لبنان :اسرائیل اور ایرانی حمایت یافتہ لبنانی حزب اللہ گروپ کے درمیان تنازع میں تیزی سے اضافہ کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے اپنے شہریوں کو لبنان سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔کچھ لوگ خود لبنان سے بھاگ رہے ہیں۔ انخلا کی کارروائیوں یا منصوبوں کی تفصیلات سامنے لائی جارہی ہیں۔
حکام نے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کے لیے طیاروں میں سیکڑوں نشستیں فراہم کیں اور ہنگامی منصوبے کے تحت ایک فوجی طیارہ قبرص بھیجا۔ ہنگامی منصوبے میں سمندر کے ذریعے انخلا بھی شامل ہوسکتا ہے۔ آسٹریلوی حکام نے لبنان میں اپنے اندازے کے مطابق 15,000 شہریوں پر زور دیا کہ وہ بذریعہ طیارہ نکل جائیں کیونکہ بیروت کا ایئرپورٹ کھلا ہے۔بیلجیئم کی خبر رساں ایجنسی (بیلگا) نے اطلاع دی ہے کہ وزارت خارجہ نے شہریوں کو جلد از جلد لبنان چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ برازیل نے لبنان چھوڑنے کے خواہشمند برازیلیوں کو لے جانے کے لیے ایئر فورس کا ایک ایئربس A330 بھیجا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ برازیل کے 3000 افراد ایسے ہیں جو اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں۔ 220 افراد کو لیکر طیارہ ہفتے میں دو پروازیں کرے گا۔چینی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز کہا کہ 200 سے زائد چینی شہریوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
کینیڈا سے ملنے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے شہریوں کو سمندری راستے سے نکالنے میں آسٹریلیا کے ساتھ تعاون کرے گا۔ ٹورنٹو سٹار اخبار نے اطلاع دی ہے کہ اس منصوبے میں ایک تجارتی بحری جہاز کے ساتھ معاہدہ کرنا شامل ہے جس میں روزانہ 1,000 افراد کو لے جایا جائے گا۔
قبرص نے جمعرات کو اپنے 38 شہریوں کو یونان کے فراہم کردہ طیارے سے بیروت سے نکالا۔ لبنان میں قبرص کے شہریوں کی تعداد کا تخمینہ ہزار سے پندرہ سو ہے۔
ڈنمارک نے اپنے شہریوں سے جلد از جلد لبنان چھوڑنے کی اپیل کی لیکن کہا کہ اس نے ابھی تک انخلاء شروع نہیں کیا ہے۔ تجارتی پروازیں ابھی بھی لبنان سے جا رہی ہیں۔ ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا لبنانی مڈل ایسٹ ایئرلائنز ملک سے باہر جانے والی پروازوں کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے بیروت سے یورپ کے مقامات کے لیے اضافی پروازیں چلائے گی۔












