ایک زمانہ تھا جب بدعنوانی سے ایک پیشہ پاک و صاف تھا جوکہ صحافت تھا ،لوگ ایک ایماندار صحافی کی بے انتہا عزت کرتے تھے اور اس کے قلم سے خوف کھاتے تھے ،جہاں بے ایمانی اور جھوٹ کا دور دور تک شائبہ نہیں پایا جاتا تھا ۔اس لئے جب بھی آزادانہ اور بے باک صحافت کانام آتا تھا بھارت کو فہرست رکھاجاتا تھا !۔لیکن شاید اب اس کو کسی کی نظر لگ گئی ہے کہ صحافت کا پیشہ اب اپنی آخری ہچکیاں لے رہا ہے اور بد عنوانی نے اس کا راستہ بھی دیکھ لیا ہے ،نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ وہ ایماندار صحافی اور میڈیا ہائوس جن کے نام سے سیاسی جماعتوں اور حکومتوںکے رونگٹے کھڑے ہوجایا کرتے تھے ، خود ’بدعنوانی‘ سے پناہ مانگنے لگے ہیں اور عاجز آکر پیشہ کو الوداع کہنے لگے ہیں!۔ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں صحافت اب اتنی رہ جائے گی کہ کوئی حکومت سے سوال کرنے کی جسارت نہ کرپائے یا حکومت اس کو سوال کرنے سے باز رکھے رہے !۔وہیں سوال یہ اٹھ رہے ہیں کہ ملک میں آئندہ چند برسوں میں صحافت کا مستقبل کیا ہوگا،اور جمہوریت میں اس کو کس اہمیت کے ساتھ کس پائیدان پر رکھا جائیگا۔کہا جاتا ہے کہ بھارت جیسے عظیم جمہوری ملک میں صحافت کوچوتھے ستون کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔لیکن کیا اب اس چوتھے ستون کومضبوط کرنے کے بجائے اس کو گرانے کی باتیں ہو رہی ہیں ،کیا اب اس کو مسمار کرنے کی قسم کھا لی گئی ہے ،کیا اب الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو صرف حکمراں جماعت کی بد عنوانی اور کالے کرتوت پر پردہ ڈالنے اور اس کی خوشامد کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا؟ ظاہر ہے جب اظہار آزادی کا گھلا گھونٹا جانے لگے گا توایسے سوال اٹھنا لازمی ہے ۔پچھلے سات سالوں کے دوران جس طرح سے’ایماندارانہ صحافت ‘کے تقاضوں کوپامال کیا گیا ،موجودہ حکو مت میڈیا کے سامنے آنے سے بچتی رہی ، اس کے سوالات کانٹے کی طرح چبھنے لگے ، اس کی آزادی کو کچلنے اوراظہارو سچ کہنے کی آزادی کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی ،یہ سب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔لہذا اس کے بعدیہ وقت تو آنا ہی تھا جب کچھ’ فرمانبردار‘ میڈیا ہائوس بے ایمانی اور بد عنوان حکومتوںسے سوال کرنے سے کترائیں اور خوف کھائیں اور ایماندار صحافیوں کے قلم چھین لئے جائیں!۔
سوال یہ ہے کہ جب خبروں میں جھوٹ کو سجا کر اس طرح پیش کیا جانے لگے کہ وہ سچ لگنے لگے ،تو پھر لوگ سچ کے بجائے جھوٹ کے ہی عادی ہوں گے !اگر چہ اس سے صحافت کی کمر ہی کیوں نہ ٹوٹ رہی ہو۔یہ ایک کڑ وی سچائی ہے کہ اب ایک ایماندار صحافی کیلئے پیشہ ورانہ زندگی کافی مشکل ہوگئی ہے ، یا تو وہ گھر بیٹھ جائے یا پھر جیل کی سلاخیں اس کا مقدر بن جائیں ۔ہر دور میں اس کی مثالیں ملی ہیں ،لیکن گزشتہ آٹھ برسوں میں اس طرح کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہواہے۔کچھ’ فرمانبردار‘ میڈیا ہائوس اور چینل اس کام میں پیش پیش ہیں جو اپنے فرائض کو فراموش کر کے اور ضمیر بیچ کر،ایک پارٹی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں!۔ بے حد بدقسمتی کی بات ہے کہ اس بدعنوانی کیخلاف مسلسل آواز اٹھانے والے میڈیا ہائوس کاگلا گھونٹے جانے، اس کی پالیسی کو پاش پاش کرنے کیلئے تمام حربے اپنائے جارہے ہیں!۔سوال یہ ہے کہ اس طرح کے گنے چنے چینلوں سے اتنا خوف کیوں ہے؟ اور کیا چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے؟۔
بلاشبہ این ڈی ٹی وی کے اینکر رویش کمار اور پرنوائے رائے ہوں یا معتوب صحافتی برادری کے وہ چہرے جو اب مین اسٹریم میڈیاکی دنیا سے دور جا چکے ہیں ،لیکن ان کی بے باک صحافت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،وہ بھلانے کے لائق نہیں ہیں۔ انہوںنے جو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کیں ،اس سے ایک پورا بد عنوان طبقہ خائف رہا ہے۔ ابھی سار شرما اور پونے پرسنگ باچپئی جیسے ایماندار صحافیوں کی ’جلا وطنی ‘کی زندگی ان عناصر کے منہ پرایک طمانچہ ہے جو اپنے چینلوں کے ذریعہ بدعنوانوں کی خوشامد میں لگے رہتے ہیں اور سماج میں دن و رات زہر گھول کر ایک پارٹی کو مدد پہنچانے کا کام کرتے ہیں ،شاید یہ سلسلہ مزید دراز ہوتا جائے اور اس کا سلسلہ کبھی نا تھمے !۔اس تناظر میں اب یہی کہا جاسکتاہے کہ اب فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ آزاد بھارت میں آزاد اور ایماندار صحافت کو زندہ رکھنے میںکیا رول ادا کریںگے ۔رویش کمار کے استعفے سے جہاں ایماندار صحافت کو بڑا دھکا لگا ہے وہیںیہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اس’ ٹمٹماتی لو ‘کو بچانے کیلئے کیا تدابیر اختیار کی جائیںگی؟ موجودہ حالات کے تناظر میں اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ چوتھے ستون کو منہدم کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔












