کرناٹک اسمبلی انتخاب میں بجرنگ بلی کی انٹری ہو چکی ہے۔کہا تو یہی جارہا ہے کہ اس کی وجہ کانگریس کا وہ مینی فیسٹو ہے جس میں کرناٹک کے عوام سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ سرکار بننے پر نفرت پھیلانے والے شدت پسندوں پر کنٹرول کرنے کے لئے پی ایف آئی اور بجرنگ دل پر پابندی لگائی جائے گی۔اور اس نے بی جے پی کو بیٹھے بٹھائے یہ موقع دے دیا کہ وہ موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کرناٹک اسمبلی انتخاب کو فرقہ وارانہ رنگ میں رنگ دے۔
یہ سب کہنے والے بھی وہی لوگ ہیں جو سیکولر ہیں اور چاہتے ہیں کہ بی جے پی کرناٹک ہی نہیں پورے ملک کی سیاست سے دفع ہو جائے۔لیکن وہ ایک منٹ رک کر یہ سوچنے کو تیار نہیں ہے کہ کانگریس نے جس بجرنگ دل پر پابندی عائد کرنے کی بات کی ہے اور جس کو بی جے پی اپنا ایجنڈا بنانے بنا رہی ہے وہ بجرنگ دل بھارت میں کر کیا رہی ہے ؟کیا یہ سچ نہیں ہے کہ بجرنگ دل جو آر ایس کی ہی آرمی ہے اس نے ملک میں مسلمانوں کی لنچنگ کو عام کیا ؟کیا بجرنگ دل کے سیکڑوں ممبران آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں ہیں ؟کیا ملک میں برپا ہونے والے زیادہ تر فسادات میں اس کے کارکنان براہ راست ملوث نہیں ہوتے ؟کیا گؤ رکھشک بن کر بجرنگ دل کے لوگ گائے کی حفاظت کے نام پر ہزاروں کروڑ کی وصولی نہیں کرتے اور جو لوگ ان کی فیس نہیں دیتے ان کو پیٹ پیٹ کر مارنا اور پھر اس کا ویڈیو بنا کر وائرل نہیں کرتے؟جس سے ایک خاص مذہب کےلوگ دہشت زدہ نہیں ہوتے ؟کیا بجرنگ دل کے لوگوں نے لو جہاد کا شوشہ چھوڑ کر سارے ملک میں مسلمانوں کا جینا حرام نہیں نہیں کر رکھا ہے ؟کیا یہ وہی گروہ نہیں ہے جو پارکوں اور تفریحی مقامات پر چھاپہ مار دستہ بن کر نوجوان لڑکے لڑکیوں کی تفریح کو مذہبی منافرت کے رنگ میں نہیں رنگتے ؟کیا یہ بجرنگ دل کے غنڈوں کا گروہ نہیں جو ہر مذہبی جلوس میں چاہے وہ شیو کے نام پر ہو یا رام کے نام پر ہو اس میں مسلمانوں کے خلاف دھمکی آمیز نعرے نہیں لگاتے ؟کیا مزدور قسم کے روزانہ سبزی بیچ کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والے غریب مسلمانوں کے بارے میں یہ افواہ انہوں نے نہیں اڑائی کہ وہ اپنی سبزیوں اور پھلوں پر تھوک کر سودا بیچتے ہیں تاکہ ہندو گاہکوں کا دھرم بھرشٹ ہو ؟ کیا یہ وہی بجرنگ دل کے اوباش نوجوان نہیں ہیں ہیں جنہوں نے کورونا کال میں تبلیغی جماعت کے لوگوں پر کورونا پھیلانے کی سازش کا الزام نہیں لگایا ؟کیا یہ وہی تنظیم نہیں ہے جو ابھی حال ہی میں دہلی کی جہانگیر پوری بنگال اور بہار کے فسادات میں ملوث نہیں پائی گئی اور جس کے لیڈربکی جب بہار میں گرفتاری ہوئی تو بہار سمیت پورے ملک کے بی جے پی کے لیڈران یک زبان ہو کر نہیں چیخنے لگے کہ نتیش کمار کی پولیس بجرنگ دل کے لوگوں پر ظلم کر رہی ہے۔
