امریکی اسکول کے طلبہ سعودی عربیہ سمیت وہ تمام ممالک جو دوسرے ” ہولو کاسٹ ” یعنی کہ اسرائیل کے ذریعہ حماس کی آڑ میں معصوم فلسطینی شہریوں کی نسل کشی پر خاموش ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے ہیں – لیکن جب امریکہ انھیں کہتا ہے ۔۔”چلو اٹھو ! وقت ہوا چاہتا ہے _ اٹھو! اور گھنٹی بجادو! تاکہ تمھارے ملک کے بچے( احتجاجی عوام ) گھنٹی کی آواز سن کر تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوجائیں -اور اسرائیل راحت محسوس کرے -نئ توانائی کے ساتھ فلسطین کو نیست ونابود کرتا رہے –
سعودی عرب کے شاہ سے لےکر ترکی کے طیب اردوغان تک سبھی باری باری گھنٹی بجانے لگتے ہیں ۔۔
مصر رفاہ کی راہدری کھولتا ہے ، لیکن اسرائیل کو تیل دینا بند نہیں کرتا ، قطر ثالثی کرتا ہے – لیکن سفارتی رشتہ اسرائیل سے برقرار رکھے ہوئے ہے – سعودی عرب فلسطین کو چند ملین ڈالر کی امداد کی تسلی دیتا ہے_ لیکن اسرائیل کا حملہ رکوانے کی ہمت نہیں کرتا -ٹرکی کہتا ہے ، اسرائیل کا پاگلپن بند ہونا چاہیے ، مگر اسرائیل کے ساتھ کاروباری رشتے پر آنچ نہیں آنے دیتا
ایران ان سبھوں میں ذرا زیادہ زور شور سے گھنٹی نہیں بلکہ "گھنٹا "بجاتا ہے تو اس لیے کہ امریکہ کے "سر میں درد” ہونا چاہئے
رؤس کے حملے میں ہلاک شدگان یوکرین کے پانچ سو پینتالیس ( خیال رہے کہ یہ ہلاکت ڈیڑھ سال کی مدت میں ہوئی ہے جب کہ فلسطین میں صرف ایک مہینے کے اندر تین ہزار سے زائد بچے شہید کیے گئے )یوکرین کے بچوں کے لیے جس امریکہ "کے دل میں دردہوا ” فلسطین کے تین ہزار سے زائد بچوں کی ہلاکت پر امریکہ کے سر میں درد تو دور اس کی پیشانی پہ بل بھی نہیں پڑتا ۔۔ تب ایران سوچتاہے گھنٹا بجا کر ہی درد پیدا کیا جائے _
ویسے ایران کے بازوؤں کی طاقت کا اندازہ امریکہ کو خوب ہے ۔ پر نہیں، لیکن طاقت پرواز رکھتا ہے –
ایران اس بات پر خوش کہ میرے "گھنٹا "بجانے سے امریکی صدر کے سر میں درد ہونا میری کامیابی ہے –
اور امریکہ اس قدر درد میں مبتلا ہوتا ہے کہ جدید اسلحہ” آن کی آن” مصر کے راستے اسرائیل پہونچا دیتا ہے – لیکن مصر کو دیکھیں! اسے پیاسے بھوکے فلسطینی بچوں پر ذرا بھی ترس نہیں آتا کہ امریکہ پر دباؤ ڈالے، اسرائیل کو اسلحہ اس شرط پر پہنچاتا کہ جب تک ‘ محصور فلسطینی کے لیے آب ودانہ ‘پہونچانے کی اجازت امریکہ نہیں دیتا ۔مگر سب گھنٹی بجانے پر مامور ہوچکے ہیں – حتی کہ اقوامِ متحدہ بھی ۔۔جس طرح120ممالک نے مل کر فوراً جنگ بندی کے لیے قرارداد پیش کیا ۔خیال رہے کہ 45ممالک غیر حاضر رہے ۔۔ان میں اپنا ملک ہندستان بھی ہے ۔۔دراصل وزیر اعظم پیچھے کیسے رہتے ۔انھیں بھی انتخابات جیتنا ہے- لہذا مودی نے بھی گھنٹی بجادی ۔۔ہندو مسلم نہ سہی مسلم اور یہودی تو ہیں ۔ مظلوم کا ساتھ ظالم دے نہیں سکتا ۔ظالم کے ساتھ ظالم ہی کھڑا ہوسکتا ہے –
