکزی رہنما کے خلاف تاحیات نااہلی کی تحریک چلائی جاتی ہے تو اس کے سفارتی اور اخلاقی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ ایک ابھرتی ہوئی معیشت اور عالمی طاقت بننے کے دعوے کے ساتھ جمہوری شفافیت لازم و ملزوم ہے۔ حکومت کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ پالیسیوں پر وضاحت دے، شکوک کا ازالہ کرے اور تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ دکھائے۔
جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پارلیمانی روایات کا احترام کیا جائے، سبسٹینٹو موشن جیسے سنجیدہ اقدامات کو سیاسی ہتھیار نہ بنایا جائے اور اختلافِ رائے کو آئینی حق تسلیم کیا جائے۔ میڈیا کی آزادی، عدلیہ کی خودمختاری اور اسپیکر کی غیر جانبداری وہ ستون ہیں جو اس عمارت کو سہارا دیتے ہیں۔ بی جے پی ہو یا کانگریس، دونوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار عارضی ہے مگر ادارے مستقل۔ اگر اداروں کو کمزور کیا گیا تو اس کا خمیازہ پورے نظام کو بھگتنا پڑے گا۔
بالآخر سوال یہ نہیں کہ راہل گاندھی درست ہیں یا غلط؛ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمانی جمہوریت میں سوال اٹھانے کا حق محفوظ رہے گا یا نہیں۔ اگر سیاسی اختلاف کو جرم بنا دیا گیا تو کل یہی معیار کسی اور پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔ جمہوریت کی بقا اسی میں ہے کہ اختلاف کو برداشت کیا جائے، دلیل کا جواب دلیل سے دیا جائے اور فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ تاثر گہرا ہوگا کہ اقتدار کو سوال سے نہیں بلکہ سوال کرنے والے سے خوف ہے—اور یہی خوف جمہوری عمل کے لیے سب سے بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    ایٹمی پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں: ایران

    ایٹمی پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں: ایران

    فروری 14, 2026
    بنگلہ دیش: بی این پی 212 نشستوں پر کامیاب

    بنگلہ دیش: بی این پی 212 نشستوں پر کامیاب

    فروری 14, 2026
    ایشان کشن پاور پلے میں نصف سنچری مکمل کرنے والے پانچویں بلے باز

    ایشان کشن پاور پلے میں نصف سنچری مکمل کرنے والے پانچویں بلے باز

    فروری 14, 2026
    وکاس کاتیال کی گوتم گمبھیر سے ملاقات، ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے نیک خواہشات

    وکاس کاتیال کی گوتم گمبھیر سے ملاقات، ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے نیک خواہشات

    فروری 14, 2026
    ایٹمی پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں: ایران

    ایٹمی پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں: ایران

    فروری 14, 2026
    بنگلہ دیش: بی این پی 212 نشستوں پر کامیاب

    بنگلہ دیش: بی این پی 212 نشستوں پر کامیاب

    فروری 14, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist