نئی دہلی ۔ پریس ریلیز،ہمارا سماج:جشنِ آزادی کے پر مسرّت موقع پر بزمِ فکرِ علم نے جشنِ سرفراز احمد فراز دہلوی کا بہت شاندار انعقادکیا۔ جشنِ آزادی کے حسین موقع پر معروف شاعر سرفراز احمد فراز دہلوی کو بدست صوفی گلفام، متیں امروہوی، ڈاکٹر شکیل شفائی، کوثر پروین کوثر، ماسٹر نثار احمد، خمار دہلوی، مجاز امروہوی وغیرہ کےشال اڑھائی اور سپاری سوٹ دےکر اعزاز سے نوازا۔ اِس معتبر موقع پر ایک عالیشان کل ہند مشاعرہ کا بھی انعقاد کیا گیا۔جس میں دہلی و دیش بھر سے آئے شعراء و شاعرات نے اپنا بہترین کلام پیش کیا۔ مشاعرے کی صدارت خاتون معروف شاعرہ کوثر پروین کوثر نے کی،جبکہ نظامت دانش ایوبی نے بخوبی انجام دی۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے متیں امروہوی اور مہمانِ زیوقار کی حیثیت سے خاتون شاعرہ شمع کوثر شمع، ماسٹر نثار احمد نے مشاعرے میں شرکت کی۔عالمی شہرت یافتہ شاعر و عالم ڈاکٹر شکیل شفائی سرپرست کی حیثیت سے مشاعرے میں آخیر تک موجود رہے۔جن شعراء نے اپنا کلام سنایا اُن کے نام اس طرح ہیں۔ میزبان صوفی گلفام، اعزازی معروف شاعر سرفراز احمد فراز دہلوی، متیں امروہوی، کوثر پروین کوثر۔کولکاتہ، نیّر اعظمی۔کولکاتہ، ڈاکٹر شکیل شفائی، ماسٹر نثار احمد، خمار دہلوی، شمع پروین شمع(پٹنہ بہار)، مجاز امروہوی، دانش ایوبی مجیب قاسمی، طالب سکندرآبادی، شمشاد شاد، ہاشم دہلوی، ڈاکٹر راجیش شریواستو، ڈاکٹر اُوشا شریواستو، دلشاد شاہجہانپوری، محبوب امین، نبیل بجنوری، ارون ساحب آبادی، سریندر سفر، سوز امبھیڑوی صاحب خان ساغر، وغیرہ وغیرہ۔چنندہ اشعار آپکی نظر۔ملاحظہ فرمائیں ۔
میں کسی کی بھی پرستش کا گُنہگار نہیں
تُو کسی کا بھی خدا ھوگا صنم ہے میرا
سرفراز احمد فراز دہلوی
اسقدر مایوس ہو جائیں تری رحمت سے ہم
رد ہو جانے کے ڈر سے کیا دعائیں چھوڑ دیں
ڈاکٹر شکیل شفائی
کاش کانوں میں کوئی اُن سے یہ کہ دے کوثر
دِل کو آرام بغیر اُن کے کہاں ہوتا ہے
کوثر پروین کوثر
مجاز تم بھی سمجھتے ہو ہم بھی جانتے ہیں
دیارِ علم میں کس کا وقار باقی ہے
مجاز امروہوی
زرد پتے ہیں سبھی ہر کلی مرجھائی ہے
پھر بھی دعویٰ ہے کہ گلشن میں بہار آئی ہے
ماسٹر نثار احمد
اس شر میں تم شمع کو انجان نہ سمجھو
اِس شہر میں اس کی بھی ہے پہچان ہزاروں
شمع کوثر شمع
روشنی کی جستجو میں زندگی کردی تمام
اور اجالاگھر کی الماری میں تھا رکھا ہوا
دانش ایوبی
قافلہ کیا سلامت رہیگا ضیاء
لالچی ہو گیا رہنما دیکھئے
شمشاد ضیاء
سمجھے گا نہ اب کوئی تیرے میرے رشتے کو
تصویر تیری میں نے کمرے سے ہٹا دیا ہے
دلشاد شاہجہانپوری
سچ کا انجام ہے اور کیا
دار ہے يا قفس اور بس
محبوب امیں
آنکھوں میں اپنی نیند نہ آئے تو کیا کریں
یا چھت پے لیٹ کر یوں ہی تارے گنا کریں
سوز امبھیڈوی
کئی عزیز بھی ہیں دشمنوں کے خانے میں
کہ ھو رہی ہیں خطائیں میرے نشانے میں
ارون شرما صاحبابادی
چین تب مجھے یار آیا نہیں
حال جب تک کہ اس کو سنایا نہیں
صاحب خان ساغر
بعد شعراء کے صدر مشاعرہ خاتون شاعرہ کوثر پرویں کوثر نے سرفراز احمد فراز دہلوی کو اعزازیہ دیے جانے پر صوفی گلفام کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ ایسے مخلص حضرات کا آئندہ بھی اعزاز ہونا چاہئے ۔۔ملک میں خوشحالی اور امن کے لیے دعا بھی کی گئی ۔سبھی شعراء و شاعرات کا شُکریہ ادا کیا۔ کثیر تعداد میں علاقے کے معزز لوگ مشاعرے میں آخیر تک موجود رہے۔ دیر رات بعد طعام مشاعرہ اختتام پذیر ہوا ۔












