نئی دہلی (یو این آئی) بی بی سی اور کلیکٹیو نیوز روم کی جانب سے کمیشن کی گئی ایک اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2020 کے بعد کرکٹ کے شعبے میں ہندوستانی خواتین کی شرکت دگنی ہو گئی ہے، ملک کےٰ چودہ ریاستوں میں کی گئی اس تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 15 سے 24 سال کی چار میں سے ایک نوجوان خاتون نے کھیل کو بطور کیریئر منتخب کیا جب کہ 2020 میں یہ تعداد 16 فی صد تھی۔ مطالعہ میں شامل ریاستوں میں ان خواتین کا تناسب، جو کہتی ہیں کہ وہ کرکٹ کھیلتی ہیں، 2020 میں 5 فی صد سے بڑھ کر 10 فی صد تک پہنچ گیا ۔ نوجوان خواتین کی شرکت میں مزید تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 15 سے 24 سال کی عمر کی سولہ فی صد خواتین کا کہنا ہے کہ وہ کرکٹ کھیلتی ہیں جب کہ 2020 میں یہ تعداد 6 فی صد تھی۔ سروے میں شامل ریاستوں میں خواتین کے درمیان سب سے زیادہ کھیلے جانے والے کھیل کے طور پر کرکٹ نے بھی اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ 2020 میں اس نے کبڈی کو صرف ایک حد تک پیچھے چھوڑ دیا تھا لیکن نئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ اب مضبوطی سے آگے ہے۔زیادہ تر علاقوں میں اس شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ سروے میں شامل دو ریاستوں کے علاوہ باقی سبھی ریاستوں میں کرکٹ کھیلنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اتر پردیش میں شرکت کی سطح دس گنا بڑھ گئی ہے پہلے یہ تعداد ایک فی صد تھی۔سروے میں شامل ریاستوں میں کرکٹ کی شرکت میں صنفی فرق بھی کم ہو گیا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کرکٹ کھیلنے والی ہر خاتون کے لیے تین مرد کھیل کھیلتے ہیں۔ 2020 میں یہ تناسب ایک سے پانچ تھا۔یہ مطالعہ وسیع تر تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ سروے میں شامل 26 فی صد نوجوان خواتین، جن کی عمر 15 سے 24 سال ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کھیل میں کیریئر پر غور کیا ہے، جو 2020 کی بہ نسبت 10 فی صد زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ دلچسپی تامل ناڈو (27 فی صد)، مدھیہ پردیش (19 فی صد) اور میگھالیہ (19 فی صد) میں دیکھنے کو ملی ہے۔اس سٹدی میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران ہر دو میں سے ایک شخص (51 فی صد) نے خواتین کے کھیلوں کی کوریج دیکھی۔ یہ تعداد مردوں کے کھیلوں کی کوریج دیکھنے والے لوگوں کے تناسب سے زیادہ پیچھے نہیں بلکہ 10 فی صد پوائنٹس کے اندر ہے۔ویمنز پریمیئر لیگ (سابقہ ویمنز ٹی ٹوینٹی چیلنج) کے لیے ناظرین کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ سنہ 2020 میں 15 فی صد کے بنسبت اب یہ بڑھ کر 28 فی صد ہو گئی۔ یہ تعداد اب مردوں کی لیگ کے ناظرین کے برابر پہنچنے کو ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی خواتین کھلاڑیوں کی حالیہ کامیابیوں کی اس ترقی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔سروے کے مظابق نیشنل ٹیم کے لیے اسپورٹ بنیادی وجہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ خواتین کے کھیل کی پیروی کرتے ہیں یا اس میں شرکت کرتے ہیں۔ اس کے بعد انفرادی خواتین کھلاڑیوں کو حمایت حاصل ہوتی ہے جب کہ پہلے اس کی بنیادی وجہ کھیل میں عام دلچسپی تھی۔اس سروے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بیڈمنٹن میں حصہ لینے والی خواتین میں بھی خاص طور پر پنجاب، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ مطالعہ اس ضمن میں درپیش چلینجز کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔13 فی صد خواتین جو کوئی کھیل نہیں کھیلتی ہیں وہ حفاظتی خدشات کو رکاوٹ قرار دیتی ہیں۔43 فی صد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ خواتین کا کھیل مردوں کے مقابلے کم تفریحی ہے۔ تقریباً نصف (46 فی صد) کا خیال ہے کہ کھیلوں میں خواتین کو پرکشش ہونا چاہیے، جو کہ 2020 میں 37 فی صد سے زیادہ ہے۔65 فی صد جواب دہندگان جو کھیل نہیں کھیلتے ہیں اس کی بنیادی وجہ وقت کی کمی بتاتے ہیں۔بی بی سی نیوز کے جنوبی ایشیا کے ریجنل ڈائریکٹر ٹم اوفورڈ نے کہا، ‘یہ دیکھنا حوصلہ افزا ہے کہ 2020 کے مقابلے میں زیادہ ہندوستانی خواتین کھیل کھیل رہی ہیں، اس کی پیروی کر رہی ہیں اور کھیل دیکھ رہی ہیں۔ بی بی سی کو ہمارے پلیٹ فارموں پر خواتین کی پروفائل کو بڑھانے میں مدد کرنے پر فخر ہے اور وہ ان کی کہانیاں سنانے کے لیے پرعزم ہے۔کلیکٹیو نیوز روم کی ایڈیٹر ان چیف اور شریک بانی روپا جھا نے کہا، ‘نتائج ترقی اور مسلسل چلینجز کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب کہ شرکت اور ناظرین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، دقیانوسی تصورات اور عملی چیلنجز باقی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ اعداد و شمار خواتین کھلاڑیوں کی حمایت کے لیے مزید بحث اور کارروائی کو تیز کرے گا۔ یہ مطالعہ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے درمیان عالمی تحقیق و بصیرت کی کمپنی کنٹر کے زیر انتظام ایک سروے کے نتائج پر مبنی ہے۔ محققین نے 14 ہندوستانی ریاستوں میں 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 10,000 سے زیادہ لوگوں سے آمنے سامنے (CAPI) انٹرویو کیا۔ نتائج کا موازنہ 2020 میں بی بی سی کے انڈین اسپورٹس وومن آف دی ایئر (ISWOTY) اقدام کے ایک حصے کے طور پر کیے گئے اسی طرح کے سروے سے کیا گیا، جو ہندوستانی خواتین کی کامیابیوں کا اعزاز اور جشن مناتا ہے۔












