کرناٹک اسمبلی انتخاب کی تشہیر شباب پر ہے ۔اور تمام سیاسی پارٹیوں نے ایک طرح سے کرناٹک کو اپنا کیمپ بنا لیا ہے ۔بی جے پی چونکہ اس ریاست میں پانچ سال حکومت کر چکی ہے اس لئے اسے اپنی ساکھ بچانی ہے لیکن کانگریس وہاں اپنی حکومت بنا کر پورے ملک کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ کانگریس کی مقبولیت میں کوئیکمی نہیں آئی ہے اور اگر آئی بھی ہے تو اس کی وجہ بی جے پی کے ذریعہ جھوٹی الزام تراشی ہے جس کے لئے بی جے پی نے ہزاروں کروڑ خرچ کئے ہیں ۔راہل گاندھی بھی اس انتخاب میں یہ ٹیسٹ کرنا چاہتے ہیں کہ آیا بھارت جوڑو یاترا سے انتخابی نتائج پر بھی کچھ فرق پڑتا ہے یا نہیں ۔اور اسی وجہ سے انہوں نے کرناٹک میں بی جے پی کے خلاف نہایت مضبوطی کے ساتھ اس کے ہر سوال کا جواب بھی دے رہے ہیں اور نیا ایشو بھی اٹھا رہے ہیں ۔کرناٹک کے نندنی دودھ بنام گجرات کے امول دودھ کا مراملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔جس میں بی جے پی بیک فٹ پر ہے اور کرناٹک کے لوگ نندنی دودھ کے مقابلے گجرات کی کمپنی کے منہگے دودھ کو بھی گجراتی لابی کی سازش قرار دے رہے ہیں اور وہ اسے اپنے روزگار پر حملہ بھی قرار دے رہے ہیں ۔
کانگریس نے اس بار رائے پور کانفرنس میں ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ کاسٹ سینسس کے حق میں ہے اور اس مدعے کو راہل گاندھی کرناٹک اسمبلی الیکشن میں بھی اٹھا رہے ہیں ،ساتھ راہل گاندھی کرناٹک میں پچاس فیصد تک محدود ریزرویشن کے کیپ کے ہت جانے کے بعد اس میں مزید طبقات کو جوڑنے کی بات کر رہے ہیں ۔کرناٹک مین پانچ سال تک حکومت کرنے والی بی جے پی پر ویسے بھی بدعنوانی کے ڈھیروں الزامات ہیں اور عام طور پر وہاں کی بی جے پی سرکار کو چالیس فیصد کمیشن والی سرکار کہا جاتا ہے ۔اور یہ وہ سارے مدعے ہیں جن کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ کرناٹک میں اس بار بی جے پی کی سرکار بننا آسان نہیں ہے ۔بی جے پی کو بھی اس کا اندازہ ہو چکا ہے اس لئے اس نے ایک بار پھر کرناٹک میں ہندو مسلم کارڈ کھیل دیا ہے ۔ایک طرف بی جے پی جہاں نارتھ انڈیا میں مبینہ او بی سی مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے وہیں انتخابی ریاست کرناٹک میں اس کا لب و لہجہ شدید مسلم مخالف ہے امراجالا کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر کے ایس ایشورپا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمیں مسلمانوں کے ایک بھی ووٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ ایشورپا نے یہ بیان ویراشائیو-لنگایت مذہبی تقسیم کے مسئلہ پر ایک میٹنگ کے دوران دیا۔ اس دوران سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا بھی موجود تھے۔۔کانگریس بھی لنگایت برادری کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ راہل گاندھی کے دورے کے دوران بھی، کانگریس نے لنگایت برادری کو راغب کرنے کی پوری کوشش کی اور راہل نے لنگایت برادری کے سب سے بڑے گرو بساونا کی سمادھی کا بھی دورہ کیا۔ کانگریس کرناٹک انتخابات میں زیادہ سے زیادہ قومی لیڈروں کو میدان میں اتارنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے 30-30 اسمبلی سیٹوں کا دورہ کریں گے۔ کانگریس کے ساتھ سخت مقابلے کا نتیجہ ہی ہے کہ وزیر اعظم کمیشن کے الزام سے جوجھ رہے اپنے ان لیدروں کو بھی فون کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جن پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں اور پارٹی نے انہیں برطرف کر رکھا ہے ۔یدی یو رپا جیسے لیڈر کو دوبارہ فعال کرنے سے بھی بی جے پی کو فائدہ سے زیادہ نقصان ہی ہو رہا ہے کیونکہ اقربا پروری کا جو الزام بی جے پی دیگر پارٹیوں سمیت کانگریس پر لگاتی رہی ہے اس کا نمونہ خود یدی یو رپا ہیں جن کے بیٹے کے ٹکٹ کو لے کر بی جے پی کے ہائی کمان سے ان کی ٹھن گئی تھی لیکن اب اس انتخابی مہم میں وہ سارے اصول طاق پر رکھ کر بی جے پی ان کی قیادت میں ہی انتخاب لڑ رہی ہے ۔اب دیکھنا ہے کہ اگلے بیس دنوں میں کرناٹک کی سیاست کس کروٹ بیٹھتی ہے ۔
کرناٹک میں 10 مئی کو ایک ہی مرحلے میں انتخابات ہوں گے اور 13 مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔












