نئی دہلی، ( یو این آئی ) لوک سبھا انتخابات کے لئے پنجاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی شرومنی اکالی دل کے ساتھ اتحاد کرنے کی بات چل رہی ہے اور اگر یہ اتحاد بنتا ہے تو ریاست کی 13 پارلیمانی نشستوں میں سے چار۔ سے پانچ سیٹیں بی جے پی کے پاس جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی لوک سبھا انتخابات میں 370 کا ہندسہ عبور کرنے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ 400 سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے ۔ اس کے لیے یہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کے اراکین کو بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے ۔ پارٹی کے ایک اہم حکمت عملی ساز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ بی جے پی نے شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) سے اتحاد نہیں توڑا ہے ۔ انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ دونوں جماعتیں دوبارہ ایک ساتھ الیکشن لڑ سکتی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان نشستوں کے بٹوارے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے ۔ شرومنی اکالی دل نے بی جے پی کو چار سے پانچ سیٹوں کی پیشکش کی ہے جبکہ بی جے پی نے پانچ سے چھ سیٹوں کا دعویٰ پیش کیا ہے ۔ حالانکہ بی جے پی نے پنجاب کی تمام 13 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کی تیاری کر لی ہے اور تمام سیٹوں پر امیدواروں کا پینل بھی تیار ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کسانوں کی تحریک اور اس میں خالصتانی پروپیگنڈے کی وجہ سے بی جے پی کی شبیہ نہیں بن پا رہی ہے اس لیے شرومنی اکالی دل کے ساتھ اتحاد کرنا اب بی جے پی کے لیے کسی حد تک مجبوری بن گیا ہے ۔ شرومنی اکالی دل بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکا ہے ۔ذرائع کے مطابق اگر اکالی دل کو اپنے ووٹروں کے رویہ پر یقین ہے تو دونوں پارٹیوں کے درمیان پانچ سیٹوں پر معاہدہ ہو سکتا ہے ۔ پیر کی دیر شام ہونے والے کور گروپ کے اجلاس میں اس حوالے سے اتفاق رائے کا امکان ہے ۔












