امریکہ :امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی کا ایک جملہ ان پر بھاری ثابت ہوا اور اس جملے پر انہیں صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا سائٹس جان کربی کے کلپس سے بھری پڑی ہیں، جن میں امریکی صحافیوں کے سوالات ہیں۔ لوگ ان سے پوچھ رہے ہیں کہ اسرائیل نے کون سی ’’سرخ لکیریں‘‘ عبور نہیں کیں؟۔
غزہ کے جنوبی شہر رفح میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کے بارے میں جب جان کربی سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ رفح میں اسرائیلی کارروائی صدر کی مقرر کردہ ’ریڈ لائن‘ کی خلاف ورزی نہیں‘۔
ایک ویڈیو میں صحافی ایڈ او کیف امریکی قومی سلامتی کے مشیرسے اسرائیلی حملے کے بارے میں پوچھا کہ ’اتوار کی رات رفح کے مغرب میں المواصی میں السلام کیمپ کو نشانہ بنایا حالانکہ پورا علاقہ گنجان آباد ہے تو یہ بائیڈن کے ذریعہ ترتیب دی گئی ریڈ لائن کی خلاف ورزی کیسے نہیں ہوئی‘‘۔
قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے جواب دیا کہ "جیسا کہ میں نے کہا ہم رفح شہر میں اسرائیل کی وسیع زمینی کارروائی نہیں دیکھنا چاہتے اور ہم نے ابھی تک ایسی کوئی کارروائی نہیں دیکھی‘‘۔صحافی نے مزید پوچھا کہ "اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی کو تبدیل کرنے کے بارے میں سوچنے سے پہلے بائیڈن کوفلسطینیوں کی مزید کتنی جلی ہوئی لاشیں دیکھنا ہوں گی؟”۔’العربیہ‘ کے واشنگٹن آفس کی ڈائریکٹر نادیہ البلبیسی نے جان کربی سے ان محفوظ علاقوں کے بارے میں پوچھا جہاں بمباری کی گئی۔کربی کے پاس جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا”۔ انہوں نے کہا کہ ’جو کچھ اتوار کو ہوا وہ خوفناک اور افسوسناک تھا۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔












