محمد سیف اللہ
رکسول،23؍مئی ،پریس ریلیز،ہمارا سماج: پورا ملک اس وقت پارلیمانی انتخابات کے ہنگامی دور سے گزر رہا ہے پانچ مرحلے کی ووٹنگ کے بعد 25 مئی کو چھٹے مرحلے میں ملک بھر کی 57 سیٹو ں پر ووٹنگ ہوگی،انڈیا اور این ڈی اے اتحاد کے اپنے اپنے دعوے کے بیچ اونٹ کس کڑوٹ بیٹھے گا اس کے بارے میں اگرچہ کسی طرح کی کوئی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی مگر تجزیہ نکاروں کی مانیں تو اس مرتبہ کا رزلٹ پچھلے انتخابات کے مقابلے کئی لحاظ سے متخلف ہو سکتا ہے ،کہنے کو تو این ڈے اتحاد تیسری مرتبہ اپنی جیت کو لے کر بڑے بڑے دعوے کر رہا ہے اور اب کی پار چار سو پار سمیت کئی الیکشنی نعرے میدان میں گردش کر رہے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ شاید یہ پہلا موقع ہے جب انتخابی میدان میں اترے این ڈی اے اتحاد کو جگہ عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کی تعمیر وترقی اور عوامی مفادات کی بجائے مذہبی جذبات کے سہارے اقتدار تک پہنچنے کی کوشش اس اتحاد میں شامل افراد کی پہلی ترجیح بن گئی ہے،بتادیں کہ اس چھٹے مرحلے میں بہار کے مغربی چمپارن کے بتیا پارلیمانی سیٹ پر بھی ووٹنگ ہونی ہے جہاں سے این ڈی اے کے امیدوار ڈاکٹر سنجئے جیسوال اور انڈیا اتحاد کی طرف سے مدن موہن تیواری سمیت کئی امیدوار آمنے سامنے ہیں،چونکہ اس سیٹ پر پہلے سے ہی سنجئے جیسوال کا قبضہ ہے اس لئے وہ پھر سے اس سیٹ پر اپنی دعوے داری مضبوط مان رہے ہیں اور ان کی حد سے بڑھی خود اعتمادی نے ان کو ساتویں آسمان تک پہونچا دیا ہے، لیکن اس کے برخلاف اگر بات زمینی سچائی کی کریں تو ان کے یہ دعوے کسی بھی طرح حقیقت سے میل کھاتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اس لئے انہیں اس بار نہ صرف کئی طرح کے آزمائشی دور سے گزرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے بلکہ قدم قدم پر انہیں عوام کی جانب سے کئے جانے والے ایسے سوالات کا بھی سامنا ہے جن کا جواب دیئے بغیر وہ خود کو عوام کے بیچ جانے کی ہمت نہیں جٹا سکتے،چونکہ اس وقت پورا ملک مہنگائی،بے روزگاری اور عدم تحفظ کے جس بھیانک دور سے گزر رہا ہے اس سے اس سرحدی خطے کو الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے،ان سب کے علاوہ یہاں کے لوگوں کو زندگی کے ان بنیادی مسائل کا سامنا بھی ہے جن کی سنگینی نے ان کے چہرے کی خوشیاں چھین لی ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں کے دوران یہاں کی ترقی وخوشحالی کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے رہے ہیں لیکن یہاں کے لوگ ترقی وخوشحالی کے اصل احساس سے ابھی تک محروم ہیں،اسی کا نتیجہ کہ مرکزی حکومت کے تمام تر دعووں اور انتخابی وعدوں کے باوجود اس بار مغربی چمپارن کا سیاسی ماحول نہ صرف کافی بدلا بدلا سا دکھائی دے رہا ہے بلکہ کئی برادریوں کی این ڈی اے سے دوری اور مشرکہ طور پر ان کے این ڈی اے کو ووٹ نہ دینے کے فیصلے نے بھی یہاں کے مقابلے کو بے حد دلچسپ بنا دیا ہے اور تازہ رپورٹ کے مطابق رکسول اسمبلی حلقہ کے سابق ممبر اسمبلی ڈاکئر اجئے کمار سنگھ کی جو ناراضگی پچھلے دنوں سامنے آئی ہے وہ این ڈی اے امیدوار کی نیا ڈبو سکتی ہے ،سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر صورت حال یہی رہی تو ڈاکٹر سنجئے جیسوال کا اس سیت کو پھر سے جیتنے کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے اور ان کا کوئی بھی داو ان کو جیت کی دہلیز تک نہیں لے جاسکتا۔












