لندن، (یو این آئی) برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے جمعہ کے روز کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد المبارک الصباح کے ساتھ فون پر گفتگو کی۔ اس دوران کویت میں برطانیہ کے "ریپڈ سینٹری” فضائی دفاعی نظام کی تعیناتی کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔برطانیہ کے وزیر اعظم کے دفتر ڈاؤننگ اسٹریٹ نے بتایا کہ مسٹر اسٹارمر نے کویتی آئل ریفائنری پر رات بھر ہونے والے ڈرون حملے کی مذمت کی۔ دونوں رہنما آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں پر مل کر کام کرنے پر بھی متفق ہوئے۔ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان کے مطابق مسٹر اسٹارمر نے دہرایا کہ برطانیہ، کویت اور خلیج میں اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔” انہوں نے کہا کہ یہ فضائی دفاعی نظام "خطے میں کویتی اور برطانوی عملے اور مفادات کا تحفظ کریں گے اور ساتھ ہی صورتحال کو وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے بھی روکیں گے۔آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے باعث عالمی سمندری نقل و حمل میں جاری خلل کے حوالے سے مسٹر اسٹارمر اور ولی عہد نے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے عملی منصوبے پر کل وزیر خارجہ کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ کا خیرمقدم کیا۔”یہ پیش رفت برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے منگل کے روز بتایا تھا کہ حملوں کے خلاف کویت کے دفاع میں مدد کے لیے ریپڈ سینٹری” فضائی دفاعی میزائل نظام کویت پہنچ چکا ہے۔کویتی حکام نے بتایا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے 35ویں دن ایک ایرانی حملے میں ایک بجلی اور ڈی سیلینیشن (نمکین پانی کو میٹھا بنانے والے) پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم نقصان کی حد ابھی واضح نہیں ہے کیونکہ خلیجی ممالک مسلسل شدید جوابی حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "کونا” کی رپورٹ کے مطابق یہ حملہ مینا الاحمدی آئل ریفائنری پر صبح سویرے ہونے والے ڈرون حملوں کے چند گھنٹوں بعد ہوا۔












