سینئر اپوزیشن رہنما راہل گاندھی کو ہتک عزت کے ایک کیس میں دو سال کی سزا ہونے کے بعد ان کی پارلیمانی رکنیت منسوخ کر دی گئی ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو سورت کی ایک عدالت نے ایک ہی دن قبل چار سال پرانے ہتک عزت کے مقدمے میں دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔واضح ہو کہ قانون کے مطابق اگر کسی رکن پارلیمان کو کسی معاملے میں دو برس یا اس سے زیادہ قید کی سزا دی جاتی ہے تو اس کی رکنیت فوراً ختم ہو جاتی ہے اور وہ 6 سال تک کسی بھی انتخاب میں شامل ہونے کا مجاز نہیں رہتا۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ راہل گاندھی آئندہ پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے مجاز ہوں گے یا نہیں۔راہل گاندھی کی رکنیت خارج ہونے کے بعد کانگریس نے اپنے لائحہ عمل پر غور کرنے کے لیے جمعے کی شام کانگریس کے صدر دفتر میں سینئر رہنماؤ ں کی ایک میٹنگ طلب کی ہے۔
سال 2019 کا یہ معاملہ ’کنیت مودی‘ کے حوالے سے ان کے ایک تبصرے سے جڑا ہوا ہے۔ راہل گاندھی نے یہ بیان دیا تھا کہ ’تمام چوروں کی کنیت مودی کیسے ہے؟ نیرو مودی، للت مودی، نریندر مودی‘۔نیرو مودی ہیرے کے تاجر ہیں اور ملک سے فرار ہیں، للت مودی انڈین پریمئر لیگ کے سابق چیف ہیں جن پر ملک کے کرکٹ بورڈ کی جانب سے تاحیات پابندی لگائی گئی تھی۔ راہل گاندھی کا موقف ہے کہ ان کا یہ بیان کرپشن کو اجاگر کرنا تھا نہ کہ کسی برادری کی تضحیک۔
ان کے خلاف یہ کیس بی جے پی کے ایک ایم ایل اے پرنیش مودی نے درج کرایا تھا جن کا یہ کہنا ہے کہ انھوں نے پوری مودی برادری کو اپنے بیان سے تکلیف پہنچائی ہے۔معاملے کی سماعت کے دوران راہل گاندھی جمعرات کو سورت کی عدالت میں موجود تھے۔راہل گاندھی کے وکلا کی ٹیم نے میڈیا کو بتایا کہ سماعت کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ وہ اپنے بیان سے کسی برادری کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے تھے۔دراصل 2019 میں لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران، راہل گاندھی نے کرناٹک کے کولار میں ایک انتخابی ریلی میں کنیت مودی والے لوگوں کے حوالے سے یہ بیان دیا تھا۔اس وقت کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے پی ایم مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’چوکیدار سو فیصد چور ہے۔‘
گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی نے خود کو ملک اور عوام کا ’چوکیدار‘ بتا کر مہم چلائی تھی۔یہ رافیل طیاروں سے متعلق سودے کے بارے میں تھا۔ راہل نے ریلی میں کہا ’آپ نے 30 ہزار کروڑ روپے چرائے اور اپنے دوست انل امبانی کو دے دیے۔ آپ نے 100 فیصد رقم چرائی۔ چوکیدار چور ہے، نیرو مودی، میہول چوکسی، للت مودی، مالیا، انیل امبانی اور نریندر مودی۔ چوروں کا ٹولہ ہے۔‘اس کے بعد راہل نے طنزیہ انداز میں کہا ’میرا ایک سوال ہے، ان سب چوروں کے ناموں میں مودی کیوں ہے،دراصل وہ اس طرح اپنے جملے کی معنویت کو مزید واضح کرنا چاہتے تھے نیرو مودی، للت مودی اور نریندر مودی ان کا اصل نشانہ تھے۔ درخواست گزار کے وکیل نے سماعت کے بعد میڈیا کو بتایا کہ راہل گاندھی نے عدالت میں کیا دلائل دیے۔
جج نے راہل گاندھی سے پوچھا کہ کیا انھوں نے اپنی غلطی قبول کی؟ تاہم اس پر راہل نے کہا کہ انھوں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کہا اور ان کے بیان سے درخواست گزار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔اس پر درخواست گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ راہل گاندھی پارلیمنٹ کے رکن ہیں، جہاں پورے ملک کے لیے قانون بنتے ہیں۔ ایسے میں اگر راہل گاندھی کو کم سزا سنائی جاتی ہے تو سماج میں ایک غلط پیغام جائے گا کہ جو لوگ قانون بنا رہے ہیں انھیں کم سزا دی جاتی ہے۔خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے راہل گاندھی کے وکیل کرت پان والا کے حوالے سے کہا کہ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) ایچ ایچ ورما کی عدالت نے گزشتہ ہفتے اس معاملے میں دونوں فریقوں کے دلائل سنے تھے اور 23 مارچ کو فیصلہ سنانے کی تاریخ دی تھی۔راہل گاندھی اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے اکتوبر 2021 میں سورت کی عدالت میں حاضر ہوئے تھے۔سزا کے اعلان کے بعد راہل گاندھی نے مہاتما گاندھی کا ایک قول ٹویٹ کیا ’میرا مذہب سچائی اور عدم تشدد پر مبنی ہے۔ سچائی میرا خدا ہے، عدم تشدد اس کے حصول کا ذریعہ ہے۔‘
دوسری جانب کانگریس نے کہا کہ راہل گاندھی ڈکٹیٹر کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور انھیں پولیس، کیس اور سزا سے ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے ،اور وہ بھی ایسے وقت میں جب راہل گاندھی وہ واحد اپوزیشن لیڈر ہیں جو بلا خوف 2014 سے موجودہ بی جے پی سرکار ،آر ایس ایس، نریندر مودی ،امت شاہ اور اڈانی اور امبانی پر براہ راست حملے کر رہے تھے ۔راہل گاندھی کے ابھی لندن میں دئے گئے ایسے ہی بیان پر کہ بھارت میں جمہوریت آخری سانس لے رہی ہے پچھلے دو ہفتہ سے پارلیمنٹ ہنگامہ کی نظر ہو کر معطل ہے۔ پارلیمنٹ میں جہاں برسر اقتدار جماعت کا یہ مطالبہ ہے کہ راہل گاندھی فلور پر آکر معافی مانگیں جبکہ کانگریس سمیت اٹھارہ پارٹیوں کے لوگ ہنڈن برگ رپورٹ کی روشنی میں جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کے ذریعہ ایک ایسی تفتیش چاہتے ہیں جس کے ذریعہ یہ واضح ہو جائے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی اور ان کی سرکار نے اڈانی اور ان کی کمپنیوں کو کس کس قسم کے فائدے پہنچائے ہیں اور کیوں۔ ایسے میں سرکار کے پاس صرف دو ہی راستے تھے اور اس نے ایک نہایت ہی مشکل اور جوکھم بھرے راستے کا انتخاب کر لیا ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ ملک کی سیاست کس کروٹ بیٹھتی ہے۔












