نئی دہلی، (یواین آئی) پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ جمعہ کو مکمل ہو گیا اور دونوں ایوانوں کی کارروائی 9 مارچ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ بجٹ اجلاس کا آغاز 28 جنوری کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مشترکہ اجلاس میں صدر دروپدی مرمو کے خطاب سے ہوا تھا۔ اس کے بعد 29 جنوری کو اقتصادی سروے پیش کیا گیا اور یکم فروری کو لوک سبھا میں بجٹ پیش کیا گیا، جس کی نقل اسی دن راجیہ سبھا میں بھی رکھی گئی۔ پہلے مرحلے میں دونوں ایوانوں کی 13-13 نشستیں ہوئیں۔ لوک سبھا میں اس دوران اپوزیشن کی جانب سے کافی ہنگامہ ہوا، جس کی وجہ سے ایوان کا کام متاثر ہوا اور صدر کے خطبۂ افتتاحیہ پر شکریہ کی تحریک پر نہ کے برابر بحث ہوئی اور وزیراعظم کے جواب کے بغیر ہی اسے منظور کر لیا گیا۔ راجیہ سبھا میں صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک پر طویل بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا، جس پر وزیراعظم نریندر مودی نے جواب دیا۔ ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا۔ دونوں ایوانوں میں بجٹ پر عام بحث ہوئی، جس کا جواب وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے دیا۔ اس مرحلے میں صنعتی تعلقات ضابطہ (ترمیمی) بل، 2026 کو بھی منظوری دی گئی۔ دوسرے مرحلے کی کارروائی 9 مارچ کو شروع ہوگی، جس میں وزارتوں کے بجٹ مختص پر بحث ہوگی اور مالی بل، گرانٹ کی مانگیں اور متعلقہ مختص بل کی منظوری کے ساتھ بجٹ پاس کرنے کا عمل مکمل ہوگا۔ دونوں مرحلوں کے درمیان وقفے کے دوران پارلیمانی مستقل کمیٹیاں وزارتوں کے بجٹ پر غور کریں گی۔ بجٹ اجلاس 2 اپریل تک جاری رہے گا۔ دوسرے مرحلے میں کل 17 نشستیں مقرر ہیں۔ بجٹ اجلاس 28 جنوری کو شروع ہوا تھا اور یکم فروری کو مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا گیا تھا۔ اس اجلاس کا آغاز صدر دروپدی مرمو کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے ساتھ ہوا تھا۔ بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے شروع ہوگا اور 2 اپریل تک جاری رہے گا۔ ایک بار کے التوا کے بعد جب جمعہ دوپہر 12 بجے کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو پریزائیڈنگ افسر سندھیا رائے نے قانون سازی کے دستاویز ایوان کے سامنے رکھوائے۔ اس کے بعد انہوں نے کارروائی کو 9 مارچ صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔ اس سے پہلے آج کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن کے ارکان مرکزی وزیرِ پٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری کے استعفے کے مطالبے پر ہنگامہ کرنے لگے۔ سندھیا رائے نے سابق رکن بھگوان داس راٹھور کے انتقال کی اطلاع دی۔ راٹھور 21 جنوری 2026 کو اتراکھنڈ کے ہریدوار میں 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ چھٹی اور نویں لوک سبھا کے رکن رہے۔ ارکان نے خاموشی اختیار کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد وقفہ سوالات کے لیے کانگریس کے اجوَّل رمن سنگھ کا نام پکارا گیا، لیکن اپوزیشن کے ارکان ایوان کے وسط میں آ کر نعرے بازی کرنے لگے۔ وہ ہردیپ سنگھ پوری استعفیٰ دو” کے نعرے لگا رہے تھے۔ ہنگامے کے دوران مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جے پی نڈا نے کوڈین سیرپ سے ہوئی موت کے ایک ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں کوڈین سیرپ کے باعث موت واقع نہیں ہوئی ہے، اس لیے معاوضہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سندھیا رائے نے ارکان سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر جائیں اور وقفہ سوالات چلانے میں تعاون کریں، لیکن ہنگامہ جاری رہا۔ اس پر انہوں نے کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔ دریں اثنا لاکھوں زیر سماعت قیدیوں کو ووٹنگ کا حق دینے کے لیے جمعہ کو راجیہ سبھا میں ایک مانگ کی گئی۔ ایوان میں وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی لیڈر ایرنا کدادی نے کہا کہ ملک بھر کی جیلوں میں اس وقت لاکھوں زیر سماعت قیدی بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ جیل سے الیکشن لڑنے پر پابندی نہ ہونے کے باوجود زیر سماعت قیدیوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں امیر افراد جرمانہ ادا کر کے ضمانت حاصل کر سکتے ہیں، وہیں معمولی جرائم میں قید ہزاروں غریب زیر سماعت قیدی فنڈز کی کمی کی وجہ سے ضمانت کی رقم برداشت کرنے سے قاصر ہیں اور اس لیے انہیں ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ زیر سماعت قیدیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے عوامی نمائندگی ایکٹ میں ترمیم کرے۔ بی جے پی لیڈر بھگوت کراڈ نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر کے سہیادری پہاڑی سلسلے سے بہنے والے پانی کو سائنسی طور پر دریائے گوداوری کے طاس کی طرف موڑ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ریاست کے مراٹھواڑہ علاقے میں کسانوں کو پانی ملے گا اور زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوگی۔ بی جے پی کے متھیلیش کمار نے کہا کہ شاہجہاں پور، اترپردیش میں میڈیکل کالج کے آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (او پی ڈی) کی خدمات ضلع اسپتال سے چلائی جارہی ہیں، جس سے اسپتال کے کام متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ہسپتال کی تعمیر جلد شروع کی جائے۔












