(عامر سلیم خان)
بی جے پی حکومتوں کی بلڈوزر پالیسی سیاسی مخالفین اوربالخصوص مسلمانوں پر عتاب بن کرآئی ہے۔ سپریم کورٹ سے ہائیکورٹ اور نچلی عدالتوں تک میں اس زعفرانی ایجنڈے کیخلاف سماعتیں ہورہی ہیں۔ لوگوں کے سر سے چھت چھیننے کے اس قبیح اور غیر قانونی عمل کیخلاف گوہاٹی ہائیکورٹ نے کل ایک اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’گھروں پر بلڈوزر چلانا کسی بھی فوجداری قانون کے دائرہ میں نہیں آتا ہے‘‘۔ ہائیکورٹ نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی فوجداری قانون کے تحت گھروں پر بلڈوزر چلانے کا کوئی نظم نہیں ہے ۔ عدالت نے اس سے آگے کا بھی تبصرہ کیا ہے کہ اگر کوئی تحقیقاتی ایجنسی کسی بھی انتہائی سنگین معاملہ کی جانچ کررہی ہو، اس صورت میں بھی گھروں پر بلڈوز چلانا قانونی دائرہ سے خارج ہے۔گوہاٹی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس آر ایم چھایانے مذکورہ ریمارکس آسام کے نوگاؤں ضلع میں آتشزدگی کے ایک معاملہ میں ملزم کے گھر کو مسمار کئے جانے کے معاملہ کا ازخود نوٹس لیا ہے اور مذکورہ تبصرہ کیاہے۔
بلڈوزر پالیسی انہیں ریاستوں میں چل رہی ہے جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں ہیں۔ حکومتوں کاکام ہوتا ہے کہ عوام کو سکون وراحت پہنچائیں، لیکن گھر کے ایک فرد کے جرم کی سزا بی جے پی نے یہ مقرر کررکھی ہے کہ اس کے اہل خانہ کے سارے افراد کے سر سے چھت چھین لی جائے۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ اس کے پیچھے کیا کیا سیاسی مقاصد کارفرما ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک کا قانون کسی حکومت کو ایسی کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے؟۔ اس کا سیدھا جواب ہے کہ قانون میں ایسا کوئی التزام نہیں اور یہی وجہ ہے کہ گوہاٹی ہائیکورٹ نے بلڈوزر پالیسی کیخلاف اہم تبصرہ کیا ہے۔ بلڈوزسے مکانات کو مسمار اور منہدم کرنے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے جسٹس چھایا نے کہا کہ ’’کسی گھر کی تلاشی لینے کیلئے اجازت لینی پڑتی ہے، کل کو تو آپ کسی چیز کیلئے میرا کورٹ روم بھی کھود ڈالیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جانچ کے نام پر اگر کسی کابھی گھر گرانے کی اجازت دی گئی تو کوئی بھی محفوظ نہیں بچے گا۔بلڈوزر پالیسی کیخلاف جمعیۃ علماء ہند نے بھی سپریم کورٹ میں معاملہ ڈالا ہوا ہے جس کی سماعت ہورہی ہے۔
اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کایہ عمل محض آسام کانہیں،بلکہ ملک کی جن ریاستوں میں بھی بی جے پی کااقتدار ہے ، ان میں ریاستی بلڈوزر ایجنڈا جاری ہے۔ یوپی ہو، دہلی یا مدھیہ پردیش ہو ہرجگہ ایسی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ حدتوہے کہ بیشتر مواقع پر اکثریتی طبقہ کے جرم کا خمیازہ بھی مسلمانوںکوبھگتنا پڑتا ہے کیونکہ ایسا بارہا ہوا ہے کہ گرچہ ہندو اور مسلم دونوں طبقات کی طرف سے فساد برپا کیا گیا ہو، مگر جرم صرف مسلمانوں پر جڑدیا جاتا ہے او ران کے گھروں کو مسمار کرنے کاعمل محض ایک دودن میں نافذ کردیا جاتا ہے۔ بی جے پی ریاستوںنے قانون اور عدالت سے بالا بالا یہ فارمولہ نکالا ہے تاکہ مسلمانوں کیخلاف بلڈوزر چلاکراپنی سیاسی بالادستی کیلئے اکثریتی طبقہ کو خوش کیا جائے۔بی جے پی نے کانگریس دور حکومت میں بار بار یہی مدعااٹھایا ہے کہ حکومت مسلمانوں کی منہ بھرائی اور انہیں خوش کرنے میں لگی ہے، جبکہ ایسا کچھ نہیں، لیکن دوسری طرف وہی بی جے پی آج اکثریتی طبقہ کو خوش کرنے کیلئے ایسے حربہ اپنارہی ہے جس میں نقصان ہر حال میں مسلمانوں کا ہوناہے۔ یعنی اگر مانا جائے تو یہ اکثریتی طبقے کوخوش کرنے کیلئے مسلمانوں کو اقتصادی طورپر کمزور کرنے کی پالیسی ہے۔