اس قراد کو جس طرح اپنے پیروں تلے امریکہ ویٹو کرتا ہے – اسرائیل اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو عہدے سے معزول کرنے کی بات کرتاہے – اس کی جگہ اگر مسلم ممالک کا کوئی بھی رہنما مذکورہ ردعمل کا اظہار کرتا تو اس پر پوری دنیا چڑھ دوڑتی ۔۔
اگر چہ جنگی اسکول کا ہیڈ ماسٹر امریکہ مانا جاتا ہے -لیکن پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کا بھی کوئی استاد ہے ۔اور وہ استاد امریکہ کی "یہودی لابی” ہے جس کے ہاتھوں میں امریکہ کی معشیت ہی نہیں وہاں کے صدارت کی کنجی بھی ہے_
کرسی /صدارت /کچھ بھی کہہ لیں ناممختلف ہوسکتے ہیں لیکن حکومت کی سربراہی کے مناصب سبھی کو عزیز تر ہیں ۔۔نتن یاہو ہوں ، ولادیمیر پوتن، شاہ سلیمان ، طیب اردوغان وغیرہ وغیرہ سب کی ‘دکھتی رگ, اقتدار ہے ۔ اور یہ اقتدار کی کرسی عوام کے خون سے رنگی ہوئی ہے ۔۔جنگ کہیں بھی ہو رہنما محفوظ رہتے ہیں ۔۔ہلاکت عوام کی ہوتی ہے ۔۔
پوتن نے یوکرین کو تختہ مشق بنایا ۔تو بینجمن نتن یاہو نےفلسطین کو ۔۔۔
نتن یاہو کو حماس کے حملے کی خبر تھی ، لیکن یہ دانستہ اس خبر سے بےخبر رہا تاکہ حماس کی آڑ میں اپنی ساکھ بچانے کی راہ دستیا ب کر لے۔۔ جسے بیٹھے بٹھائے حماس نے مہیا کردیا – جس کے متعلق اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے بھی کہا – حماس کی کاروائی اچانک نہیں ہوئی – بلکہ پچھترسالوں کی اسرائیلی حکومت کے ظلم و تشدد کا "رد عمل” ہے _ ان کا یہ بیان ذو معنی ہیں ۔۔دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ حماس اپنے آپ میں ایک عسکریت پسند تنظیم ہے ۔۔میرا ماننا کہ یہ عسکریت پسند نہیں بلکہ اپنے ملک وقوم کے جانباز اور امن پسند سپاہی ہیں
حالانکہ اسے اسرائیل نے ہی کھڑا کیا ہے ۔فلسطین حکومت کے خلاف جس طرح امریکہ نے طالبان کو تیار کیا تھا افغان میں کیمونسٹ حکومت کے خلاف ۔۔نتیجہ دنیا نے دیکھ لیا –
بہر حال ! اسرائیل کا دیرینہ منصوبہ ہے کہ غزہ کو دنیا کے نقشے سے مٹادیا جائے _ جسے نتن یاہو اپنی سربراہی میں انجام دینا چاہتا ہے – تاکہ اسرائیلی عوام کی نظر میں” سپر ہٹ ہیرو ” بننے کا ڈراما کی اسکرپٹ اس نے خود لکھی ہے –
ہیرو بننے کی ہشیاری میں ان کی ساکھ مزید گرچکی ہے – جنگ بندی کے فوراً بعد اسرائیل کے عوام انھیں حکومت سے بےدخل کرکے ہے دم لیں گے – یہ بالکل طے ہے –
دنیا جانتی ہے کہ امریکہ و یورپ شروع سے "شب کوری”( Nyctalepia)
کے مرض میں مبتلا ہے- اسے دنیا کی تمام قوموں حتی کہ حیوانات پہ ہورہے ظلم وستم نظر آتے ہیں سوائے مسلمان قوم کے ۔۔۔ اسے یوکرین، اسرائیل کا معمولی سا نقصان بھی بہت بڑا نظر آتا ہے – لیکن فلسطین کا عظیم جان ومال زیاں بالکل دکھائی نہیں دیتا –
