لندن: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جاری جنگ کے پندرہویں روز برطانیہ نے ہزاروں دفاعی ڈرون بھیجنے اور نیوکلیئر سب میرین HMS Anson کو ہرمز کی تنگی کی طرف بھیجنے کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں انٹرسیپٹر ڈرونز (Octopus ڈرونز) بھیجنے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ خطے میں دفاعی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے، جیسا کہ برطانوی اخبار The Telegraph نے رپورٹ کیا۔مزید ذرائع نے بتایا کہ برطانیہ کی واحد حملہ آور نیوکلیئر سب میرین HMS Anson بھی ممکنہ طور پر ابنائے ہرمز کی طرف بھیجی جا سکتی ہے۔سابق وزیرِ دفاع بن والیس نے The Telegraph کو بتایا:اگر ہماری حملہ آور سب میرین HMS Anson خطے میں موجود ہو، تو آپ ایران کو توماہاک(Tomahawk) کروز میزائل کے ذریعے روکتے ہیں۔حکومتی ذرائع نے واضح نہیں کیا کہ کیا یہ سب میرین جو اس ہفتے کے شروع میں آسٹریلیا سے روانہ ہوئی تھی، واقعی مشرقِ وسطیٰ کے لیے جا رہی ہے یا نہیں۔یہ اقدام اس خطے میں سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے، جہاں لندن اپنے اور اپنے اتحادیوں کے اہم مفادات اور توانائی کی سٹریٹجک راہداریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔قبرص میں Royal Air Force کی Acrotiri بنیاد اور عراق کے اربیل میں برطانوی اسپیشل فورسز پر ڈرون حملوں نے ظاہر کیا ہے کہ ایران کے سستے اور بڑی تعداد میں تیار ہونے والے ڈرونز کے سامنے برطانوی فوجی اڈے کمزور ہیں۔برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے قبرص بھیجا جانے والا جنگی جہاز ’ڈراغون ‘ تیز رفتاری سے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد Royal Air Force کی Acrotiri بنیاد پر حالیہ حملے کے ردِعمل کے طور پر علاقے میں سکیورٹی بڑھانا ہے۔












