نئی دہلی ،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی نے بچوں کے ایڈمٹ کارڈ لے کر دیر رات تک وزیرِ تعلیم آشیش سود کے گھر میں موجود پائے گئے اے پی جے اسکول کے پرنسپل اور منیجر کے معاملے پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھردواج نے بی جے پی سے سوال کیا کہ وزیرِ تعلیم آشیش سود کا اے پی جے اسکول سے کیا تعلق ہے؟ بچوں کو ایڈمٹ کارڈ دینا اسکول کی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن اے پی جے اسکول کے پرنسپل سوموار دیر رات تک بچوں کے ایڈمٹ کارڈ لے کر وزیرِ تعلیم کے گھر کیوں بیٹھے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آشیش سود خود کو 18 لاکھ بچوں کا سرپرست بتاتے ہیں۔ اگر وہ واقعی سرپرست ہوتے تو ایڈمٹ کارڈ روکنے پر اے پی جے اسکول کے خلاف ایف آئی آر درج کراتے، لیکن ان کی حکومت میں اتنی ہمت نہیں ہے۔ منگل کو آپ ہیڈکوارٹر میں رکنِ اسمبلی سنجیو جھا اور کلدیپ کمار کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوربھ بھردواج نے کہا کہ پیر کو دن بھر جس اے پی جے اسکول کے خلاف عام آدمی پارٹی دھرنا دیتی رہی، اسی اسکول کے پرنسپل اور منیجر بی جے پی کے وزیر آشیش سود کے گھر میں پائے گئے۔ آخر آشیش سود کا اے پی جے اسکول کے پرنسپل سے کیا رشتہ ہے؟ کیا وہ رشتہ دار ہیں یا دوست؟ ایڈمٹ کارڈ جاری کرنا اسکول کا کام ہے، پھر پرنسپل ایڈمٹ کارڈ لے کر وزیر کے گھر کیوں بیٹھے تھے؟سوربھ بھردواج نے کہا کہ منگل کو دسویں بورڈ کا امتحان ہے اور پیر کو صبح سے رات 9 بجے تک اے پی جے اسکول نے پولیس کی موجودگی میں والدین کے ساتھ بلیک میلنگ کی۔ اسکول نے صاف کہا کہ جب تک بڑھی ہوئی فیس نہیں دی جائے گی، ایڈمٹ کارڈ نہیں ملے گا۔ والدین کے لیے فیس کی لڑائی لڑنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس میں بچے شامل ہوتے ہیں۔