فلسطین کے 35فیصد رہائشی مکانات زمین بوس کردیئے گئے ، طبی، تعلیمی اداروں کے علاوہ مذہبی عمارات ہیں سو الگ ۔۔۔۔ ایک گھر بنانے میں عمر بیت جاتی ہے – بستیاں بسانے میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے اندازہ کرلیں ۔۔۔
کسی بھی انسانی حقوق کے ایک بھی نمائندے نے یہ آواز ابتک بلند نہیں کی_ کہ اسرائیل نے جن کا گھر بار مسمار کیا ۔۔پورےاسرائیلی عوام کی ذمے داری ہے کہ عام معصوم شہری کی تباہی وبربادی کا ازالہ حکومت کے خزانے سے کروائے ! انسانی ہمدردی یا خیر سگالی کی بنیاد پر اخلاقی فرض ہے – اسرائیل کے سنجیدہ طبقوں کا _
اس لیے کہ امریکہ میں فلسطینی معصوم نہتے عوام (ایسی حکومت کے عوام جن کے پاس اپنی پولیس تک نہیں) کی حمایت میں مظاہرہ کرنے سے بات نہیں بننے والی
اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے مابین بغض و نفاق کی دیواریں٫ سیاسی حکمرانوں نے کھڑی کردی ہیں – ان دیواروں میں دراڑ پڑ جائے
ان میں ایک بھی یہودی امن پسند نہیں ۔۔۔؟ یا یہ بھی عرب حکمرانوں کی مانند گھنٹی بجا رہے ہیں ؟
یاد رکھیں جلد یا بدیر ان کی بھی گھنٹیاں کوئی نہ کوئی بجا دے گا –
ناٹو فوج نے صرف غریب اور مسلم ممالک تباہ و برباد کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے؟ – کسی تباہ حال ملک نہتے معصوم کی باز آباد کاری کون کرے گا ؟
ترقی یافتہ مہذب ممالک کی جودھراہٹ منافقت سے مملو پالیسی جنگجو قبائلی کے دستور سے بدتر ہے –
یہ بات پوری دنیا کو مان لینی چاہئے !
___________________
Jabeen Nazan @gmail.com
سعودی عرب کے شاہ سے لےکر ترکی کے طیب اردوغان تک سبھی باری باری گھنٹی بجانے لگتے ہیں ۔۔
مصر رفاہ کی راہدری کھولتا ہے ، لیکن اسرائیل کو تیل دینا بند نہیں کرتا ، قطر ثالثی کرتا ہے – لیکن سفارتی رشتہ اسرائیل سے برقرار رکھے ہوئے ہے – سعودی عرب فلسطین کو چند ملین ڈالر کی امداد کی تسلی دیتا ہے_ لیکن اسرائیل کا حملہ رکوانے کی ہمت نہیں کرتا -ٹرکی کہتا ہے ، اسرائیل کا پاگلپن بند ہونا چاہیے ، مگر اسرائیل کے ساتھ کاروباری رشتے پر آنچ نہیں آنے دیتا
ایران ان سبھوں میں ذرا زیادہ زور شور سے گھنٹی نہیں بلکہ "گھنٹا "بجاتا ہے تو اس لیے کہ امریکہ کے "سر میں درد” ہونا چاہئے
رؤس کے حملے میں ہلاک شدگان یوکرین کے پانچ سو پینتالیس ( خیال رہے کہ یہ ہلاکت ڈیڑھ سال کی مدت میں ہوئی ہے جب کہ فلسطین میں صرف ایک مہینے کے اندر تین ہزار سے زائد بچے شہید کیے گئے )یوکرین کے بچوں کے لیے جس امریکہ "کے دل میں دردہوا ” فلسطین کے تین ہزار سے زائد بچوں کی ہلاکت پر امریکہ کے سر میں درد تو دور اس کی پیشانی پہ بل بھی نہیں پڑتا ۔۔ تب ایران سوچتاہے گھنٹا بجا کر ہی درد پیدا کیا جائے _
