وطن عزیز میں حالیہ دنوں دو ریاستوں میں الیکشن کا عمل جاری ہے ،جس میں گجرات ریاست ایسی ریاست ہے جہاں آج کچھ سیٹوں پر انتخابات ہوئے ہیں تو وہیں دوسرے حصوں میں بی جے پی اور کانگریس کی دھواںدھار ریلیاں ہوئی ہیں ۔ویسے تو کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی انتخابی میدان میں اپنی پوری طاقت جھونکے ہوئے ہیں لیکن بی جے پی کی ریلیوں اورروڈ شو میں اس کے لیڈروں کی تقاریری بیانات سے اندازہ یہ ہو رہا ہے کہ اسے جیت کا پورا یقین ہے اور وہ ایک بار پھر گجراتکی بازی جیت جائیگی! ۔خاص بات یہ رہی کہ بی جے پی کی کانگریس سے تکرار میں سوائے ا سکے کہ ایک دوسرے پر حملے تو کئے گئے لیکن مسائل اور کام کاج کا کہیں سے کہیں کوئی ذکر نہیں تھا۔ آج جب ایک طرف وووٹنگ ہو رہی تھی تو وزیر اعظم نریندر مودی،امت شاہ اور دیگر کئی بڑے چہرے رتھ میں سوار ہو کر پچاس کلومیٹر کا روڈ شو کررہے تھے اور کھڑگے کے اس حملے کا جواب دے رہے تھے ،جس میں انہوںنے وزیر اعظم مودی کو راون سے تشبیہ دی تھی ۔گویا آج کانگریس اور بی جے پی میں حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا،اور بی جے پی اس کا فائدہ ااٹھاتے ہوئے اپنی معصومیت کااظہار کر کے لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے میں لگی رہی۔بتادیں کہ ایک دن پہلے ملیکارجن کھڑگے نے ایک ریلی سے خطاب میںکہا تھاکہ وزیر اعظم مودی تمام انتخابات میں اپنا چہرہ دکھا کر لوگوں سے ووٹ دینے کو کہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا، ’کیا تم 100 سروں والے راون کی طرح ہو؟‘لیکن بی جے پی اس حملے سے سیخ پا ہو اٹھی اور وزیر اعظم نے کھڑگے کو جواب دیتے ہوئے کانگریس کی بخیہ ادھیڑی ۔انہوں نے ایک انتخابی مہم کے دوران ملیکارجن کھڑگے کے ’راون‘ کے طنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے لیڈران میں یہ مقابلہ ہے کہ ان کے خلاف سب سے زیادہ توہین آمیز الفاظ کون استعمال کرے گا۔ پی ایم نے بظاہر مدھوسودن مستری کے تبصرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔’کھڑگے سے پہلے، ایک اور کانگریسی لیڈر نے کہا تھا کہ پارٹی مودی کو ان کی ’اوقات‘ (جگہ) دکھائے گی،‘ الغرض مودی نے بھی آج حساب چکتا کرتے ہوئے کہا کہ ’’رام بھکت کو راون کہنا غلط ہے ،کانگریس کے لیڈروں میں یہ مقابلہ ہے کہ کون میرے لیے زیادہ سے زیادہ قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کرے گا۔ جو لوگ کبھی بھگوان رام کے وجود پر یقین نہیں رکھتے تھے، اب وہ رامائن سے ’راون‘ لے آئے ہیں اور میں میں حیران ہوں کہ انہوں نے کبھی پچھتاوے یا پشیمانی کا اظہار تک نہیں کیا، میرے لیے ایسی گالیاں دینے کے بعد معافی مانگنے کی بات تو بھول ہی جایئے!۔ لوگ جتنی زیادہ کیچڑ پھینکیں گے، اتنا ہی کمل کھلے گا۔‘‘
بہر کیف ،گجرات میں آج جہاں 59 فیصدی ووٹنگ ہوئی اور لوگوں نے اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دیا تو وہیں لوگ مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا روتے بھی دکھائی دئے ۔لیکن ہمارے بی جے پی جو پچھلے ستائی سال سے گجرات میں راج کررہی ہے ،شاید اسے ریاست کے مسائل نظر ہی نہیں آرہے ہیں اور ہر جانب ہریالی اور خوشحالی دکھائی دے رہی ہے ۔اگر ایسا ہوتا تو یقینا بی جے پی مسائل پر بات ضرور کرتی!۔شاید بی جے پی ایسا ہی سمجھتی ہے۔لیکن صحیح معنوں میں کہا جائے توگجرات کے عوام موجودہ حکومت سے پریشان اور تنگ آچکے ہیں ۔لیکن تعجب یہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کو لوگوں کی پریشانیاں ،مہنگائی،مسائل اور بے روزگاری سے کوئیی سرو کا ر نہیں ہے اور وہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو نشانے پر لئے رہتی ہے ۔گجرات کے علاوہ دہلی میں بھی بی جے پی کو یہ خوف ستا رہا ہے کہیں کارپوریشن اس کے ہاتھ سے نا نکل جائے ۔اس لئے بی جے پی یہاں بھی اپنی زور دار مہمات میں مصروف ہے۔بی جے پی کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دار الحکومت دہلی کے کارپوریشن جیسے الیکشن میں بھی اس کے چوٹی کے لیڈروں نے ریلیاں کیں جس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور یونین وزیر اجے مشرا جیسے لیڈروں کے نام قابل ذکر ہیں۔امید جتائی جارہی ہے کہ وزیر اعظم بھی دہلی کے الیکشن کے لئے ریلیاں کرینگے ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ بی جے پی مسائل اور ایشوز کو چھوڑ کر ذاتیات پر حملے کب تک کرتی رہے گی ،اس طرح کی باتوں سے کیا مسائل حل ہوجائینگے؟۔کیا گجرات کے لوگوں کے مسائل حل ہوجائیں گے،بے روزگاری دور ہوجائے گی یا مہنگائی پر لگام لگ جائیگی؟،دوسری اہم بات یہ کہ کیا اس سے پہلے بی جے پی نے کانگریس لیڈروں پر نشانہ نہیں سادھا یا اس پر حملے نہیں کئے ہیں؟۔اس طرح کے ایشوز میں دھیان بھٹکا کر وہ کب تک لوگوں کو دھوکہ دیتی رہے گی؟ وہیں دوسری جانب کانگریس بھی نوجوانوں کے بے روزگاری کے ایشو کو زور شور سے اٹھا رہی ہے ،جس سے اسے عوام کا ساتھ مل رہا ہے ۔دیکھنا ہے کہ گجرات میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور لوگوں کا جواب کیاہوگا۔












