ریاست ہریانہ کے بھوانی سے ایک بے حد دل دہلادینے والی خبر سامنے آئی ہے۔دو نوں مسلم نوجوانوں کی ایک گاڑی میں جلی ہوئی حالت میں لاشیں ملی ہیں ۔ لاشیں مسخ شدہ حالت میں تھیں ۔اہل خانہ کا دونوں نوجوانوں کو جو کہ آپس میں دوست بتائے جاتے ہیں ،کو اغوا کرنے کا الزام ہے ۔ الزام یہ ہے کہ دونوں کو پہلے اغوا کیا گیا اور اس کے بعد زندہ جلا دیاگیا ،جبکہ پولس اس الزام کی تردید کررہی ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں یہی لگتا ہے کہ گاڑی میں خود ہی آگ لگی ہے ۔کنبہ کے لوگوں نے نوجوانوں کی موت کے لئے بجرنگ دل کے پانچ لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔اب اس معاملے میں بھرت پور پولس مزید تفتیش کررہی ہے اور پانچ لوگوں کے خلاف قتل اور اغوا کا مقدمہ درج کر کے تفتیش میں مصروف ہوگئی ہے۔ متوفیان میں سے ایک کے بارے میںپولس کا الزام ہے کہ وہ مبینہ طور سے گئو کشی کے معاملوں میں ملوث تھا ۔ادھر جن لوگوں کے خلاف ناصر اور جنید کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ان کا تعلق ایک ہندو تنظیم سے بتایا جارہا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ جنید اور ناصر پندرہ فروری سے لاپتہ بتائے گئے تھے اور ان کی پولس میں اطلاع درج کرا ئی گئی تھی ۔ بہر حال آج متوفی جنید اور ناصر کی پوسٹمارٹم کے بعد آخری رسومات تو ادا کر دی گئیں لیکن اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گئی۔بڑا سوال یہ ہے کہ ان کو کیوں قتل کیا گیا؟۔
اہل خانہ سمیت پورے علاقہ میں ماحول بے حد غمگین ہے اور کنبہ کے لوگ انصاف کے منتظر ہیں ۔ان کا پولس سے مطالبہ ہے کہ وہ مجرموں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے اور انہیں جلد گرفتار کرے ۔بہر حال ،ہریانہ اور راجستھان میں گائے کی مبینہ اسمگلنگ اور گئو کشی کے الزام کے تحت مارپیٹ کے ماضی میں اکا دکا واقعات ضرور سامنے آتے رہے ہیں لیکن پچھلے سات آٹھ سالوں میں ان میں بے تحاشہ طریقہ سے اضافہ ہوا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ ایک شدت پسند گروہ اس میں پوری طرح سرگرم ہے جو گئو کشی اور اس کی اسمگلنگ کا الزام لگا کر گائے اور بھینسوں کا کاروبار کرنیو الوں سے نہ صرف مویشی چھیننے کا دھندا کرتا ہے بلکہ سنگین الزام لگا کر ان کو قتل کردینے کی حد تک مار پیٹ کرتا ہی یہاں تک کہ اس کی موت ہوجاتی ہے !۔نوجوانوں کی اس طرح بے دردی سے لنچنگ کے واقعات کا ہریانہ اور راجستھان کا ماضی گواہ بنا رہا ہے ۔
بھوانی کے واقعہ نے گزشتہ لنچنگ کے بہت سے دردناک واقعات کی یاد تازہ کر دی ہے ۔جب پہلو خان اور رکبر پر گائو کشی اور اسمگلنگ کے الزامات لگا کر ان کا قتل کر دیا گیا تھا ۔پہلو خان کے ملزمان اب ضمانت پر ہیں ان کا کیس ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ رکبر جس کو غنڈوں نے پیٹ کرمردہ حالت میں پولس کو سونپ دیا تھا ،کے قتل کے مجرمان ابھی پولس کسٹڈی میں ہی ہیں۔وہیں جنید کی لنچنگ کا وہ واقعہ بھی تازہ ہو جاتا ہے جسے کچھ لڑکوںنے چاقو سے حملہ کر کے ایک ٹرین کے کوچ سے باہر پھینک دیا تھا ۔اس معاملے میں کچھ ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے ۔تازہ معاملہ میں اگر چہ موقع واردات سے گائو کشی یا اسمگلنگ کا کوئی اینگل نہیں سامنے آیا ہے ،اسلئے یہ دیکھنا اور زیادہ ضروری ہوگا کہ قتل کا مقصد کیا ہے اور دونوں کو کیوں جلا کر مار دیا گیا۔راجستھان اور ہریانہ کی پولس کو اس کیس کی جانچ میںایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہئے۔اور ایماندارانہ تفتیش کرنی چاہئے۔ اس طرح کے واقعات مہذب سماج پر ایک بدنما داغ ہیں ۔اس معاملے پرکسی طرح کی سیاست نہیں ہونی چاہئے بلکہ ایک ذمہ داری اور فرض سمجھتے ہوئے انصاف دلانے کی کوشش ہونی چاہئے ۔نہ صرف یہ معاملہ ایک سنگین جرم ہے بلکہ اس نے پورے علاقہ میں دہشت پیدا کرنے کا کام کیا ہے ۔یہ ایک کھلی دہشت گردی اور غنڈہ گردی کے مترادف ہے ۔