ویسے ایران کے بازوؤں کی طاقت کا اندازہ امریکہ کو خوب ہے ۔ پر نہیں، لیکن طاقت پرواز رکھتا ہے –
ایران اس بات پر خوش کہ میرے "گھنٹا "بجانے سے امریکی صدر کے سر میں درد ہونا میری کامیابی ہے –
اور امریکہ اس قدر درد میں مبتلا ہوتا ہے کہ جدید اسلحہ” آن کی آن” مصر کے راستے اسرائیل پہونچا دیتا ہے – لیکن مصر کو دیکھیں! اسے پیاسے بھوکے فلسطینی بچوں پر ذرا بھی ترس نہیں آتا کہ امریکہ پر دباؤ ڈالے، اسرائیل کو اسلحہ اس شرط پر پہنچاتا کہ جب تک ‘ محصور فلسطینی کے لیے آب ودانہ ‘پہونچانے کی اجازت امریکہ نہیں دیتا ۔مگر سب گھنٹی بجانے پر مامور ہوچکے ہیں – حتی کہ اقوامِ متحدہ بھی ۔۔جس طرح120ممالک نے مل کر فوراً جنگ بندی کے لیے قرارداد پیش کیا ۔خیال رہے کہ 45ممالک غیر حاضر رہے ۔۔ان میں اپنا ملک ہندستان بھی ہے ۔۔دراصل وزیر اعظم پیچھے کیسے رہتے ۔انھیں بھی انتخابات جیتنا ہے- لہذا مودی نے بھی گھنٹی بجادی ۔۔ہندو مسلم نہ سہی مسلم اور یہودی تو ہیں ۔ مظلوم کا ساتھ ظالم دے نہیں سکتا ۔ظالم کے ساتھ ظالم ہی کھڑا ہوسکتا ہے –
اس قراد کو جس طرح اپنے پیروں تلے امریکہ ویٹو کرتا ہے – اسرائیل اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو عہدے سے معزول کرنے کی بات کرتاہے – اس کی جگہ اگر مسلم ممالک کا کوئی بھی رہنما مذکورہ ردعمل کا اظہار کرتا تو اس پر پوری دنیا چڑھ دوڑتی ۔۔
اگر چہ جنگی اسکول کا ہیڈ ماسٹر امریکہ مانا جاتا ہے -لیکن پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کا بھی کوئی استاد ہے ۔اور وہ استاد امریکہ کی "یہودی لابی” ہے جس کے ہاتھوں میں امریکہ کی معشیت ہی نہیں وہاں کے صدارت کی کنجی بھی ہے_
کرسی /صدارت /کچھ بھی کہہ لیں ناممختلف ہوسکتے ہیں لیکن حکومت کی سربراہی کے مناصب سبھی کو عزیز تر ہیں ۔۔نتن یاہو ہوں ، ولادیمیر پوتن، شاہ سلیمان ، طیب اردوغان وغیرہ وغیرہ سب کی ‘دکھتی رگ, اقتدار ہے ۔ اور یہ اقتدار کی کرسی عوام کے خون سے رنگی ہوئی ہے ۔۔جنگ کہیں بھی ہو رہنما محفوظ رہتے ہیں ۔۔ہلاکت عوام کی ہوتی ہے ۔۔
پوتن نے یوکرین کو تختہ مشق بنایا ۔تو بینجمن نتن یاہو نےفلسطین کو ۔۔۔
نتن یاہو کو حماس کے حملے کی خبر تھی ، لیکن یہ دانستہ اس خبر سے بےخبر رہا تاکہ حماس کی آڑ میں اپنی ساکھ بچانے کی راہ دستیا ب کر لے۔۔ جسے بیٹھے بٹھائے حماس نے مہیا کردیا – جس کے متعلق اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے بھی کہا – حماس کی کاروائی اچانک نہیں ہوئی – بلکہ پچھترسالوں کی اسرائیلی حکومت کے ظلم و تشدد کا "رد عمل” ہے _ ان کا یہ بیان ذو معنی ہیں ۔۔دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ حماس اپنے آپ میں ایک عسکریت پسند تنظیم ہے ۔۔میرا ماننا کہ یہ عسکریت پسند نہیں بلکہ اپنے ملک وقوم کے جانباز اور امن پسند سپاہی ہیں