آسام میں محض مچھلی تاجر شفیق الاسلام کے گھر کو مسمار نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس سے قبل اس ریاست کی بی جے پی سرکار نے مدرسوں کو بھی مسمار کردیاہے۔ بی جے پی وزیراعلیٰ آئے دن اشتعال انگیزی کے ذریعہ مسلمانوں کو ذہنی تکلیف پہنچاتے رہتے ہیں۔بلڈوزر ایجنڈے کو اترپردیش، مدھیہ پردیش اور آسا م میں خوب بھنایا جارہا ہے۔ آسام میں مدرسوں پر بلڈوزرکے عمل درآمد کیلئے القاعدہ کو کھوج نکالا گیا ، جس کادائرہ کہا جاتاہے کہ محض گلف ہے ۔آسام میں مسئلہ یہ ہوا کہ مدارس کے کچھ اساتذہ کی گرفتاری کے بعد حکومت نے ایک ہفتہ کے دوران تین مدرسوںپر بلڈوزر چلا دیا، جبکہ بی جے پی سرکار کے ایک مخصوص طبقے کو ہراساں کئے جانیوالے قبیح عمل کی چوطرفہ مذمت کی گئی۔ مسلم تنظیمیں اور مسلم دانشوران بلڈوزر پالیسی کو دستور کی خلاف ورزی مان رہے ہیں، اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی آواز لگارہے ہیں۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ قانون کام کرے مگر بلڈوزر کی شکل میں نہیں۔ قصور وارسزا ضروردیجائے اور سخت سے سخت دی جائے مگر تعلیم گاہوں کو گرانا کسی بھی طور جائز نہیں ٹھہرایاجاسکتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کیخلاف بی جے پی حکومتوں کی طرف سے ایک غیر معلنہ قانون پر عمل کیا جارہا ہے، جو سنگھ پریوار کے ایجنڈے کاحصہ ہے۔ بی جے پی حکومتوں کے وزرائے اعلی کی زبانیں بھی اتنی غرور سے بھری ہوئی ہیں کہ ایک بڑی ریاست کے وزیراعلی یہ کہتے ہوئے اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں کہ ہم نے مجرموں کیخلاف کسی عدالتی کارروائی کے بغیر ’’ ٹھونک‘‘دینے کا بالکل جدید ترین حربہ نکالا ہے۔ مسلمانوں کیخلاف ایسے حربے کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ مین اسٹریم میڈیاکا ایک طبقہ ایسے مواقع پر چیخ وپکار مچادیتا ہے کہ اب تو حکومت ان قصورواروں کیخلاف بلڈوز پالیسی کو فوری نافذ کرنا چاہئے اورحد تو یہ ہے کہ حکومت اس تاک میں رہتی ہے کہ میڈیا میں ایسی چیزیں آئیں اور وہ فی الفور انہدامی کارروائی پر عمل کرے۔جب اکثریتی طبقے کی طر ف سے کوئی زیادتی ہوتی ہے تو اسی گودی میڈیا کو’سانپ سونگھ‘ جاتا ہے۔اسے وہ واقعات نظر ہی نہیں آتے ، یہی وجہ ہے کہ اسے گالیاں ملتی ہیں، لیکن ان کی چمڑی اتنی موٹی اور دبیز ہوچکی ہے کہ ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جس میڈیا کا کام غلط کاموں کو اجاگر کرنا اور حکومت کی غلط پالیسیوں پر متنبہ کرناتھا ، اس نے آج ایک طبقے کیخلاف اپنی دکان چلانے کا کام شروع کردیا ہے۔
آیئے اب دیکھ لیں کہ ہمارے ملک کا قانون بلڈوزر پالیسی کے تعلق سے کیا کچھ کہتا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ تشدد برپا کرنے کے الزام میں مکانات کو منہدم کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ ایسے سنگین عمل سے گزرنے سے قبل مبینہ مجرم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دینے کا التزام ہے اور اگر قانون اجازت بھی دیدے تو گھر کی مسماری سے قبل کم ازکم پندرہ دنوں قبل نوٹس بھیجا جانا چاہئے۔ اگر واقعی ایسا کوئی وقوعہ ہوا ہے تو پولیس اور انتظامیہ کا کام ہے کہ مقدمات درج کرکے عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔ عدالتیں تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد سزاؤں کے تعلق سے فیصلے سناسکتی ہیں لیکن بی جے پی حکومتیں اپنے منصوبوںپر عمل کرنے کیلئے اب عدالتی عمل کو بھی خاطر میں لانے تیار نہیں ہیں۔ اس طرح سے عدالتوں کی اہمیت اور ان کی بالادستی پر بھی سوال پیدا کئے جا رہے ہیں۔ ملزمین کو سزائیں دینے کا اختیار صرف عدالتوں کو ہے اور یہ اختیار کسی اور اتھاریٹی کو نہیںدیا جاسکتا۔ جہاں ایک طرف سرکاروں کو اس سلسلے میں ایک بار پھر اپنی پالیسی پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے وہیں ذمہ دار تنظیموں اور شہریوں کو اس سلسلہ میںعدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاناچاہئے تاکہ سرکار کے عتاب سے عوام کو بچایا جاسکے۔












