ممبئی ،پریس ریلیز،ہماراسماج:گنجان مسلم آبادی والے شہر مالیگاؤں میں دو سال قبل پانچ سالہ کمسن محمد کیف کا انتہائی بے دردی سے قتل کرنے والے ملزم لکشمن جگناتھ سونونے نامی شخص کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت پر آج بامبے ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران محمد کیف کے والد نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی مخالفت کی۔محمد کیف کے والد کی جانب سے بطور مداخلت کار ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم پر ایک کمسن معصوم بچے کا انتہائی بے رحمی سے قتل کرنے کا الزام ہے لہذا اس کی ضمانت پر رہائی کی عرضدشت کو مسترد کردینا چاہئے، دوسری جانب سے ملزم کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ایل داس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو محض شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے، اس کے خلاف کوئی پختہ ثبوت و شواہد موجود نہیں نیز دو سال کو طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود ابتک مالیگاؤں سیشن عدالت میں اس کے خلاف فرج جرم (چارج فریم) عائد نہیں کیا جاسکا ہے لہذا ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کو منظور کیا جائے۔اسی درمیان ایڈوکیٹ متین شیخ نے جسٹس شیو کمار دیگے کو مزید بتایا کہ ملزم پر کمسن بچے کو قتل کرنے کا انتہائی سنگین الزام پولس نے عائد کیا ہے اور میڈیکل رپورٹ سے یہ واضح ہوتا کہ کہ ملزم نے کمسن بچے کو قتل کرنے سے قبل اس کے ساتھ کس طرح کا ظلم کیا تھا، دوران سماعت عدالت نے بھی زبانی طور پر یہ تبصرہ کیا کہ یہ جس طرح کا سنگین معاملہ ہے سیشن عدالت سے جواب طلب کرنا ضروری ہیکہ کیا وجہ ہے کہ ابتک ٹرائل کورٹ میں باقاعدہ مقدمہ کی سماعت شروع نہیں ہوسکی۔ سیشن عدالت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کی اگلی سماعت 23/ اپریل کو کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔واضح رہے کہ جمعیۃ علماء مالیگاؤں کی درخواست پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) بامبے ہائی کورٹ میں ملزم لکشمن سونونے کی ضمانت عرضدشت کی مخالفت کررہی ہے۔مالیگاؤں سیشن عدالت میں بھی محمد کیف کے والد کی جانب سے جمعیۃ علماء مالیگاؤں بطور مداخلت کار پیش ہورہی ہے، ایڈوکیٹ نیاز احمد لودھی نے سیشن عدالت میں ملزم کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کی مخالفت کی تھی، ایڈوکیٹ نیاز احمد لودھی کی بروقت مخالفت کی وجہ سے سیشن عدالت مالیگاؤں نے ملزم لکشمن سونونے کی ضمانت عرضداشت مسترد کردی تھی، ملزم لکشمن سونونے نے سیشن عدالت کے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ملزم لکشمن سونونے مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر اور ایف آئی آر میں نام درج نا ہونے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے، ہائی کورٹ میں داخل پٹیشن میں اس نے تحریر کیا ہے کہ عائشہ نگر پولس اسٹیشن کی جانب سے داخل کردہ ایف آئی آر نمبر 4/2024میں کسی کا بھی نام نہیں اس کے باوجود اس کو صرف اس وجہ سے گرفتار کیا گیا کہ محمد کیف آخری مرتبہ اس کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔پولس نے ملزم لکشمن سونونے پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے کمسن محمد کیف کو اغواہ کرکے چاندوڑ کی پہاڑیوں میں لیکر گیا او ر اسے کئی دن تک بھوکا پیاسا رکھا اور پھر بعد میں انتہائی بے دردی سے اس کا گلا گھونٹ کر قتل کردیا۔محمد کیف کی لاش کو مالیگاؤں پولس نے ملزم لکشمن سونونے کی نشاندہی پر چاندوڑ کی دور دراز پہاڑیوں سے حاصل کیا تھا اور پھر اس کا مالیگاؤں کے سول اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا جس میں یہ واضح ہوا کہ محمد کیف کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیاتھا۔












