تین شمال مشرقی ریاست سمیت کچھ ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی دنیا میں شور بہت بڑھ گیا ہے۔خاص طور پر بی جے پی کے خیمے میں افرا تفری ہے۔کیونکہ ان انتخابات میں بی جے پی کی لاکھ کوششوں کے باوجود مودی لہر کے اثر کا کہیں پتہ نہیں چلا اور علاقائی پارٹیوں نے جم کر ووٹ سمیٹے۔اور نتیجہ یہ ہے کہ بی جے پی اب ان تمام علاقائی پارٹیوں کے کنبوں کو جوڑ کر سرکار بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔اور لوک لاج بچانے کے لئے جشن بھی منا رہی ہے۔ان تینوں ریاستوں میں صرف وہاں کی علاقائی پارٹیوں نے ووٹ نہیں حاصل کئے بلکہ بنگال بہار اور مہاراشٹر کی علاقائی پارٹیوں کے امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی اور امت شاہ کے چہرے پر شکنوں کا جال ہے۔سنجیدہ سیاسی مبصرین نے تو اب یہ بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں میں بھی اگر مودی کا جادو نہیں چلا اور کلین سویپ نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے اب مودی نام کے جادو کا کوئی وجود نہیں۔اور یہ بات بی جے پی کے لئے پریشانی کا سبب ہے۔حالانکہ ابھی 2024سے قبل کئی ریاستوں میں انتخاب ہونا ہے۔لیکن تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کی توجہ اب 2024کے عام انتخاب کی تیاریوں کی جانب مبذول ہو چکی ہے۔لیکن ان ساری تیاریوں کا محور یا تو بی جے پی ہے یا کانگریس۔بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے ذریعہ چاہے لاکھ اعلان کر دیا جائے کہ کانگریس کا وجود ختم ہو چکا ہے۔کانگریس ختم نہیں ہو سکی ہے۔اور وہ ہر انتخاب میں اپنے وجود کا احساس کرا رہی ہے۔کانگریس پر سب سے زیادہ حملہ کرنے والی پارٹیوں میں ایک ترنمول کانگریس کے گڈھ بنگال کے ضمنی انتخاب میں کانگریس کی کامیابی سے ترنمول کانگریس کو اپنا مسلم ووٹ بینک بھی درکتا نظر آ رہا ہے۔اور کرناٹک کے اسمبلی انتخاب کے بارے میں جو سروے آ رہا ہے اس سے بھی اپوزیشن اتحاد میں کانگریس کی اہمیت کا اندازہ ہونا شروع ہو چکا ہے۔اور بی جے پی اور کانگریس دونوں سے دوری اختیار کرنے والی پارٹیوں کے ماتھے کی شکنوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔حالانکہ چھتیس گڈھ کے قومی کنونشن میں کانگریس نے یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ 2024 کے عام انتخاب میں کانگریس تمام اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مل کر بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرے گی۔اور اب تو کانگریس صدر نے یہ بھی وضاحت کر دی ہے کہ کانگریس اپوزیشن اتحاد کی قیادت کرے یہ بھی ضروری نہیں لیکن اپوزیشن میں موجود کم از کم دو پارٹیاں’آپ‘ اور ترنمول کو کانگریس کسی بھی قیمت پر قبول نہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ ’آپ‘ کے ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا کی گرفتاری پر وزیر اعظم کو اپوزیشن جماعتوں نے جو خط لکھا ہے اس پر کانگریس نے دستخط نہیں کئے ہیں۔دستخط تو جے ڈی یو کے کسی لیڈر نے بھی نہیں کئے ہیں لیکن سب کی نظر کانگریس کی طرف ہے کہ آخر وہ کس قسم کا اپوزیشن اتحاد چاہتی ہے کہ ایک کامن ایشو پر بھی وہ اپنے آپ کو تمام پارٹیوں سے الگ کر رہی ہے۔ حالانکہ کانگریس نے اس کی وضاحت بھی کر دی ہے کہ شراب گھوٹالے پر چونکہ اس کا اسٹینڈ ’آپ‘ کے حق میں نہیں ہے اس لئے وہ منیش سسودیا کی گرفتاری پر خاموشی اختیار کر رہی ہے۔کانگریس نے دوسری وجہ یہ بھی بتائی کہ چونکہ ای ڈی اور سی بی آئی کی جانب سے جب کانگریس لیڈروں پر حملہ ہوتا ہے اور ان پر ریڈ ہوتا ہے تب ’آپ‘ کا اس کے خلاف کوئی بیان نہیں آتا ایسے میں کانگریس سے یہ کیسے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ آپ کے لیڈر کی گرفتاری پر خاموش کیوں ہے؟
لیکن ان سب کے باوجود یہ دیکھا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے خلاف حزب اختلاف پوری طرح چاق و چوبند ہے۔ سارے اپوزیشن کی نظریں مہاراشٹر اور بہار پر ہےں جہاں 2019 میں بی جے پی نے ایک طرح سے کلین سویپ کیا تھا لیکن اب وہاں کے سیاسی منظر نامہ میں یکسر تبدیلی ہو چکی ہے اور مہاراشٹر میں جہاں این سی پی شیو سینا اور کانگریس مل کر بی جے پی کو سنگل ڈیجیٹ تک پہنچا سکتی ہے وہیں بہار میں بھی جے ڈی یو ،آر جے ڈی ، کانگریس اور لیفٹ فرنٹ مل کر بی جے پی کو بری طرح شکست دینے کی حالت میں ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بہار کااثر جھارکھنڈ اور مغربی بنگال پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔بی جے پی کو بھی یہ تشویش ہے اور اسی لئے اس کی پوری کوشش ہے کہ کسی بھی صورت میں اپوزیشن کا اتحاد قائم نہ ہو۔وہ بار بار کانگریس کے راہل گاندھی کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن کانگریس نے نہایت خوبصورتی سے اپوزیشن اتحاد کی قیادت سے خود کو پیچھے کر کے بی جے پی کے داؤ کو ناکام کر دیا ہے۔شرد پوار پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ ساری پارٹیاں اگر اپنی اپنی ریاست سے بی جے پی کو نکالنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو پھر بی جے پی کا مرکزی اقتدار میں آنا ناممکن ہو جائے گا اور مہاراشٹر میں وہ اسی نہج پر کام بھی کر رہے ہیں۔
ان سارے حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھلے ہی 2024کے عام انتخاب میں یو پی اے فعال نہ ہو لیکن این ڈی اے کا وجود بھی نہیں ہوگا اور بی جے پی کو پورے ملک میں اپنے دم خم پر ہی انتخاب جیتنا ہوگا۔