بجرنگ دل پر شدت پسندی کو بڑھاوا دینے اور براہ راست دہشت گردی میں ملوث ہونے کے جتنے الزامات ہیں اگر اس پر ایمانداری سے کارروائی ہو تو ایک رات میں اس کے لاکھوں شہدے پورے ملک سے پکڑے جائیں۔لیکن ان سب کے باوجود ملک کے وزیر اعظم اس بجرنگ دل کو ہندوؤ ں کے بھگوان مہاویر ہنومان سے جوڑ کر انتخابی ایجنڈا بنا رہے ہیں اور بہت سارے نام نہاد سیکولر سیاسی مبصرین کانگریس پر اعتراض کر رہے ہیں کہ اس نے اپنے مینی فیسٹو میں بجرنگ دل پر پابندی عائد کرنے کی بات کر کے بیٹھے بٹھائے بی جے پی کو ایک ایجنڈا دے دیا کہ وہ کرناٹک اسمبلی انتخاب میں ہندو مسلم ایجنڈا چلائے۔میری سمجھ میں یہ بات قطعی نہیں آتی کہ اسی کرناٹک میں جب بی جے پی کا کوئی لیڈر یہ اعلان کرے کہ ہم مسلمانوں کاچار فیصد ریزرویشن کاٹ کر لنگایتوں کو دے دینگے تب وہاں ہندو مسلمان کا مدعا نہیں بنتا۔وہی لیڈر برسر عام کہے کہ ہمیں مسلمانوں کا ووٹ نہیں چاہئے تب ہندو مسلمان کا ایجنڈہ نہیں بنتا۔حجاب اور ٹیپو سلطان کو ایجنڈہ بنایا جائے تب کچھ نہیں ہوتا پی ایف آئی پر پابندی کی بات ہو تب مدعا نہیں بنتا۔لیکن جیسے ہی ایک ثابت غنڈہ گروہ پر پابندی کی بات ہو تو مدعا بن جاتا ہے۔اور ایک گودی میڈیا کی سروے ایجنسی سروے کر کے یہ بتانے لگتی ہے کہ کرناٹک میں ہارتی ہوئی بی جے پی کو اس بجرنگ دل پر پابندی کی وجہ سے لوگوں نے قبولرنا شروع کر دیا ہے اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔یقینا یہ سب ایک پروپیگنڈہ ہے۔اور ملک کے سیاسی مبصرین میں یہ دم نہیں ہے کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ نریندر مودی نے بجرنگ بلی جیسے عظیم نام کو بجرنگ دل جیسی نفرتی تنظیم سے جوڑ کر پورے ملک کے ہندوؤ ں کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔خود وزیر اعظم اس مدعے کو لے کر اتنا خوش ہیں کہ وہ انتخابی ریلی میں عوام سے یہ اپیل کر رہے ہیں کہ ووٹنگ مشین کا بٹن دباتے وقت جئے بجرنگ بلی ضرور کہیں تاکہ کانگریس کو جھٹکا لگے۔اس جملے کو سنتے ہی آپ کو امت شاہ کا وہ جملہ یاد آ گیا ہوگا جو انہوں نے دہلی میں شاہین باغ کے مظاہرین کے بارے میں کہا تھا۔حیرت تو اس پر بھی ہوتی ہے کہ 9سالوں سے مرکزی حکومت کا وزیر اعظم جو خود کہتا ہو کہ اس نے ملک میں ترقی کی گنگا بہا دی ہے کو ایک ریاست کے اسمبلی انتخاب میں بھی جہاں خود اس کی حکومت ہو مذہبی مدعے کا استعمال کرنا پڑے۔یعنی ان کے پاس اپنے دور اقتدار کا کوئی ایسا کارنامہ نہیں ہے جس سے کرناٹک کے ووٹرس کو بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کے لئے متوجہ کیا جا سکے۔
کیا کسی سروے ٹیم کی اتنی ہمت ہے کہ وہ کرناٹک سمیت پورے ملک کے ہندوؤ ں سے یہ سوال پوچھ سکے کہ بجرنگ بلی کے نام سے بجرنگ دل کے لوگوں کو جوڑ کر نریندر مودی نے دھرم کا کام کیا ہے یا ادھرم کا ؟یقینا اگر یہ سوال عام ہندوؤ ں سے کیا جئے تو سارے ملک کے ہندو اندھ بھکتوں کو چھوڑ کر نریندر مودی کو ادھرمی بتاتے نظر آئینگے۔لیکن میں جانتا ہوں کہ ایسا سروے اس ملک میں ممکن ہی نہیں ہے۔کرناٹک انتخاب کے نتائج جو بھی ہو لیکن ملک میں بزدلی کی جو روایت کھڑی ہو چکی ہے اس روایت کی موجودگی میں ملک میں جمہوریت اور سوشلزم کا ذکر بھی اب فضول لگنے لگا ہے۔نریندر مودی قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے محض نو برس میں بھارت کو پوری طرح بدل دیا ہے اور شدت پسندی میں بھی بھارت اور پاکستان ایک ساتھ کھڑے ہوچکے ہیں۔












