گذشتہ 31مارچ کو رام نومی کے موقعہ پر ساسا رام میں جو ہندو مسلم تنازعہ ہوا تھا اس پر بہار سرکار نے فوری کارروائی کر کے کنٹرول تو کر لیا تھا لیکن آئندہ بھی شرپسندی کا ایسا کوئی واقعہ نہ ہو اس کے لئے وزیر اعلی نتیش کمار نے پولیس کو تحقیق کر کے اس آگ کو بھڑکانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے کہا تھا اور نتیش کمار کی فعال پولیس نے بغیر تساہلی برتے تفتیش شروع کی اور اس کے نتیجے میں روہتاس پولیس نے ہفتہ کے روز ریاستی بی جے پی کے سینئر لیڈر جواہر پرساد، جو ساسارام سے پانچ بار کے سابق ایم ایل اے رہ چکے ہیں، کو رام نومی کے دن ساسارام قصبے میں مبینہ طور پر تشدد بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
واضح ہو کہ 31 مارچ کو رام نومی کے جلوس کے دوران جھڑپوں میں ایک درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے اور اس ہنگامہ نے فرقہ وارانہ رخ اختیار کر لیا تھا ۔اس گرفتاری پر روہتاس کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ونیت کمار نے کہا کہ 75 سالہ پرساد کو ہماری تحقیقات میں فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے کی تفتیش کے بعد گرفتار کیا گیا”اور پھر بی جے پی کی سیاست شروع ہوگئی۔بی جے پی نے اس گرفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاری مہاگٹھ بندھن حکومت کی "اقلیتی خوشامد کی سیاست” کا حصہ ہے "جبکہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا، پولیس اپنا کام کر رہی ہے۔ تمام ملوث افراد، خواہ کسی بھی پارٹی کے ہوں کو گرفتار کیا جائے گا۔”لیکن بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبر اور سابق نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے نتیش کمار کے اس بیان کہ "ساسا رام اور بہار شریف میں برپا تشدد ممکنہ سیاسی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے نے کہا، "ہمیں پرساد کی گرفتاری پر حیرت نہیں ہے کیونکہ سی ایم نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ تشدد ایک سیاسی سازش کا حصہ ہے ۔ سشیل مودی کے اس بیان پر بھی کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ پارٹی لائن پر بولنا ان کی بھی مجبوری ہے ۔ویسے بھی نتیش کمار نے جس سرعت کے ساتھ اس فساد کی آگ کو مزید بھڑکنے سے روک کر بی جے پی کی روایتی سازش پر قد غن لگایا اس سے ان کا تلملا جانا فطری ہے ۔گرفتار پرساد، جو اتفاق سے ضلع میں سدبھاونا کمیٹی کا رکن بھی تھا، رام نومی کے جلوس کے دوران ایک ہجوم کو اکٹھا کرنے میں مبینہ طور پر ان لوگوں میں شامل تھا جو پتھر پھینکنے میں مصروف تھے۔قارئین کو یاد ہوگا کہ اس جھڑپ کے اگلے دن تشدد میں۔” دیسی بم دھماکے میں بھی چھ افراد زخمی ہوئے تھے۔تفتیش کے نتیجے میں پولیس نے کہا کہ ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔پولیس کے مطابق دو دنوں کے دوران تشدد کے سلسلے میں اب تک کل 63 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔پرساد کی حمایت کرتے ہوئے، بی جے پی کے او بی سی مورچہ کے قومی جنرل سکریٹری نکھل آنند نے کہا: "نتیش کمار حکومت نے انہیں رام نومی تشدد کے لیے قربانی کا بکرا بنا دیا ہے۔ پرساد ایک بوڑھے شخص ہیں۔
مہاگٹھ بندھن حکومت پر الزام لگاتے ہوئے آنند نے کہا، "پرساد ایک پسماندہ لیڈر ہیں، حکومت انہیں اور دیگر نچلے طبقہ کے لیڈروں کو مجرم قرار دینا چاہتی ہے کیونکہ بہار حکومت مسلمانوں کی خوشنودی کی سیاست کرنے کی کوشش کررہی ہے۔حالانکہ ماضی میں بھی پرساد کا تنازعات سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے ڈرائیور سے 1990 میں ساسارام کے ایم ایل اے بننے تک اس کا کیرئر فرقہ پرستی کو ہوا دینے والا ہی رہا ہے ۔1989 میں ریاست میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں اس کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی بات بھی کہی جاتی ہے ۔ پرساد کو 1990 میں آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا ۔لیکن کچھ دوسرے معاملات کے علاوہ اسے اب تک مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکا تھا ۔لیکن بالاخر وہ پولیس کی گرفت میں آ ہی گیا اور یہ اس لئے ہو سکا کہ بہار کی موجودہ نتیش کمار کی سرکار نفرت کے خلاف مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے اور نتیش کمار بد عنوانی سے اسی طرح چڑتے ہیں جیسے لال کپڑے سے سانڈ کو چڑ ہے ۔اس بر وقت کارروائی سے بہار میں فرقہ پرستوں کے حوصلے پست ہوئے ہیں اور یہ مثال بھی قائم ہوئی ہے کہ بہار میں قانون اور آئین کی حکومت ہے ۔












