رام پور، محمداعظم خاںسابق منسٹرکے بیٹے عبداللہ اعظم کی اسمبلی رکنیت کولیکرایک بڑافیصلہ الہٰ آباد ہائی کورٹ میںمعلق ہے۔ہائی کورٹ نے مقامی عدالت سے قصوروارقراردئے گئے عبداللہ اعظم کے معاملے میںسنوائی کافیصلہ محفوظ کررکھاہے۔سبھی کواس فیصلے کاشدّت سے انتظارہے۔ان کے وکیل نے سزا پر روک لگانے کا مطالبہ کیاہے ۔ہاںاگر ہائی کورٹ سزا پر روک لگاتی ہے تو سوار اسمبلی سیٹ سے منسوخ کئے گئے عبداللہ کی اسمبلی رکنیت واپس آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ سوار سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب سے بھی بچا جا سکتا ہے۔یہ فیصلہ کورٹ میںمعلق ہے باوجوداس کے بدھ کی صبح ایک بارپھر سوارٹانڈہ کی سیٹ پرضمنی چناؤکرانے کے تحریری احکامات سوشل میڈیاپرگشت کرنے لگے جوتشویش کاموضوع بنے۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرہیم سنگھ کے دستخطوںسے جاری حکم نامے میںبتایاگیاہے کہ آج13 اپریل کو ضمنی الیکشن کا نوٹفکیشن جاری کیاجارہاہے۔20اپریل سے پرچہ نامزدگی ، 21کو کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ،24اپریل کو واپسی،10مئی کو ووٹنگ اور 13مئی کونتائج کااعلان کیاجائے گا۔ سوال یہ ہے جب ابھی تک معاملہ ہائی کورٹ میںزیرغورہے توکس بیس پر یہ حکم نامہ مقامی طورپرجاری کیاگیاہے۔بتا دیں کہ فرضی سرٹیفکیٹ کیس میں رام پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے عبداللہ اعظم خان کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کے اعلان کے بعد عبداللہ اپنی اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ سوارمیں بھی ضمنی انتخاب کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ادھر عبداللہ کی جانب سے ہائی کورٹ میں سزا کے خلاف دائر درخواست پر سماعت بھی مکمل ہو گئی ہے ۔ پیر کو یوپی حکومت نے درخواست پر الہ آباد ہائی کورٹ میں اپنا جواب داخل کیا۔ ساتھ ہی عبداللہ کی جانب سے یہ دلیل دی گئی ہے کہ چھج لیٹ مرادآبادواقعہ جس میںان کو سزاسنائی گئی ہے اس وقت وہ نابالغ تھے۔ ہائی کورٹ میں عبداللہ اعظم کی جانب سے ایڈووکیٹ عمران اللہ اور ایڈووکیٹ خالدعدالت میں اس معاملے کولیکرپیش ہوئے تھے۔ جسٹس راجیو گپتا کی سنگل بنچ نے اب اس معاملے کی سماعت مکمل کر لی ہے اور فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ ایسے میں اگر عدالت کا فیصلہ عبداللہ اعظم کے حق میں آتا ہے اور ہائی کورٹ سزا پر روک لگاتی ہے تو عبداللہ کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔ سزا پر روک لگانے کے فیصلے سے عبداللہ اعظم کی منسوخ شدہ اسمبلی رکنیت بھی بحال ہو سکتی ہے اور سوار میں ضمنی انتخاب بھی ملتوی ہو سکتا ہے۔












