مصر:آج جمعرات کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مصر سعودی عرب، قطر، اردن اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہو رہا ہے جس میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری بھی شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس ایک ایسے موقعے پر ہو رہا ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹونلی بلنکن خطے کے دورے پر ہیں اور وہ قاہرہ کا بھی دورہ کریں گے۔
قاہرہ میں جمع ہونے والے پانچ عرب ممالک کے وزراء خارجہ اور ’پی ایل او‘ کے سکریٹری جنرل مریکی وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ بلنکن اپنے اتحادی اسرائیل کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان غزہ میں جنگ بندی تک پہنچنے کی کوششوں پر بات چیت کے لیے مشرق وسطیٰ کے اپنے چھٹے دورے پر کل بدھ کو سعودی عرب پہنچے تھے۔ بلنکن سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد آج قاہرہ کا دورہ کرنے والے ہیں جس کے بعد وہ جمعہ کو اسرائیل کا دورہ کریں گے۔
قاہرہ اجلاس کے موقعے پر چھ عرب ممالک کے وزرائے خارجہ ایک جامع علاقائی امن منصوبے کے لیے ایک عرب وژن پر بات کریں گے۔باخبر فلسطینی ذریعے نے الشرق الاوسط کو بتایا کہ "یہ منصوبہ عرب امن اقدام پر مبنی ہے”۔ ذرائع کے مطابق نئی فلسطینی حکومت کی تشکیل جنگ کے خاتمے سے قبل فلسطینیوں کی اندرونی صورت حال کو ترتیب دینے پر مبنی وژن کا حصہ ہے،تاکہ اتھارٹی غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکے اور اس کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عملی پیش رفت کی جا سکے۔بدھ کے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی وزیر خارجہ سے جدہ میں ملاقات کے دوران غزہ کی پٹی اور اس کے اطراف میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
’ایس پی اے‘ کے مطابق ملاقات کے دوران غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن روکنے اور انسانی نقصانات روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ مشترکہ مفاد کی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں پیش رفت کے علاوہ دو طرفہ تعلقات اور مشترکہ تعاون کے شعبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
العربیہ اور الحدث چینلز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ واشنگٹن حماس سے نمٹنے کے متبادل طریقوں کا مطالعہ کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "حماس کی وجہ سے فلسطینیوں کو بہت زیادہ مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان کا جانی نقصان ہوا ہے‘‘۔












