نئی دہلی .: پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے جمہوریت اور آئین ہند کی جیت سے تعبیر کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کی یہ جیت کسی ایک پارٹی کی جیت نہیں بلکہ فرقہ واریت کے خلاف سیکولرزم کی فتح اور فرقہ پرستوں کے منھ پر ایک زبردست طمانچہ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کرناٹک چناؤ کے نتائج مرکزی حکومت کے تابوت میں پہلی کیل ثابت ہو گی اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکاروں کے خلاف الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے جسکا اختتام 2024 کے لوک سبھا انتخابات پر ہو گا ۔ انھوں نے کہا کہ کرناٹک کے عوام قابلِ مبارکباد ہیں جنہوں نے مذہب اور ذات پات سے اوپر اٹھ کر حکومت اور پارٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ کیا اور بی جے پی کی فرقہ پرستی کی سیاست کو ناکام بنا دیا ۔ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ کرناٹک کو جنوبی ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی ایک سیاسی لیبوریٹری کے طور پر مستحکم کرنا چاہتی تھی جس میں وہ مکمل طور سے ناکام ہوگئی اور اب کم از کم جنوبی ہندوستان سے بی جے پی کا سوپڑا صاف ہی رہے گا ۔ انھوں نے کہا کہ کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے جتنی مذہبی منافرت پھیلا سکتی تھی، پھیلایا اور منافرت کا ننگا ناچ ، ناچ سکتی تھی،ناچا، وہ عیاں ہے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس الکشن نے مودی کا بھرم بھی توڑ دیا اور جنوبی ہندوستان میں ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم تیار کرنے کا جو خواب وزیر اعظم اور ان کی پارٹی نے دیکھا تھا،وہ چکنا چور ہو گیا ۔ وزیر اعظم نے چناؤ سے پہلے اور چناؤ کے دوران جس طریقے سے الکشن میں حصہ لیا، عوامی جلسے کیے، ریلیاں نکالیں اور روڈ شو کیے نیز کرناٹک کا چناؤ بھی انھیں کے نام پر لڑا گیا،اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ براہ راست نریندر مودی کی فرقہ وارانہ سیاست کی زبردست شکست اور اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسٹر مودی کا جادوءی بھرم اب ٹوٹ رہا ہے اور اس کے اثرات یقیناً 2024 کے عام انتخابات پر مرتب ہوں گے ۔












