دیوبند، دیوبند کے قریبی گاؤں بھائیلہ میں باباصاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکرکامجسمہ نصب کرنے کے معاملہ کو لے کرپسماندہ ذاتوں اورٹاکر سماج کے لوگوں کے درمیان کشیدگی پیداہوگئی ، اس معاملہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس افسران موقع پرپہنچ گئے اور انہوں نے دونوں طرف کے لوگوں کوسمجھا بجھا کرخاموش کیا۔ تفصیل کے مطابق بھائلہ گاؤں میں اس وقت دو طبقوں کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی جب رویداس مندر کے احاطہ میں باباصاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈ کرکامجسمہ نصب کردیاگیا ۔ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کے پیش نظر بڑی تعداد میں پولیس فورس گاؤں پہنچ گئی ۔ دیوبند کے ایس – ڈی – ایم سنجیوکمار ، سی- او – رام کرم سنگھ اور کوتوالی انچارج ہردیہ ناراین سنگھ کو ٹاکر سماج کے لوگوں نے بتایا کہ بغیر اجازت لئے رات کے وقت مجسمہ لگادیاگیا۔ بعد ازاں افسران نے دلت سماج کے لوگوں کوبتایا کہ انہوں نے اجازت لئے بغیر مجسمہ نصب کر لیاہے اسی لئے مجسمہ کو فوراً ہٹایاجائے ۔ ایس – ڈی – ایم سنجیو کمار نے بتایا کہ انتظامیہ سے اجازت لئے بغیر مجسمہ لگایا جارہاتھا ۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال مجسمہ کوہٹالیا گیا ہے ۔ افسران نے دونوں فریقوں کے لوگوں کو سمجھا بجھاکر پر امن رہنے کی نصیحت کی ۔ افسران کا کہناہے کہ بغیر اجازت کے مجسمہ کو نصب نہیں کیا جاسکتاہے۔












