نئی دہلی :آج مرحوم راحت اندوری کا وہ شعر،سرحدوں پر ’بہت تنائو ہے کیا ،کچھ پتہ تو کرو چنائو ہے کیا ‘شدت سے یاد آرہا ہے ۔ راحت اندوری کے اس شعر کا ایک ایک لفظ موجودہ ملک کے ماحول پر پوری طرح صادق آرہا ہے۔آپ اگر ایک سرسری جائزہ لیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ شدت پسند گروپس اپنے لائو لشکر کے ساتھ اپنے بلوں سے باہر نکل آئے ہیں اورانہوںنے مذہب کے تحفظ کے نام پر جو طوفان بدتمیزی اور فساد برپا کرنا شروع کیاہے اس کی تمثیل ڈھونڈے نہیں ملتی ۔مہاراشٹر کے کولہا پور اور دیگر شہروں میں ابھی ’اورنگزیب کی ‘تعریف کی مخالفت کے نام پرغنڈہ گردی ننگا ناچ جاری ہے جہاں فرقہ پرست ٹولے کے ارادوں کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔اب اس کی آنچ نے دہلی کا بھی رخ کرلیا ہے اوراسے بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف دہلی کے دنگوں سے قبل اشتعال انگیز نعرے بازی کرنے اور دھمکیاں دےنے والے بی جے پی لیڈر کپل مشرا نے بھی بیان بازی شروع کردی ہے اور وہ ماحول کو گرمانے میں لگ گئے ہیں۔
ادھر اس ماحول میں اگر اتر کاشی میں امن وقانون پر نظر ڈالی جائے،تو وہاں بھی تصویر کچھ ایسی ہی ہے ،لیکن وہاں ’لو جہاد اور لینڈ جہاد کے نام پر فساد برپا کرکے امن و قانون کو تہ و بالا کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ در اصل پچھلے کئی دنوں سے ایک لڑکی کے اغوا کی مبینہ کوشش جس میں دو لڑکوں میں سے ایک مسلمان ہے ، کے نام پر مسلمانوں کو اس قدر ہراساں اور ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔ا س سے ظاہر ہورہا ہے کہ وہاں بھی فرقہ پرست عناصر کا گروہ مٹھی بھر مسلمانوں کے لئے جی کا جنجال بنا ہوا ہے ۔انہیں نہ صرف ذہنی طور سے ہراساں کیا جارہا ہے بلکہ اب شہر چھوڑنے کیلئے 15جون تک کا الٹی میٹم بھی دے دیاگیا ہے۔وزیر اعلیٰ اترا کھنڈاکثریتی طبقہ کو خوش کرنے کے لئے اپنی یقین دہانی والے بیانات جاری کر کے جس طرح سے پورے معاملے کو ہوا دے رہے ہیں وہ ان کی ’تقسیم ‘کی سیاست کو ظاہر کرتاہے۔وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ریاست کے لوگوں کو بھروسہ دلایا ہے کہ وہ’ لو جہاد اور لینڈ جہاد‘ کے خلاف سختی سے پیش آئینگے اور امن و امان کو خراب کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں گے کیونکہ کہا جارہا ہے کہ ریاست میں لو جہاد کے معاملے بڑھتے جارہے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ ریاست میں’ لو جہاد اور لینڈ جہاد کے نام پر جلد ہی ایک’ ہندو مہا پنچایت‘ بھی ہونے والی ہے ،وزیر اعلیٰ کا تازہ بیان اس کے پیش نظر ہی آیا ہے ۔لہذا ایسے نازک حالات میں اب ریاست کے اقلیتوں کی جانیں حلق میں اٹکی ہوئی ہیں اور وہ ڈرے سہمے ہوئے ہیں۔شہر کے ایک علاقہ میں کئی دن سے بازار بند ہیں ، بالخصوص بیشتر اقلیت کے لوگوں کی دکانوں پر کراس کے نشانات لگا کر انہیں مجرم بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔لہذا اب ریاست کے پرولا شہر میں حالات کشیدہ ہیں اور فورس تعینات ہے۔
بے شک اترا کھنڈ میںجس طرح ایک لڑکی کے مبینہ اغوا کی کوشش پر فساد کھڑا کردیا گیا ہے وہ بی جے پی اور فرقہ پرست گروہ کی بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے ۔جبکہ ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے ۔لہذا اب باقی کام قانون کو کرنے دیا جائے ،جرم ثابت ہوگا ،اورجس کا قصور ہوگا اسے سزا مل جائے گی ،لیکن اس کو اقتدار کا سہارا بنانے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔مذب کی حفاظت کے نام پر امنو قانون کا مذاق نہیں اڑایا جانا چاہئے ۔دیکھا جارہا ہے کہ پچھلے کچھ ماہ سے کئی ریاستوں میں لو جہاد کی آڑ میں مسلمانوں پر قانون کا نیا پھندا ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔اچانک یہ معاملے کیسے سامنے آنے لگے یہ حیرانی کی بات ہے۔یہ بھی کم حیران کن نہیں کہ دونوں ریاستوں مہاراشٹر اور اترا کھنڈ میں وزرائے اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ فڑ نویس کے بیانات اپنی اپنی ریاست میںتنازعے کو ہوا دینے والے اور اس میں دلچسپی کا اظہار کرنے والے تھے۔جس سے شر پسندوں کو مزید حوصلہ مل رہاہے ۔اور ان کی سڑکوں پر غنڈہ گردی جاری ہے ۔جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امن و قانون نافذ کرنے کی بات ہوتی۔لیکن ہندو مہا پنچایت کا اعلان یہ ثابت کرتا ہے کہ ریاست میں حکام اور حکومت تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ اس کا ساتھ دے رہے ہیں!۔
حالانکہ اب سیکولر سیاست دانوں کی طرف سے اتر کاشی میں جاری شر پسندوں کی غنڈہ کردی پر لگام لگائے جانے کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔اسد الدین اویسی نے ریاست میں فورا لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور پندرہ جون کو منعقد ہونے والی مہا پنچایت پر روک لگانے کی گزارش کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ ’’ریاست چھوڑ کر گئے لوگوں کو فورا واپس بلایا جائے ،بی جے پی سرکار کا کام ہے کہ گنہگاروں کو جیل بھیج کر شہر میں امن وامان قائم ہو‘‘۔ان کے علاوہ آر ایل ڈی کے صدر جینت چودھری نے کہا ہے کہ’’ اتر کاشی میں بھیڑ کا تانڈو فکر انگیز ہے یاد رکھئے جو دل میں نفرت پالے گا وہ خود بھسم ہوجائےگا‘‘۔بلاشبہ مذہب کے نام پر جو کچھ ہنگامہ کھڑا کیا جارہا ہے وہ شرمناک ہے بلکہ فرقوں کو آپس میں بانٹنے والا ہے جس کا انجام اچھا تو کبھی نہیں سامنے آتا۔بی جے پی نے مذہب کی سیاست پر مبنی جس ایجنڈہ پر کام شروع کیا ہے وہ ملک کے لئے خطرناک ہے ۔بہر حال ،عام انتخابات کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش جاری ہے۔












