نئی دہلی،4مئی پریس ریلیز/سماج نیوز سروس : ملک کی یونانی دواساز کمپنیوں کی تنظیم ا ڈ ما (یونانی ڈرگس مینوفیکچررس ایسوسی ایشن) کے زیر اہتمام طب یونانی کے فروغ میں تعلیمی اداروں کے کردار” پر زیر صدارت حامد احمد اہم اجلاس اور عید ملن پروگرام کا انعقاد ہوا۔ پروگرام کے مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر مختار احمد قاسمی (ایڈوائزر یونانی و ڈائریکٹر جنرل سی سی آر یو ایم، وزارت آیوش حکومت ہند)۔ رہے پروگرام کا باضابطہ آغاز مقبول حسن کی تلاوت کلام اللّٰہ سے ہوا۔ افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر محمد خالد (اسسٹنٹ ڈرگ کنٹرولر ولائسنسنگ اتھاریٹی یونانی، حکومت دہلی) نے گول میز ذہن سازی سیشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی. اس اہم سیشن میں ملک کے آٹھ یونانی میڈیکل کالجوں کے تقریباً پچیس ماہرین فن اساتذہ کرام نے حصّہ لیا۔ جس میں امید ظاہر کی کہ یونانی طریقہ علاج دور جدید میں آب و تاب کے ساتھ ترقّی کی شاہراہ پر گامزن رہیگا۔ انہوں نے حاملین طِب کو اپنی ذمّہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دینے کا پیغام دیا کہ یونانی گریجویٹس یونانی کی پریکٹس کی طرف آمادہ ہوں اس کے لئے اڈما کی تحریک لائق ستائش ہے۔حکیم ظلّ الرحمن نے کہا کہ ہمیں پریکٹیکل کی طرف زیادہ توجّہ دینی چاہیئے۔طلباء کو براہ راست مفرد دوا کی شناخت اور ان کے خواص کا مکمّل علم ہونے چاہیئے۔ اجمل خان طبیہ کالج علی گڑھ کے پروفیسر بدرالدجٰی نے کہا کہ یونانی طب کا مستقبل روشن ہے۔ طلبا اور عوام الناس کے درمیان یونانی طب کی صحیح ترویج و اشاعت وقت کی اہم ضرورت ہے۔تکمیل الطب کالج لکھنوء کی نمائندگی کرتے ہو ڈاکٹر رخشندہ بیگ نے سرجری کے حوالے سے اہم گفتگو کی۔ پروفیسر عبد القوی اور پروفیسر جمال اختر نے دور حاضر کے تناظر میں نیک اور اہم مشورے دیئے۔اے اینڈ یو طبّیہ کالج، دہلی کی نمائندگی کرتے ہوئے طب یونانی کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہو بتایا کہ ہم جدید میڈیکل کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اسکول آف یونانی میڈیسن جامعہ ہمدرد، نئی دہلی کی نمائندگی کرتے ہوئے پروفیسر عاصم علی خان اور پروفیسر عارف زیدی اڈما کی انقلابی مہم میں اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ پروفیسر عرفان احمد اور پروفیسر شمیم ارشاد نے کہا کہ یونانی طبی نظریات کلاس کے دوران واضح طور پر پیش کئے جائیں اور یونانی سبجکٹ کی تعلیم پر خاص توجہ دی جائے۔طلبا کو ماہر فن اطباء کے کارناموں سے روشناس کرایا جائے تاکہ طالب علموں کے اندر یونانی طب سیکھنے اور پڑھنے کا اشتیاق پیدا کیا جا سکے۔طلباء و طالبات کو اوپی ڈی اور آئی پی ڈی میں یونانی علاج و معالجہ کے اسرار و رموز سکھائے جائیں.پروفیسر عرفان احمد نےآخری سال کے طلباء و طالبات کے ساتھ وقت وقت پر ورکشاپ کے انعقاد کی طرف توجہ دلائی۔نیشنل کمیشن اف انڈین میڈیسن سلبس کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر وسیم احمد نے کہاکہ دواساز کمپنیوں کو MR کے ذریعہ بی یو ایم ایس ڈاکٹرز کے پاس بھیج کر انہیں کسی ایک پروڈکٹ کے لکھنے اور اس کے ریزلٹ کا مشاہدہ کرنے کو کہا جائے۔ ڈاکٹر سید محمد عبّاس زیدی نے کہا یونانی کو مقبول بنائیں اور طلباء کو یونانی پریکٹس کی طرف راغب کریں ۔ڈاکٹر امجد وحید گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج، کشمیرنے کالجوں میں تدریس، علاج اور تحقیق پر توجہ مرکوز کرنے کی بات کی۔پروفیسر وسیم احمد چیئرمین نیشنل کمیشن اف یونانی میڈیسن حکومت ہند نے ا پنے خطاب میں طب یونانی کے گریجویٹ کو خالص یونانی میں پریکٹس کرنے کی بات کی اور کہا کہ اس غرض کے لئے NCISM نے نیا سلیبس تیار کرنا شروع کر دیا ہے جس میں یونانی فلسفہ کو زیادہ جگہ دی جارہی ہے۔ڈاکٹر کاشف ذکائی نے سوال کیا کہ بی یو ایم ایس والے یونانی میں پریکٹس کیوں نہیں کرتے؟ جبکہ حکیم محسن دہلوی نے اپنے تحسین آمیز کلمات سے حاضرین مجلس کا شکریہ ادا کیا۔نظامت کے فرائض پروفیسر محمد اکرم اور حکیم محسن دہلوی نے انجام دیے اس اہم سیشن کے بعد عید ملن کی تقریب منعقد ہوئی جس میں طعام شب کا پُرتکلف اہتمام کیا گیا تھا۔ اڈما کے سرکردہ اراکین محمّد عارف (پیٹرون اُڈما)، نبیل انور، سیّد منیر عظمت، محمد جلیس، ڈاکٹر مطیع اللّٰہ مجید،حکیم سید احمد خان ،حکیم امام الدین زکائی، حکیم ارباب الدّین، پرویز احمد خاں، حکیم یثمانیل عثمانی، مقبول حسن، ، ڈاکٹر خبیب بقائی، حکیم عزیر بقائی، محمّد نوشاد، وقار احمد اعجازی کے علاوہ ممبر پارلیمنٹ کنور دانش علی اور پدم شری پروفیسر اختر الواسع وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ دیگر طبّی و سیاسی شخصیّات نے بھی شرکت فرمائی۔ جس میں ڈاکر ڈی۔ سی۔ کٹوچ، ڈاکٹر اجمل اخلاق ،ڈاکٹر محتسن ،ڈاکٹر نازش احتشام ،ڈاکٹر محمد اکرم، ڈاکٹر فرحان، محمد طاہر ، ڈاکٹر کمال احمد صدیقی وغیرہ نے اس اہم اجلاس اور تقریب عید ملن کو اپنی موجودگی سے رونق بخشی۔












