نئی دہلی، راجدھانی میں عام آدمی پارٹی (آپ) اور بی جے پی کے درمیان ‘پوسٹر وار شروع ہو گئی ہے۔ پہلے شہر بھر میں وزیر اعظم مودی کے خلاف پوسٹر لگائے گئے اور اب دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے خلاف پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ منڈی ہاؤ س کے قریب پوسٹر پر دہلی کے وزیر اعلیٰ کی تصویر ہے جس پر لکھا ہے ”اروند کیجریوال کو ہٹاؤ ، دہلی کو بچاؤ ۔“پی ایم مودی کے خلاف لگائے گئے پوسٹروں کے جواب میں بی جے پی نے جمعرات کو دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کے خلاف پوسٹر لگائے۔ پوسٹر پر بی جے پی لیڈر مجندر سنگھ سرسا کا نام سی ایم اروند کجریوال کے خلاف لکھا گیا ہے، جب کہ پی ایم مودی کے خلاف پوسٹر میں کسی کا نام نہیں لکھا گیا تھا۔ پوسٹر پر لکھا ہے ’اروند کجریوال کو ہٹاؤ ، دہلی بچاؤ ‘۔بی جے پی لیڈر منجندر سنگھ سرسا نے کجریوال کا پوسٹر سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’عام آدمی پارٹی والوں، ہم نے کھلے عام نام دے کر پوسٹر نکالے ہیں، آپ کی طرح نہیں، جو چھپ چھپ کر ناموں کے پوسٹر نکالتے ہیں۔ ہم آپ کی طرح ڈرنے والے نہیں ہیں۔ اگر دہلی کو بچانا ہے تو اروند کجریوال کو اب دہلی سے نکل جانا ہوگا۔ وہ کرپشن کے خاتمے کے لیے آئے تھے، ان کے اپنے دو وزیر جیل میں ہیں۔سرسا نے کہا کہ اروند کجریوال کٹر بے ایمان اور رشوت خور ہیں۔ انہوں نے ہر چیز میں پیسہ لیا اور دھوکہ دہی کی۔ ایک آدمی جب جھوٹ بولتا ہے تو اپنا نام چھپاتا ہے، اسی لیے آپ نے بغیر نام کے پوسٹر جاری کیے، لیکن میں نے دہلی میں اپنے نام کے پوسٹر جاری کیے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی کے خلاف جو پوسٹر لگائے گئے تھے لگانے والے کا نام نہیں تھا جبکہ کیجریوال کے خلاف لگائے گئے پوسٹر پر نیچے منجندر سنگھ سرسا کا نام لکھا گیا ہے۔پوسٹر میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کو ’بے ایمان، رشوت خور اور تاناشاہ‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔ قبل ازیں، منگل (21 مارچ) کو وزیر اعظم مودی کے خلاف ‘قابل اعتراض پوسٹر پورے دہلی شہر میں دیکھے گئے تھے۔ اس کے خلاف دہلی پولیس نے تقریباً 100 ایف آئی آرز درج کی ہیں اور 6 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔وزیر اعظم کے خلاف لگائے گئے ان پوسٹروں پر لکھا تھا ‘مودی ہٹاو-دیش بچاؤ ۔‘ دہلی پولیس نے عام آدمی پارٹی کے دفتر سے ایک وین بھی ضبط کی، جس میں اس طرح کے ہزاروں پوسٹر رکھے گئے تھے۔ ان پوسٹروں پر پرنٹنگ پریس کا کوئی نام نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ایسی معلومات تھی جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ یہ پوسٹرز کس نے چھاپے ہیں۔پولیس کی کارروائی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے وزیر اعظم مودی کو ‘عدم تحفظ کا شکار اور ‘خوف زدۃ قرار دیا، جبکہ پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے عام آدمی پارٹی کے ہیڈ کوارٹر سے نکلنے والی گاڑی سے 2000 سے زیادہ پوسٹر ضبط کئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ دہلی کے کئی حصوں میں دیواروں اور ستونوں پر ایسے پوسٹر چسپاں پائے گئے جن پر ‘مودی ہٹاو، دیش بچاؤ ‘ لکھا ہوا تھا۔