حالانکہ اسے اسرائیل نے ہی کھڑا کیا ہے ۔فلسطین حکومت کے خلاف جس طرح امریکہ نے طالبان کو تیار کیا تھا افغان میں کیمونسٹ حکومت کے خلاف ۔۔نتیجہ دنیا نے دیکھ لیا –
بہر حال ! اسرائیل کا دیرینہ منصوبہ ہے کہ غزہ کو دنیا کے نقشے سے مٹادیا جائے _ جسے نتن یاہو اپنی سربراہی میں انجام دینا چاہتا ہے – تاکہ اسرائیلی عوام کی نظر میں” سپر ہٹ ہیرو ” بننے کا ڈراما کی اسکرپٹ اس نے خود لکھی ہے –
ہیرو بننے کی ہشیاری میں ان کی ساکھ مزید گرچکی ہے – جنگ بندی کے فوراً بعد اسرائیل کے عوام انھیں حکومت سے بےدخل کرکے ہے دم لیں گے – یہ بالکل طے ہے –
دنیا جانتی ہے کہ امریکہ و یورپ شروع سے "شب کوری”( Nyctalepia)
کے مرض میں مبتلا ہے- اسے دنیا کی تمام قوموں حتی کہ حیوانات پہ ہورہے ظلم وستم نظر آتے ہیں سوائے مسلمان قوم کے ۔۔۔ اسے یوکرین، اسرائیل کا معمولی سا نقصان بھی بہت بڑا نظر آتا ہے – لیکن فلسطین کا عظیم جان ومال زیاں بالکل دکھائی نہیں دیتا –
فلسطین کے 35فیصد رہائشی مکانات زمین بوس کردیئے گئے ، طبی، تعلیمی اداروں کے علاوہ مذہبی عمارات ہیں سو الگ ۔۔۔۔ ایک گھر بنانے میں عمر بیت جاتی ہے – بستیاں بسانے میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے اندازہ کرلیں ۔۔۔
کسی بھی انسانی حقوق کے ایک بھی نمائندے نے یہ آواز ابتک بلند نہیں کی_ کہ اسرائیل نے جن کا گھر بار مسمار کیا ۔۔پورےاسرائیلی عوام کی ذمے داری ہے کہ عام معصوم شہری کی تباہی وبربادی کا ازالہ حکومت کے خزانے سے کروائے ! انسانی ہمدردی یا خیر سگالی کی بنیاد پر اخلاقی فرض ہے – اسرائیل کے سنجیدہ طبقوں کا _
اس لیے کہ امریکہ میں فلسطینی معصوم نہتے عوام (ایسی حکومت کے عوام جن کے پاس اپنی پولیس تک نہیں) کی حمایت میں مظاہرہ کرنے سے بات نہیں بننے والی
اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے مابین بغض و نفاق کی دیواریں٫ سیاسی حکمرانوں نے کھڑی کردی ہیں – ان دیواروں میں دراڑ پڑ جائے
ان میں ایک بھی یہودی امن پسند نہیں ۔۔۔؟ یا یہ بھی عرب حکمرانوں کی مانند گھنٹی بجا رہے ہیں ؟
یاد رکھیں جلد یا بدیر ان کی بھی گھنٹیاں کوئی نہ کوئی بجا دے گا –
ناٹو فوج نے صرف غریب اور مسلم ممالک تباہ و برباد کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے؟ – کسی تباہ حال ملک نہتے معصوم کی باز آباد کاری کون کرے گا ؟
ترقی یافتہ مہذب ممالک کی جودھراہٹ منافقت سے مملو پالیسی جنگجو قبائلی کے دستور سے بدتر ہے –
یہ بات پوری دنیا کو مان لینی چاہئے !
___________________
Jabeen Nazan @gmail.com
ReplyReply to allForward |












