پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے بھارتی وزیر اعظم نریند دامو در داس نر مودی کے خلاف نازیبا ریمارکس کے بعد بجائے اس کے کہ وہ اس کے لئے معافی مانگتے ،بڑی خوبصورتی سے یو ٹرن لیتے نظر آرہے ہیں۔انہوںنے جب دیکھاکہ انکے بیان پر بھارت کے لوگوںنے بلا تفریق مذہب وملت سخت احتجاج درج کرایا ہے اور پاکستان کو چاروں جانب سے بڑی بے عزتی اٹھانی پڑ رہی ہے تو وہ اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوںنے ایسا کچھ کہا ہی نہیں ہے ،بلکہ یہ سب بھارت کے لوگوںنے گڑھا ہے ،عجیب و غریب اور نامعقول آدمی ہیں !۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو اتنے اہم عہدہ پر ہوتے ہوئے ایسے غیر ذمہ دار بھی ہو سکتے ہیں ،اندازہ نہیں تھا ۔ اس یوٹرن سے تو یہی کچھ لگتا ہے۔لہذا وہ عہدہ سے ہٹائے جانے کے مستحق ہیں !۔انہوںنے نا تو سفارت کاری کے تقاضوں کی پاسداری کی نا ہی وہ کرنا چاہتے ہیں!۔اور اگر دوسروں کی کردار کشی اگر انہیں کرنا پسند ہی ہے تو پہلے انہیں اپنے والد آصف علی زرداری کے کارناموںکو ٹٹولنا چاہئے تھا ،جن پر منی لانڈرنگ کے کیسیز چل رہے ہیں اور انہیں عدالت کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں ۔
وہ بدعنوانی کے معاملوں میں خود کو بے قصور ثابت نہیں کر پارہے ہیں،عدالت نے ان کی بریت کی عرضی کو خارج کردیاہے۔ ،انہیں پاکستان کے اقتصادی اور سماجی حالات پر اپنی سرکار کوضروری اوراہم مشورے دینے چاہئیں جہاں لوگوں کا پیٹ پالنا مشکل ہوتا جارہا ہے ۔انہیں دیکھنا چاہئے تھا کہ بھارت نے کس طرح سے سرحد پار سے در اندازی ا ور دہشت گردی کو قابو کرنے میں جدوجہد کا سامنا کیا ہے ،بھارت میں پلوامہ ،پٹھان کوٹ اور ممبئی حملوں کے قصور واروں کے بارے وہ کیا کہیں گے،لیکن انکو نظر آیا کچھ اور ہی!۔
اسمیں شک نہیںکہ پاکستان بھارت کے رشتوں میں ایک عرصہ سے کھٹاس پائی جاتی ہے لیکن اس کوختم کرنے کے بجائے بلاول نے اسے اور زیادہ بڑھانے کا کام کیا ہے ۔شاید وہ سمجھ رہے تھے کہ اس پر بھارت کی جانب سے کوئی رد عمل نہیں ہوگا اور اس کو حزیمت اٹھانی پڑے گی ،لیکن اصل میں ان کے بیان سے خود پاکستان کو ہی حزیمت اٹھانا پڑی ہے ۔ناقدین کا بھی یہی کہناہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بھدے بیان کا بھارت پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا، لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سفارت کاری کے تقاضوں سے کتنے بے نیاز ہیں۔ حکومتیں کسی نہ کسی وجہ سے دوسری حکومتوں کو نشانہ بنا سکتی ہیں، لیکن ذاتی حملے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں، اور شاید اس وقت کیے جاتے ہیں جب یہ فیصلہ کیا گیا ہو کہ تعلقات کو مکمل طور پر توڑ دیا گیا ہے۔اس لئے بلاول سے کیونکہ یہ پوچھا جانا چاہئے کہ وہ بھارت سے اپنے رشتے کس حال میں دیکھنا چاہتے ہیں!۔قابل ذکر ہے کہ بلاول پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کا حصہ ہیں۔ عمران خان کی برطرفی کے بعد، یہ امید کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک کے مابین رشتے بہتری کی جانب بڑھیں گے ،لیکن بلاول کے ریمارکس نے مضبوطی سے سوئی کا رخ موڑ دیا ہے۔اس بیان سے دونوں ممالک بھارت اور پاکستان کے درمیان رشتوں میں مزید کھائی کو گہرا کردیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ بلاول یہ کیسے جھوٹ بول سکتے ہیں کہ انہوںنے ایسا کچھ کہاہی نہیں ہے ؟کیا انکا میڈیا جھوٹا ہے ،وہ اپنے میڈیا سے پوچھیں کہ اس نے انکے بیان کو کیسے پیش کیا ! وہ کسی کو آسانی سے جھٹلا نہیں سکتے ہیں! اپنی بیہودگی سے پلہ نہیں جھاڑ سکتے ، جتنا آسان وہ سمجھ رہے ہیں!۔ اصل بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے قائدین شاید یہ خیال کرتے ہیں کہ گھریلو سامعین کے فائدے کے لیے دیے گئے اپنے بے حد اشتعال انگیز بیانات سے وہ بہ آسانی سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو سکتی ۔غیرذمہ داری سے کام کرنے کی ایک حد ہوتی ہے ، سابق وزیر اعظم عمران خان کی بھی بات کی جائے تو بھی اپنے پیچھے الزامات کی ایک طویل فہرست چھوڑ گئے لیکن اب وہ ان سے بھاگ رہے ہیں ۔وہ اپنی معزولی کے پیچھے بائیڈن انتظامیہ کی سازش کا الزام لگا کر مقبولیت کی ایک بڑی لہر کو عبورکرنے میں کامیاب تو ہوئے لیکن اب کہتے ہیں کہ الزامات انکا پیچھا کررہے ہیں !۔ لیکن جو نقصان ہوا ہے اس سے پیچھے ہٹنا کبھی بھی طر ح سے آسان نہیں ہوتا۔لہذا بلاول بھی اسی راہ پر ہیں ؟بلاول کو سمجھنا ہوگا کہ وہ بھارت کو اپنے بیان سے کمزور نہیں کر سکتے۔ان کو غیر ذمہ داری کے بھنور سے باہر نکل کر اشتعال انگیز بیان بازی سے بچتے ہوئے رشتوں کو بہتر بنانے کیلئے اپنا کوئی؎ اہم کردار ادا کرنا چاہئے تھا !۔لیکن انہوںنے ایسا کوئی بڑا کام کرنے کے بجائے غیر مہذب بیان بازی کر کے سستی شہرت حاصل کرنے اور ملک کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی ایک ناکام کوشش کی ہے ۔بجائے اس کے وہ بھارت ، پاکستان کے مابین رشتوں کی برقراری کو فوقیت دیتے ہوئے اظہار ندامت کرتے ،اس سے بھاگ رہے اور یوٹرن لے رہے ہیں۔ان کا بیان بچکانہ ہے اور دوممالک کے درمیان سفارت کاری کے تقاضوں سے انحراف ہے ۔












