جمہوریت کا جس قدر مذاق گذشتہ ایک دہائی میں اڑایا گیا ہے اس سے قبل اتنے طویل عرصہ تک ایسا کبھی نہیں ہوا۔آزادی کے بعد سے اب تک اکثر اقتدار میں رہنے والی پارٹی کانگریس نے 1975 میں ایمرجنسی لگا کر جمہوری اقدار کو گھٹنوں پر بٹھانے کی کوشش ضرور کی تھی لیکن پھر پورے ملک میں احتجاج کی اتنی شدید آندھی چلی کہ بالاخر مسز گاندھی کو ایمرجنسی واپس لے کر انتخاب کا اعلان کرنا پڑا جس میں ان کی شدید ہار ہوئی اور عدالت میں ان پر نہ صرف کارروائی ہوئی بلکہ سزا بھی ہوئی۔یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت جمہوری اقدار کی از سر نو بازیافت ہوئی اور ملک کے لوگوں،اداروں ،سول سوسائٹی ،میڈیا اور جملہ باشعور طبقہ نے برسر اقدار پارٹی کو یہ پیغام دے دیا کہ ہم جمہوری اقدار سے کھلواڑ کرنے والوں کو کسی بھی قیمت پر معاف کرنے والے نہیں ہیں۔قارئین کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ مسز گاندھی کو ملک کے لوگوں نے اس وقت اقتدار سے ہٹا دیا تھا جب اس بہادر خاتون نے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کا کارنامہ انجام دے کر دنیا کے نقشہ پر بنگلہ دیش نام کے ایک نئے ملک کا اضافہ کروا دیا تھا۔کون نہیں جانتا کہ جب شیخ مجیب الرحمان نے پاکستان کے سربراہ زلفقار علی بھٹو سے بغاوت کی تھی اور مغربی پاکستان کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا تھا اس وقت مسز گاندھی نے نہایت موثر قدم اٹھاتے ہوئے شیخ مجیب الرحمان کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی فوج اتار دی تھی اور پاکستان کے لاکھوں فوجیوں کو محصور کر لیا تھا جنہیں بعد میں دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد چھوڑا گیا اور اس سارے مرحلوں میں مسز گاندھی نے اپنی سیاسی بصیرت کا جو ثبوت پیش کیا اس نے انہیں دنیا بھر میں مقبولیت دلائی۔بھارت کا وقار بھی بلند ہوا اور کم ازکم بنگلہ دیش کا بارڈر ہمارے لئے محفوظ ہو گیا۔
لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے سیاسی و سماجی منظر نامہ میں انحطاط کی ایک ایسی ہوا چلی کہ سب کچھ تلپٹ ہو کر رہ گیا۔مذہبی شدت پسندی نے سیاست کا لباس زیب تن کر لیا اور منافرت کو سیاستدانوں نے بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا۔اقتدار کا حصول ان کا مقصد بن گیا اور الکٹورل سسٹم کو بری طرح مسخ کر دیا گیا۔تمام سرکاری ادارے مرکزی حکومت کے تابع فرمان ہو کر غیر آئینی احکام بجا لانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔پورا مرکزی نظام انتخاب در انتخاب ایک مخصوص پارٹی کی خدمت کرنے اور اس میں بر سر اقتدار جماعت کو کامیاب بنانے کی جگت میں مصروف ہے۔کھلے عام ووٹوں کے ڈاکے سے بھی آگے بڑھ کر ایم ایل اے اور ایم پی سمیت کارپوریٹر کی خرید و فروخت کا بازار گرم ہے دہلی کارپوریشن کے انتخابی نتائج کا جو حشر ہوا وہ جمہوری اور آئینی طرز حکومت کے منہ پر طمانچے کے سوا اور کیا ہے جہاں آئینی عہدے پر بیٹھے لیفٹینینٹ گورنر کے فیصلوں پر سپریم کورٹ کو اعتراض ہے۔ ایک منتخب سرکار کے ساتھ مرکزی حکومت کے اشارے پر دہلی کے گورنر جو کچھ کر رہے ہیں وہ آئینی اقدار کو ملیامیٹ کرنے کے مترادف ہے۔لیکن کمال یہ بھی ہے کہ عاپ اپنی یہ لڑائی تنہا لڑ رہی ہے۔دیگر حزب اختلاف کی پارٹیاں تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ایک طرف ملک میں بی جے پی کے مقابلے ایک متحدہ محاذ بن رہا ہے اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے بیک وقت کانگریس اور عاپ دونوں کے لیڈروں سے ملاقات کر کے ملک کے لوگوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ 2024کے انتخاب میں بی جے پی کے امیدوار کے مقابلے 2024میں حزب اختلاف کا صرف ایک ہی امیدوار میدان میں اتارا جائے گا اور باقی کی پارٹیاں اس امیدوار کو کامیاب بنانے کے لئے اپنے ووٹرس سے اپیل کرینگی۔اس فارمولے کے اندر بہت ساری خامیاں ہیں پھر بھی یہ چلن میں ہے اور این ڈی اے اور یو پی اے اس کی مثال ہیں جس محاذ نے اپنی مدت کار کئی بار پوری کی ہیں۔لیکن اب جس طرح مذہبی عناد اور بغض نے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور اس اس مذہبی تفرقے کے اندر ذات کی بیماری بھی سر چڑھ کر بول رہی ہے۔اس لئے اس طرح کے فارمولے سے بہت زیادہ پر امید ہونے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ویسے بھی ایک طرف کانگریسی ووٹ بینک کو ہتھیاکر جس عام آدمی پارٹی نے دہلی میں ،کمیونسٹوں کے ووٹ بینک میں سیندھ لگا کر ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں ،کانگریس کے ووٹ بینک کو اپنی طرف مائل کرکے اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے اپنی پارٹی کی بنیاد مضبوط کی ہے اسی پارٹی کے لئے اپنے ووٹروں سے اپیل کر کے ووٹ ٹرانسفر کروانا کیا اتنا آسان ہے۔،؟اور کیا اس محاذ کے پاس کوئی ایسا فارمولہ بھی ہے جس کے تحت وہ بی جے کے ووٹ بینک میں بھی سیندھ لگا سکے ؟












