بھارتیہ جنتا پارٹی کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ وہ ایک سخت گیر پارٹی ہے ،اور مسلمانوں سے دوری اختیار رکھنا پسند کرتی ہے ۔لیکن کہا جارہا ہے کہ 2024کے لوک سبھا انتخابات کیلئے اس نے کمر کس لی ہے اور پسماندہ مسلمانوں پر جال پھینکنے کی تیاری ہے ۔لیکن سوال ہے کہ کیا پسماندہ مسلمان اس سے کتنی قربت بنا پائے گا اور کتنا دور رہے گا اس وقت جب کہ پورے ملک کے مسلمان ہر اس پارٹی سے دوری اختیار کئے ہیں جو مسلمانوں کے مفاد ات او ر ان کے مسائل سے بے بہرہ بے ونیاز رہتی ہے ۔یہ شکایت مسلمانوں کو بھی رہی ہے کہ بی جے پی اس کے مفادات کو ترجیحات میں نہیں رکھتی ہے اور ان کے علاقوں سے بھید بھائو کیا جاتا ہے !۔لہٰذا اب سوال یہی اٹھ رہا ہے کہ کیا اس نظریہ کے بعد بی جے پی کو 2024میں پسماندہ مسلمانوں کے ووٹوں سے کس طرح فیض پہنچ سکے گا؟۔
اس کو سمجھنے کے لئے ہمارے سامنے دہلی کارپوریشن انتخابات کی مثال سامنے ہے ۔کہ کن وجوہات کی بنا پردہلی میں نو وارڈوں میں کانگریس کامیاب ہوئی ہے اور عام آدمی پارٹی کے نو امیدواروں کو مسلم عوا م نے ووٹ نہیں دیا! ۔اس کے پیچھے کی وجہ کیا ہے یہ ان حلقوں کے مسلمانوں بتا دیا ہے!۔کہا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی ناراضگی دہلی حکومت کی برسر اقتدار جماعت سے تھی اس لئے چنندہ علاقوں میں انہوںنے اس پارٹی کا بائیکا ٹ کیا جس پرنہ صرف دہلی فسادات میں بلکہ تبلیغی جماعت اور سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں مسلمانوں کے خلاف یاتو بیانات دینے کا الزام لگا بلکہ منہ بند کئے رکھا!۔اس لئے کچھ یہی الزامات بی جے پی پر لگتے رہے ہیں ،جس کی وجہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ اس پارٹی سے دوری کیوں اختیار رکھنا پسند کرتے ہیں!۔
لیکن یہاں معاملہ صرف سخت بیانات دینے تک محدود نہیں ہے! بلکہ سونتیلا برتائو یا ظلم و زیادتی کے ساتھ تعصب برتنے کے الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں ۔بی جے پی کی مسلمانوں کے ساتھ تعصب اور نفرت بھرے واقعات کی مثالوں کا انبار ہے اور طویل فہرست ہے ،جس میں اکثرکو ذہنوں سے بھلایانہیں جاسکتاہے!۔سب سے پہلے بات گجرات فسادات کی کرتے ہیں ،جہاں نسل کش فسادات اس کی مثال ہیں جہاں دو ہزار کے لگ بھگ لوگ مارے گئے تھے ،ان میں اسی فیصدمسلمان تھے! ۔لیکن اس وقت وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے کہا تھا کہ یہ بوگیاں جلائے جانے کا ردعمل ہے !۔اس کے بعد ان فسادات کے مجرموں کے ساتھ معافی کا معاملہ اور ان کو رہا کیا جانا اس تعصب کی ایک اور مثال ثابت ہوئی!۔اس کے علاوہ گجرات کے حالیہ انتخابی مہم میں وزیر داخلہ امت شاہ کے وہ بیانات بھی باعث توجہ ہیں جن میں گجرات فسادات کا ذکر کیاگیا اور کہا گیا کہ گجرات میں فساد پھیلانے والوں کو بی جے پی نے ایسا سبق سکھادیاہے کہ ریاست میں 22سال سے امن ہے!۔اس ریلی میں شاہ نے کانگریس اور مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہئے کہاتھا کہ ’’گجرات میں کانگریس کے دور حکومت میں (1995 سے پہلے) فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔ کانگریس مختلف برادریوں اور ذاتوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑنے پر اکساتی تھی۔ اس طرح کے فسادات کے ذریعے، کانگریس نے اپنا ووٹ بینک مضبوط کیا اور سماج کے ایک بڑے طبقے کے ساتھ ناانصافی کی ‘‘۔اگر ماضی کے بی جے پی قیادت کے بیانات پر نظر دوڑئی جائے تو ان میں وزیر اعظم مودی کا وہ بیان بھی اہم تھا جس میں مودی نے سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوںاور اس دوران ہوئے تشدد پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ،’’کچھ لوگ کپڑوں سے پہچانے جاتے ہیں ‘‘،اس کے علاوہ بی جے پی کے لیڈراور موجودہ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کی ایک ریلی کے وہ نعرے بھی یاد ہونگے جن میں’’ دیش کے غداروں کو گولی مارو…‘‘جیسے الفاظ کا استعمال ایک فرقہ کے خلاف کیا گیا! ۔ اس طرح کی بہت سے مثالیں ہیں جن میں بی جے پی والی ریاستوں میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب آمیز برتائو کے الزامات لگے ، اور نفرت پھیلا کر ہندو ووٹوں کو متحد کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ وبا کے دوران متعصب سوچ رکھنے والے ٹی وی چینلوںنے بھی کم تعصب نہیں برتااور اس گھنائونے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا کام کیا! ۔ایسے میں اب سوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا اپنی اس گھنائونی پالیسی کے ساتھ بی جے پی سال 2024میں پسماندہ مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کا خواب دیکھ سکتی ہے ؟کیا وہ مسلمانوں کے ووٹوں سے کوئی فائدہ اٹھا سکتی ہے!۔ناقدین کا خیال ہے کہ 2024کے لوک سبھا انتخابات بی جے پی کیلئے مشکل ضرور ہیں لیکن وہ اپنی تدابیر اور حکمت عملی کو جس طرح بروئے کار لاتی ہے اس کے سامنے اپوزیشن جماعتیں ناکام ثابت ہوجاتی ہیں !۔لیکن اگر ہماچل کی طرح سوجھ بوجھ کا استعمال کرتے ہوئے دیگر ریاستوں میں بھی وہی فارمولے کا استعمال کیا گیا تو اس میں بی جے پی کیلئے میدان جیتنامشکل ہو سکتا ہے ۔اس لئے ابھی سوال صرف پسماندہ کا نہیں ،کیونکہ ہماچل کا رزلٹ سامنے ہی ہے ،جہاں کانگریس جیت چکی ہے ،لیکن یہ بھی خیال رہے کہ ہماچل میں صرف دو فیصد ہی مسلمان ہیں، اس کے باوجود بی جے پی میدان نہیں جیت سکی !۔اس کے پیچھے ٹھوس حکمت عملی کا ہاتھ ہے، ناکہ زبانی جمع خرچ !۔اس لئے بی جے پی کو دہلی کے کارپوریشن انتخابات سے سبق لینا چاہئے جس میں مسلم اکثریت والے علاقوں میں عام آدمی پارٹی کیخلاف ناراضگی کی وجہ سے اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا ،اور کانگریس کی جھولی بھر دی گئی۔












